ا لنقبہ۔۔۔عائدون یا فلسطین
19 مئی 2018 2018-05-19

۱۵ مئی کا دن تاریخِ فلسطین میں انمٹ ہزیمت کا دن ہے ۔ جب ترک گورنر جمال پاشا نے ترکوں کو یر وشلم خالی کرنے کا حکم دیا اور میئر سلیم الحسینی نے سفید جھنڈا ہاتھوں میں پکڑا اور جیفہ گیٹ سے باہر آکر برطانوی سکاؤٹوں کو شہر کی چابیاں پیش کیں ۔ جنرل ایڈ منڈ ایلن بی گاڑی سے اترا تو اسے شہر کی گھنٹیوں نے خوش آمدید کہا۔ دوسری جانب برطانوی لائیڈ جارج پارلیمنٹ میں چیخ رہا تھا۔ آج ہم نے مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا بدلہ لے لیا اور دمشق میں فرانسیسی جرنل گورد ، سلطان صلاح الدین کی قبر پر جوتا پھینکتے ہوئے کہتا تھا ۔صلادین ہم پھر آگئے ،ہم نے ہلالی پرچم سرنگوں کر دیا ہے ۔

ہر سال فلسطین میں 15 مئی کو اس دن کی یاد میں یوم النقبہ منایا جاتا ہے ۔ اس دفعہ نقبہ کا جلوس فلسطینی لیڈروں کی قیادت میں نکلا تو ہمیشہ کی طرح اس کے جلو میں غزہ کے محصور شہریوں نے یروشلم کی چابی ( بہت بڑے سائز کی علامتی چابی) اٹھا رکھی تھی، اور ان کے ہونٹوں پر عائدون یا فلسطین کا نعرہ تھا اور وہ جوق درجوق آگے بڑھ رہے تھے ، ادھر یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی افتتاحی تقریب دھوم دھام سے منائی جا رہی تھی ۔ روشنیوں کی چکا چوند میں، دنیا بھر کا میڈیا اس تقریب کو رپورٹ کر رہا تھا ، ہیبرو میں نصاریٰ و یہود کی سازشوں کا نیا عہد نامہ ترتیب پا رہا تھا ، قہقہے ، سفارتی مسکراہٹیں اور میل ملاپ ، دوستی کے نئے پیمان اور فلطینیوں کی نسل کشی کے نئے منصوبے ، یہودی ربائی مقدس تورہ کے کلمات دہرا رہا تھا اور تالیوں کی گونج میں، دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا جنونی سر براہ کہہ رہا تھا ، یہ فلسطینی انسان نہیں وحشی جانور ہیں، ان کا سر کچلنا واجب ہے ۔

سو اسی فتوے کے تحت غزہ سے نکلنے والے یوم النقبہ کے پر امن جلوس پر بمباری ہوئی ، آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور گولیاں برسائی گئیں۔ غزہ ،میں صرف ایک دن میں ہزاروں فلسطینی زخمی اور ساٹھ سے زیادہ شہید ہو گئے ، ان شہیدوں میں آٹھ ماہ کی بچی لیلیٰ انور بھی شامل تھی، جس کا لہو میں بھیگا ہوا ننھا لاشہ دنیا کے منصفوں سے سوال کرتا تھا ، آخر کب تک یہ استحصالی ٹولہ ہم پر ظلم کرتا رہے گا ، اور ہم مرتے رہیں گے؟فلسطینیوں کے لہو کی ارزانی کب تک ؟ ننھی لیلیٰ کے لاشے سے لپٹ لپٹ کر اس کے پیارے رو رہے تھے ، اور غزہ ، راملہ ، بیت اللحم اور حیفہ کے ہسپتالوں میں جگہ تنگ پڑ گئی تھی، زخمی فرش پر پڑے کراہ رہے تھے اور یروشلم میں امیریکی سفارت خانے کی افتتاحی تقریب میں نسلی برتری، رجعت پسندی، قوم پرستی، اور فاشزم کے پرچارک اکٹھے ہو کر اپنی نئی جیت کا جشن منا رہے تھے ۔ یہ فلسطین ہے ۔ لیلیٰ خالد ، یاسر عرفات محمود درویش، نزار قبانی اور ستر برسوں سے گھروں سے نکالے جانے والوں کا فلسطین ۔

