دنیا پاکستان کا بیانیہ کیوں نہیں مانتی
19 مئی 2018 2018-05-19

اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں بدقسمتی سے کوئی ایسا نظام یا ادارہ نہیں جس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کھل کر بحث مباحثہ کیا جا سکے اور متفقہ خارجہ پالیسی بنائی جا سکے۔میں اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کے مجھے اس بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم جو دوسرے ممالک سے معاہدے کرتے ہیں ان کی توثیق ratificationکا کیا طریق کار ہے۔ان حالات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی افراد کے تابع رہی ہے ہر حکمران نے اپنی مرضی کی خارجہ پالیسی بنا لی،یہ بات خاص کر فوجی حکمرانوں کے متعلق بہت درست ہے۔

آئیے ذرا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اجمالاً جائزہ لیں۔

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کے رہنما امریکہ کے دلدادہ تھے یہی وجہ ہے کہ ہم نے سرد جنگ میں امریکی کیمپ میں جانا پسند کیا اور کمیونسٹ دشمن امریکی دفاعی معاہدوں کا حصہ بن گئے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک وزیر خارجہ نے کسی سے اجازت لئے بغیر امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کر دیے۔امریکہ دوست لابی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان ایک کمزور ریاست تھی لہٰذا اس کو اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے امریکی امداد اور تحفظ کی ضرورت تھی۔

امریکی حکومت کے گو سویلین پاکستانی حکومتوں کے ساتھ بھی بہت گہرے تعلقات تھے مگر انہوں نے فوجیوں کے ساتھ براہ رراست تعلقات قائم کر لئے تھے بلکہ ہمارے سینئر فوجی افسران امریکی فوجی اکیڈمیوں میں تربیت بھی حاصل کرتے تھے۔(مرحوم صحافی سلیم شہزاد کی کتاب میں جنرل کیانی کے آرمی چیف بننے کا قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے) فیلڈ مارشل جنرل ایوب تو امریکہ اور اس کے نظام سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد امریکی طرز کا صدارتی نظام قائم کر دیا اور صدر اور قومی،صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کے لئے ایک کالج بنا دیا۔امریکہ کو بڈھ بیڑ کے مقام پر ایک ہوائی اڈا دے دیا اور پاکستان کے ہر محکمہ میں چند امریکی مشیر ہوتے تھے۔ 1965ء میں پاکستان نے بھارت کے زیر قبضہ علاقوں کو آزادی دلانے کے لئے وہاں گوریلے بھیج دیئے جس کے جواب میں ہندوستان نے لاہور پر حملہ کردیا۔امریکہ پاکستا ن اور ہندوستا ن کو اسلحہ کی سپلائی بند کردی۔

پاکستان نے اس پر احتجاج کیا اور امریکہ کو یاد کروایا کہ آپ کے ہمارے ساتھ فوجی دفاعی معاہدے ہیں جس کے تحت امریکہ کو پاکستان کی مدد کرنی چاہئے تھی امریکہ نے جواباً کہا کہ آپ کے ساتھ معاہدہ کمیونسٹ حملہ کی صورت میں مدد کرنے کا تھا۔بہرحال تعلقات میں کچھ دراڈ پڑ گئی اور جنرل ایوب نے friends not mastersکتاب لکھ دی۔ جنرل ایوب کا تختہ اس کے سپہ سالار جنرل یحیےٰ خان نے الٹ دیا۔ پاکستان نے امریکہ اور چین کو قریب لانے میں بہت مدد کی۔ امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر خفیہ طور پر اسلام آباد کے ہوائی اڈہ سے اڑ کر چین گیا۔ 1970ء کے انتخابات کے نتائج کو جنرل یحیےٰ خان نے ماننے سے انکار کردیا اور مشرقی پاکستا ن پر فوج کشی کر دی۔ہم ساتویں امریکی بحری بیڑے کا انتظار کرتے رہے۔ اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔

