’’سیاہ ۔سی‘‘ کہانیاں۔۔۔
19 مئی 2018 2018-05-19

دوستو۔۔۔آج سنڈے ہے، اورچھٹی والے دن ہماری کوشش ہوتی ہے کہ آپ کے لئے کوئی ایسا کالم لایا کریں جس سے آپ کا موڈ بھی خوشگوار ہوجائے اور آپ چھٹی والے دن بور بھی نہ ہوں۔اس لئے آج ہم نے سوچا کہ آپ سے کچھ ’’ سیاہ سی ‘‘ باتیں کریں لیکن یہ باتیں ’’سیاسی‘‘ ہرگز نہیں ہوں گی، لیکن اگر آپ نے اسے سیاسی سمجھنے کی کوشش کی تو پھر اپنا موڈ خود ہی آف کریں گے، ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ اگر کسی کا موڈ بار بار آن، آف ہوتو بہت ممکن ہے کہ اس کے موڈ کا فیوز بھی اڑ سکتا ہے۔۔۔ اسی لئے گزارش ہے کہ اسے ’’لائٹر موڈ‘‘ میں لیجئے گا۔۔۔اور ویسے بھی روزے میں برداشت کا جتنا مظاہرہ کریں گے اتنا ہی ثواب اور اجر پائیں گے۔۔۔ورنہ ہمارا کیا ہے۔۔۔ہم نے سدھرنا تو ہے نہیں، اگلی واری فیر ۔۔۔لکھنا ہی ہے، اور کوئی کام آتا بھی نہیں۔۔۔

ہمارے محترم اور واجب الاحترام وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صاحب فرماتے ہیں کہ ۔۔۔خواجہ آصف نے 30 سال سیاست کی ،ایک اقامے پر تاحیات نا اہل کر دیا۔۔۔اس بیان کو زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔۔۔اڈیالہ جیل میں بند ایک قیدی نے احتجاج کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ۔۔۔ میں نے 30 سال شرافت سے گزارے ،صرف ایک قتل پر مجھ سے میری آزادی چھین لی گئی۔۔۔سانگلہ سے چک جھمرہ روزانہ تین چکر لگانے والے ڈرائیورشیدے کا کہنا ہے کہ۔۔۔ میں تیس سال سے ڈرائیونگ کررہا ہوں، چھوٹا سا سگنل توڑنے پر کوئی میرا کیسے چالان کرسکتا ہے؟؟۔

کراچی اور پنجاب یونیورسٹی کے طلبا کا کہنا ہے کہ ۔۔۔ ہم پندرہ سال سے مسلسل پاس ہورہے ہیں، صرف ایک پیپر میں پاس نہ ہونے پر یونیورسٹی ہمیں کیسے فیل کرسکتی ہے۔۔۔طلاق یافتہ خواتین کا کہنا ہے کہ، تیس سال تک اپنے شوہروں سے وفاداری کی، ان کے ہر حکم کی بجاآوری کی، کبھی کسی معاملے میں چُوں تک نہیں کی ، صرف ایک بار کی بے وفائی پر وہ کیسے طلاق دے سکتا ہے؟۔۔۔ معروف ہیرو کا کہنا ہے کہ ۔۔۔ تیس سال تک کئی ہٹ فلمیں دیں، پھر میری کوئی ایک فلم ناکام ہونے پر مجھے فلاپ ہیروکا خطاب کیوں دیاجارہا ہے۔۔۔ایک مریض کا کہنا ہے۔۔۔ تیس سال تک صحت مند رہا، اچانک مجھے شوگر کیسے ہوسکتی ہے؟؟ یعنی بالکل ایسی بات ہوگئی جیسے۔۔۔ایک عورت گھر سے بھاگ گئی اس سے پوچھا گیا کیوں بھاگی وہ آگے سے کہتی ہے۔۔۔فلانی بھی بھاگی تھی، فلانی بھی بھاگی تھی ، نکڑ والے گھر کی بھی بھاگی تھی ، پچھلی گلی والی بھی بھاگی تھی،میں بھاگ گئی تو کیا ہوا۔۔۔؟؟

ہمارے پیارے دوست نے کسی کو مشورہ دیا کہ ، بیوی کو کبھی بحث کرکے جیتنے کی کوشش نہ کرو، بلکہ اسے اپنی مسکراہٹ سے شکست دو۔۔۔ وہ صاحب گھر گئے اور ہمارے پیارے دوست کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کوششیں شروع کردیں۔۔۔بیگم صاحبہ نے فرما یا ،آج کل بہت ہنس رہے ہو، لگتا ہے تمہارا بھوت اتارنا پڑے گا۔۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔۔دنیا میں سب سے خطرناک سمگلنگ میں ہیروئین تیسرے نمبر پر، کوکین کا دوسرا نمبر ہے۔۔۔جب کہ آج بھی جس چیز کی سمگلنگ سب سے زیادہ خطرناک ہے اور اول درجے کی رِسکی سمگلنگ ہے وہ جوائنٹ فیملی میں خاص اپنی اہلیہ کے لیے کوئی کھانے کی چیز صحیح سلامت اپنے کمرے تک باعزت طریقے سے پہنچانا ہے،تاریخ کہتی ہے کہ اس منزل کے راہی بہت کم سرخرو ٹھہرے ہیں۔۔۔ہمارے پیارے دوست مزید فرماتے ہیں۔۔۔جس شخص کو یہ نہیں پتا کہ اس کے اثاثے کیسے بنے، اسے یہ پتا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی پاکستان نے کرائی۔۔۔جسے یہ نہیں پتا چل سکا کہ اسے کیوں نکالا۔۔۔ اسے اچھی طرح علم ہے کہ بھارت میں دہشت گردی پاکستان نے کرائی۔۔۔جسے یہ نہیں پتا کہ لندن کے فلیٹس کہاں سے اور کیسے بنے۔۔۔اسے یہ پتا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی پاکستان نے کرائی۔۔۔جسے یہ نہیں پتا اس کے بیٹے نے اسے ملازم رکھا ہوا، اسے یہ پتا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی پاکستان نے کرائی۔۔۔جسے یہ پتا نہیں کہ آلو کس حساب سے فروخت ہورہے ہیں، اسے یہ پتا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی پاکستان نے کرائی۔۔۔