19 49 ء میں اسرائیل قائم ہو ا تو صہیونیوں نے اسے اپنے دو ہزار سال کے خواب کی تکمیل کہا۔ اور فلطینیوں نے اسے قیامت سے تعبیر کیا ۔یہ قیامت عربوں کی بے عملی ، عیاشی ، آپسی لڑائیوں اور چپقلشوں نے فلسطین کا مقدر بنا دی۔

اسرائیل دن بدن مضبوط ہوتا گیا اور عرب کم زور۔ اس کم زوری میں فلسطینی اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہے ۔ یاسر عرفات، محمود عباس اور ان کے جانباز،

صابرہ ، شتیلہ اور غزہ کی پٹی میں محصور ہو کر بھی اس مطالبے سے کبھی دست بردار نہ ہو سکے کہ القدس ان کا قبلہ اول ہے ۔ اور وہ اس کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے میں تامل نہ کریں گے ۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کے ابتدائی بیس برسوں میں یروشلم دوحصوں میں تقسیم تھا ۔مشرقی اور مغربی حصوں میں ۔ مشرقی حصہ اسرائیل کے پاس اور مغربی حصے کی عملداری اردن کے ذمے تھی۔ یہ وہ حصہ تھا جس میں مسجدِ اقصی ٰ، ہیکلِ سلیمانی شامل تھے، درمیان میں پرانے زمانے کی ایک دیوار تھی ۔ اسرائیل کے نقشے پر یہ تقسیم ایک سرخ لکیر کی شکل میں موجود تھی ۔ مگر 67 میں چھے روزہ عرب اسرائیل لڑائی نے ہزیمت کی یہ لکیر بھی مٹا دی جس کے بعد یروشلم پورے کا پورا صہیونیوں کے قبضے میں آگیا ۔ اب جرمِ ضعیفی کی سزا یوں شروع ہوئی کہ رکنے میں ہی نہ آئی ، اردن حصہ کے گرد دیوار کھڑی کر کے اسرا ئیل نے فلطینیوں کو مغربی کنارے میں دھکیل دیا اور یروشلم کو اسرائیل کا دار الخلافہ بنانے کی تیاری شروع کر دی ۔

خطے میں بھڑکی ہوئی آگ اور عربوں کے آپسی نفاق کو ہوا دے کر یہودی اس دیرینہ خواب کی تعبیر حاصل کر چکے ۔ جسے وہ دو ہزار سال سے پلکوں پر اٹھائے نسل در نسل بھٹک رہے تھے ۔ جبکہ تاریخی ہزیمت نے فلسظینیوں کو محض مغربی حصے کو فلسطینی ، ریاست کا دار الخلافہ بنانے کے خواب تک محدود کر دیا۔ وہ ہرسال نکلتے ہیں یروشلم کی علامتی چابی پکڑ کر اور ستر برس پرانا عہد دہراتے ہیں ۔ عائدون یا فلسطین ۔ ہم لوٹیں گے اے فلسطین ۔ اپنے گھروں کو ، اپنی زمینوں کو ، اپنے شہروں گاؤں اور قصبوں کو جہاں سے ہم ستر برس پہلے زبردستی نکالے گئے ۔

یہ گھروں کو واپس جانے کی تڑپ کیا ہے ، اس کی صرف ایک مثال سے وضاحت کروں گی ۔ آزادی ءِ فلسطین کی مجاہدہ لیلیٰ خالد جو حیفہ کی رہنے والی تھی اور وہاں سے سات برس کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ نکالی گئی ، اس نے جب روم سے تل ابیب جانے والے جیٹ کو ہائی جیک کیا تو راستے میں ، پائلٹ سے کہا ، جہاز کو حیفہ کے اوپر سے گزارنا ، میں ایک دفعہ اپنے گھر کو دیکھنا چاہتی ہوں ۔