موجودہ پاکستان میں اقتدار فوج میں بغاوت کی وجہ سے بھٹو کو دینا پڑا۔کیونکہ اب ہمارے لئے امریکہ کے سیٹو سنٹو بیکار ہو گئے تھے لہٰذا ہم ان سے باہر نکل آئے۔ 1977ء میں جنرل ضیاء نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ادھر افغانستان میں کمیونسٹ یا ثور انقلاب آگیا۔امریکہ نے سوویت یونین سے ویتنام کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے پاکستان کو بے پناہ فوجی اور مالی امداد دی۔اسلام آباد جارحانہ قبضے کی قوتوں کا ہیڈ کواٹر بن گیا اور دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں نے یہاں سے اوپریٹ کرنا شروع کردیا۔ دنیا بھر سے اسلامی جہادی پاکستان سے افغانستان جانا شروع ہو گئے۔(ڈیورنڈ لائن عملی طور پر ختم ہو گئی)۔ روس افغانستان سے واپس چلا گیا مگر پاکستان میں آئے ہوئے ہمارے خصوصی دوست پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بس گئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ 9/11کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا اور پاکستان نے اپنے سارے ہوائی اڈے امریکہ کے حوالے کردئیے۔افغانی طالبان نے پاکستان میں پناہ لے لی اور افعانستان میں امریکی قبضہ کے خلاف ’جہاد‘ شروع کردیا۔ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا واقع بھی ہوا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی زوروں پر ہے ۔افغانستان میں آئے دن طالبان حملے کرتے ہیں۔ افغانستان پاکستان پر الزام لگاتا ہے اور جو دہشت گردی پاکستان میں ہوتی ہے اس کا الزام پاکستا ن افغانستان اور ہندوستان پر لگاتا ہے۔ یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں بھی دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اب ذرا ایسے عناصر پر روشنی ڈالیں جنہیں ’غیر ریاستی فنکار‘ یا non state actorsکہا جاتا ہے۔

جب پاکستانی فوج کے پہلے انگریز سربراہ نے بانی پاکستان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تو پاکستان نے جنرل اکبر کی سربراہی میں قبائلی لشکر تیار کئے اور کشمیر پر حملہ کر دیا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں وہ انہوں نے ہی آزاد کروایا۔ پھر پاکستان نے 1965ء میں ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر میں گوریلہ بھیجے۔ مشرقی پاکستان میں فوج کشی کے دوران فوج نے الشمس اور البدر بنائی۔افعان جنگ میں امریکی مدد سے جنرل ضیاء کا خیال تھا کہ امریکہ اس کے ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے مدد کرے گا ۔ پاکستان نے سکھوں کی ہر طرح سے مدد کرنی شروع کردی۔جب تک امریکہ نے افغانستان میں روسی فوجوں کا مقابلہ کیا وہ ہماری طرف سے ہندوستان میں ہر حرکت کو برداشت کرتا رہا مگر جیسے ہی وہ افغانستان میں قابض ہو گیا اس نے پاکستان پر ہندوستان کی تنقید کا ساتھ دینا شروع کردیا۔

پہلے پہل تو کشمیر میں صرف جماعت اسلامی کے کارکن جہاد کرنے جاتے تھے مگر بعد میں فوج نے اور گروپوں کی سرپرستی بھی شروع کردی۔ایک زمانے میں شیخ رشید بھی کشمیری مجاہدین کا ٹریننگ کیمپ چلاتے تھا۔ جب سے پاکستان اور ہندوستان نے ایٹم بم بنا لئے ہیں اس وقت سے اب روایتی جنگ کا خطرہ نہیں ہے مگر پاکستان ،ہندوستان اور افغانستان ایک دوسرے کے خلاف خفیہ جنگ میں مصروف ہیں۔ممبئی حملہ بھی اسی کا ایک حصہ تھا اگر آپ اس کے دہشت گردی کے عنصر کو الگ کرکے دیکھیں تو یہ ایک زبردست اپریشن تھا۔جس میں کئی ملکوں اور مذاہب کے لوگ مارے گئے ۔ایک حملہ آور اجمل قصاب کو لوگوں نے پکڑ کر انتظامیہ کے حوالے کر دیا جس نے چند گھنٹو ں میں ساری تفصیل بتا دی۔ اب پاکستان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ان پاکستانیوں پر مقدمہ چلائے جن کا نام اجمل قصاب نے لیا تھا۔لکھوی صاحب پر مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اب ذرا نواز شریف صاحب کے انٹرویو کے بارے میں بھی بات ہو جائے چین ہمارا سب سے قریبی دوست ہے اور وہ 1971میں بھی پاکستان کو مشورہ دیتا رہا ہے کہ بنگالیوں سے سیاسی طور پر مسئلہ کا حل نکالیں مگر ہم نے کوئی توجہ نہیں دی۔ آج روس چین اور امریکہ پاکستان کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے ملک سے نان سٹیٹ ایکڑز کی پشت پناہی بند کرو۔ جہاں تک ممبئی حملہ کا تعلق ہے اس کے بارے میں سارے حقائق سب کو معلوم ہیں آنکھیں بند کرنے اور نواز شریف پر کیچڑ اچھالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ 1971میں مشرقی پاکستان پر فوج کشی کی مخالفت پر نیپ ولی خان پر جنرل یحیےٰ نے پابندی لگا دی تھی اور اس کے لیڈروں کو گرفتار کر لیا تھا۔ آج نہیں تو کل چین،روس اور امریکہ کے سوالات کا جواب دینا پڑے گا۔بہتر ہے کہ ہم غیر سرکاری دہشت گردوں کی سرپرستی بند کردیں۔ نہ کسی ملک میں مداخلت کریں اور نہ کسی کو مداخلت کرنے دیں۔

ویسے FATFکے بیانیہ پر بھی ایک نظر ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔


ای پیپر