اب ایک بہت پرانی مگرایک چھوٹی سی چیونٹی کی کہانی سنیں ، جو ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی اور فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔۔۔چیونٹی بہت محنت سے کام کرتی تھی، اس کی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔۔۔جنگل کا بادشاہ’’ شیر‘‘ چیونٹی کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔۔۔شیر نے سوچا اگر چیونٹی بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسرکی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔۔۔اس لئے شیر نے ایک لال بیگ کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، چیونٹی پر آفیسر کے طورپر تعینات کر دیا۔۔۔لال بیگ نے چیونٹی پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پراس کے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ لگا دیا۔۔۔لال بیگ کو ایک اور مددگار کی ضرورت تھی جو کہ رپورٹس کو ٹائپ کرے، اس لئے لال بیگ نے اس کام کے لئے اور ٹیلیفونز کے جواب دینے نیز فائلوں کو آرکائیوز کرنے کے لئے ایک مکڑی کو تعینات کر دیا۔۔۔شیر، لال بیگ کے کام سے خوش تھا۔۔۔شیر نے اس سے کہا کہ ایک گراف بنائے جس میں چیونٹی کی بڑھتی ہوئی پروڈکشن کی شرح درج ہو، جس کو میں جنگل کے باقی دوستوں کے سامنے پیش کروں۔۔۔لال بیگ نے اس کام کے لئے ایک عدد کمپیوٹر اور پرنٹر خریدا، اور اس نے اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لئے ایک عدد مکھی کو بھی ہائر کر لیا۔۔۔چیونٹی جو کہ کبھی بہت پر سکون ہو کر اپنا کام کرتی تھی، اب آئے روز کی میٹنگز اور کاغذی کارروائی میں اس کا ٹائم ضائع ہونے لگا ، جس سے اس کے اندر بیزاری پیدا ہونے لگی۔۔۔شیر اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک داخلی آفیسر تعینات کرے، جو اس جگہ نظارت کرے، جہاں چیونٹی کام کرتی تھی اور یہ پوسٹ ایک ٹڈی کو دے دی گئی۔۔۔ٹڈی نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے کام کرنے کی جگہ کے لئے ایک کارپٹ اور ایک کرسی خریدی۔۔۔اسی طرح ٹڈی کو اپنے کام کے لیے ایک کمپیوٹر اور ہیلپر کی ضرورت تھی جو کہ اس نے سابق جاب والی جگہ سے منگوالیے تاکہ بجٹ کی ترتیب اور مینجمنٹ کا کام آسانی سے انجام دے سکے۔۔۔ جس ماحول میں چیونٹی کام کر رہی تھی، اب جذبات سے خالی ہوچکا تھا،اب اس میں کوئی جوش و خروش باقی نہیں رہا تھا۔ اب کوئی بھی ہنسی خوشی نہیں رہتا تھا بلکہ سب غمگین تھے۔۔۔ جب یہ رپورٹس شیر تک پہنچیں کہ چیونٹی کی پیداوار میں پہلے کی نسبت خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔۔۔تو شیر نے ایک اچھی پرسنیلٹی والے الو کو اپنا مشیر بنایا اور اس کو حکم دیا کہ وہ پروڈکشن میں کمی کی وجوہات کا پتا لگائے ، اور ان وجوہات کا کوئی حل بتائے۔۔۔الو نے اس کام میں تین مہینے لگائے اور کئی جلدوں پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی، اور اس نتیجے پر پہنچا کہ، مشکلات کی اصل وجہ، ورکرز کی زیادہ تعداد ہے۔۔۔لہٰذا ورکرز کی تعداد کو کم کیا جائے۔۔۔اس رپورٹ کی روشنی میں شیر نے حکم دیا کہ چیونٹی کو نوکری سے نکال دیا جائے، کیونکہ چیونٹی میں اب کام کرنے کا جذبہ باقی نہیں رہا۔۔۔

ایک میراثی ایک بچہ اوربیوہ چھوڑ کر فوت ہوگیا،بیوہ نے درزی سے شادی کرلی،وہ بھی دوچارسال میں گزرگیا،تواس نے ایک سید سے شادی کرلی، بچے سے کسی نے پوچھا، تم کون ہو؟ مطلب تمہاری ذات کیا ہے؟؟بچے نے جواب دیا۔۔۔پہلے تو تھے میراثی، پھر بن گئے درزی، اب بنے ہیں سید، آگے اماں کی مرضی۔۔۔چلتے چلتے، لیجنڈمزاح نگار مشتاق یوسفی کے ایک جملے پہ اختتام کرتے ہیں،یوسفی صاحب فرماتے ہیں، دکھ اس بات کا نہیں کہ لوگ خونیں پیچش کا علاج تعویز گنڈے سے کرتے ہیں، رونا اس کا ہے کہ وہ ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔اس پرسیاست کے حوالے سے یوں لگتا ہے کہ ، دکھ اس بات کا نہیں کہ تیس تیس سال تک باریاں لینے والے عوام کو انہی نعروں سے دوبارہ بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں،رونا اس کا ہے کہ عوام ان کی باتوں میں آبھی جاتے ہیں۔۔۔


ای پیپر