سارے فلسطینی یہی چاہتے ہیں ، مگر جبر کا شکنجہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ امریکی سفارت خانے کے اعلان کے بعد فلسطینیوں پر صہیونیت کے ظلم کا اک نیا دور شروع ہو گیا ہے ۔ جس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ پندرہ مئی کے یوم النقبہ پر صہیونی کارروائیوں کے خلاف دنیا بھر کے ملکوں میں مظاہرے ہوئے ، جن میں امریکہ بھی شامل ہے ، مسلمان ملکوں میں ترکی وہ واحد ملک ہے جو اس وقت مسلمانوں کی قیادت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے ،ترکی میں او آئی سی کا احتجاجی اجلاس منعقد ہوا ، جس مین اٹھارہ اسلامی ملکوں کے سربراہ اوراڑتالیس اسلامی ملکوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے، ترک صدر نے فلسطینیوں کے قتلِ عام کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا، اگر ہم قبلۂ اول کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ، خانہ کعبہ کی کیسے کریں گے؟عالمِ اسلام کو اب متحد ہو کر صہیونیت کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی، جس کا ظلم روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ، امریکی سفارت خا نے کا یروشلم میں قیام اور غزہ کی پٹی کے محصورین پر وحشیانہ بمباری یہ ظاہر کرتی ہے ، کہ اگر اب بھی ظلم کے ہاتھ نہ روکے گئے تو آنے والے وقت میں یہ اتنا دراز ہو جائے گا کہ اسے روکنا ممکن نہ رہے گا ، پانچ لاکھ ترکوں نے استنبول میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ریلی نکالی اور فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی کا مظاہرہ نہایت بھر پور انداز میں کیا ، مگر دیگر عرب ممالک جن میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی ملک اور سعودی عرب بھی شامل ہے ، وہاں اس ضمن میں ایک جامد خاموشی ہے ، خطے کی علاقائی سیاست، فرقہ واریت ، قبائلیت، اور اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں مشغول ، یہ تمام عرب ممالک اس وقت آپسی لڑائیوں میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں ، قبلۂ اول اور صہیونیت کے پنجوں میں پھنسے فلسطینی بھول کر بھی یاد نہیں آتے، جن کے شہری حقوق ، آزادیاں اور وطن چھین کر بھی قابض اسرائیلی انہیں معاف کرنے کو تیار نہیں ۔

ٹینکوں کے سامنے پتھر اور گولیوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے یہ غزہ کے محصورین، اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں ، شہیدوں کے لاشے اٹھاتے ہیں ،زخمیوں کی چیخ و پکار اور کراہیں سنتے ہیں ، مگر ایک نعرہِٗ مستانہ ، عائدون یا فلسطین ۔

ہم لوٹیں گے اے فلسطین ، اس شہر میں جس کے چپے چپے سے ہمیں پیار ہے ۔

ہم لوٹیں گے اے فلسطین اس شہر میں جہاں ہم ممنوع قرار دے دیئے گئے ہیں۔

وہ زخمی غم زدہ شہر، وہ گولیوں سے چھلنی شہر، سہما ہوا پاش پاش شہر

ریزہ ریزہ کانچ اور خو ن مین ڈوبا ہوا شہر ۔ رات کے سکون سے محروم

اور دن کے اجالے کا منتظر وہ شہر جو شہیدوں کی آماجگاہ ہے ۔

ہم لوٹیں گے اے فلسطین ۔

ہر سال پندرہ مئی کو یہ عہد دہرایا جاتا ہے ، اسرائیلی جارحیت جسے پاش پاش کرنے کے لئے وحشیانہ جارحیت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔ یہ وحشی طاقت کے مظاہرے اپنی شدت میں اب بڑھتے ہی جا رہے ہیں ، مظلوم فلسطینیوں کی آہیں نہ تو ان سفید فام قوموں کے کانوں تک پہنچ سکیں جو خود کو انسانیت کا علمبردار کہتی ہیں اور نہ ہی ، منبر و محراب والے انہیں سننے کو تیار ہیں کہ انہیں اپنے اقتدار اور تاج و تخت بچانے ہیں، انہیں قبلۂ اول سے کیا ؟

ان خود غرض اور بے حس رویوں نے آج مسلمانوں کو عددی برتری کے باوجود دیوار سے لگا رکھا ہے ، دیوار سے لگنے کا یہ عمل روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ، دمشق، شام ، عراق، لیبیا، یمن ، افغانستان، کشمیر اور فلسطین ، اس کی ادنیٰ مثال ہیں ، اگر اب بھی امتِ مسلمہ نے ذاتی مفادات سے نکل کر اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات کا مظاہرہ نہ کیا او رباہم متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی کوشش نہ کی تو کل ہو سکتا ہے انہیں بھی ایسی ہی ہزیمتوں کا سامنا کرنا پڑ جائے جن سے اہلِ فلسطین ستر برسوں سے گزر رہے ہیں۔

کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے

تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں

جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سے

زمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیں


ای پیپر