چاند نکلے گا اور ٹٹیری بولے گی
19 مئی 2018 2018-05-19

شریف برادران اس کوشش میں ہیں تاکہ دوبارہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ سکیں۔ لہٰذا ایک بھائی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف صبح و شام ہلکان ہوا جا رہا ہے تو دوسرا اس کی نفی کر رہا ہے۔ اور تاثر دیتا ہے کہ وہ بڑے بھائی کے خیالات سے قطعی اتفاق نہیں کرتا۔۔۔؟
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
کیا ان کی یہ حکمت عملی اور ہوشیاری دور تک دیکھنے والی آنکھوں سے اوجھل ہے ۔ اسے معلوم نہیں کیا کہ یہ جو ’’کھیل‘‘ ہے کیوں کھیلا جا رہا ہے۔ پھر شریف برادران کو کیوں اس بات کا احساس نہیں کہ عمران خان بھی ان کے سامنے آن کھڑا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ان کے دیرینہ ساتھی جا مل رہے ہیں۔ اور یہ یقین دلا رہے ہیں کہ وہ تو اندھیرے میں تھے۔ روشنی تو ادھر ہے۔ انہیں بر وقت اپنا راستہ منتخب کرنے کا علم ہو گیا وگرنہ وہ مزید بھٹک جاتے۔۔۔؟
وہ تو جو ہیں سو ہیں جناب رانا ثنا ء اللہ مونچھوں کو تاؤ دے کر اور سینہ تان کر کہہ رہے ہیں کہ وہ خلائی مخلوق کو شکست دیں گے۔ لگتا ہے ان میں کوئی بڑا سا جن بول رہا ہے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے وہ جو کہہ رہے ہوں ایسا ہی ہو۔ بظاہر تو کوئی چانس نہیں۔ انہوں نے جتنا موج میلا کرنا تھا کر لیا اب تو حساب کتاب کا وقت ہے۔
ویسے ان تمام حکومتی ارکان و عہدیداران سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ایسا آپ لوگوں نے کیا کیا کہ یہ بائیس کروڑ عوام آپ کو پھر واپس لانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ دعائیں مانگ رہے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے شریفیہ حکومت جائے کہ اس نے اپنے چند بندوں کو اس قدر نوازا ہے کہ وہ ان کو ڈراتے دھمکاتے پھر رہے ہیں۔ یہ تاثر عام ہے کہ اس حکومت نے محلوں گلیوں قصبوں اور شہروں میں سینہ زوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جو مرضی کریں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس طرح کے اور بھی بندے غریب عوام کو ہراساں کر رہے ہیں ۔ وہ انہیں مالی طور پر بھی غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ غریب عوام کیسے انہیں واپس لا سکتے ہیں۔۔۔؟
پھر آپ لوگ تو ایسی باتیں کر رہے ہو جو کسی طور نہیں کی جانی چاہئیں۔ مگر اس کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں آپ لوگوں کو کہیں ایسا تو نہیں کہ بیل کو اشتعال دلایا جا رہا ہے کہ وہ آپ کو ٹکر مارے اور آپ ہائے ہائے کرتے ہوئے زمین سے اٹھیں اور کہیں کہ دیکھو یہ حشر کیا گیا ہے ان کا۔۔۔ مگر لکھ رکھیے بیل ٹکر نہیں مارے گا ۔ مارے گا تو قانون، جو حرکت میں ہے وہ جب سو رہا تھا تو آپ نے خوب عیش کی۔ جائیدادیں بنائیں۔ تجوریاں بھریں۔ بیروں ملک کاروبار کیے اور محل بنا کر زندگی کو سہل ترین گزارنے لگے۔۔۔ اور ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر اگلے بیس تیس برس تک حکمرانی کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ مگر یہ خیال نہ رہا کہ ملک میں انسان بستے ہیں جو سوچتے ہیں ،ان کی خواہشیں ہیں، امنگیں ہیں انہوں نے اب تک مصائب و آلام کی زندگی بسر کی ہے لہٰذا وہ تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ اور اس کے لیے انہوں نے عمران خان کو اپنا لیڈر تسلیم کر لیا ہے۔ جو ان کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ اجتجاج کر رہا ہے اور بول رہا ہے۔
اب منظر بدل چکا ہے۔ اختیارات ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل ہونے والے ہیں۔ جو انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔ رکھنا بھی چاہیے۔ کیونکہ اب بھی اگر انہیں (عوام) مایوس ہونا پڑا تو پھر ان کے قدم آگے نہیں بڑھیں گے۔ رک جائیں گے۔ ذہنوں میں طغیانیاں آجائیں گی ۔
پھر وہ انہیں پہچاننے سے انکار کر دیں گے جو ان کی آس بندھاتے چلے آ رہے تھے۔ لہٰذا یہ ہو نہیں سکتا کہ خواہشوں کی مچانوں پر عمل کی پھوار نہ پڑے۔
میں پُر امید ہوں کہ آنے والا وقت اس سے بہتر ہو گا ۔ عین ممکن ہے وہ بہت ہی بہتر ہو مگر خیال ظاہر کیا جا رہا ہے موجودہ حکمرانوں نے اسے ناخوشگوار بنانے کی منصوبہ بندی کی ہو گی ۔ کیونکہ وہ اقتدار سے محرومی کو کسی طور بھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔ اور پھر وہ طویل عرصہ
تک عوام پر حکمران رہنے کا پروگرام ترتیب دے چکے تھے۔ یوں ان کے سپنے بکھر گئے۔ مبینہ طور سے اب تو ان کی جائیدادوں پر بھی قانون کا سایہ پڑنے والا ہے۔ مگر وہ انتظامی ڈھانچے کو ’’پمبل بھوسے‘‘ میں ڈالنے کے لیے اپنے بنائے گئے ’’ کمپنی جال‘‘ کومتحرک کر دیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعد از موجودہ حکومت مسائل و مشکلات اچانک گھمبیر شکل اختیار کر لیں گے۔ مہنگائی میں اضافہ بے حدو حساب ہو جائے گا ۔ زرعی اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اشیائے ضروریہ اور دیگر کی سپلائی میں تعطل و خرابی پیدا ہو جائے گی ۔ جس پر وہ کہیں گے کہ ہم گئے تو حالات خراب ہو گئے۔۔؟
ایسا ہونے سے اقتدار کا حصول مشکل بلکہ ناممکن ہے کیونکہ بھولا کوئی بھی نہیں۔ سبھی دماغ رکھتے ہیں۔ ان میں سوچ سمندر بھی ہے جو ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں جو وہ چاہتے ہیں وہ ہو۔۔؟
چودھویں کا چاند ضرور نکلے گا ۔ اس کی چاندنی میں بچے گھروندے بھی بنائیں گے۔ بڑے محفلیں بھی سجائیں گے۔ وہ یہ محفلیں سجانا بھول ہی گئے تھے۔ کبھی وہ بچپن اور لڑکپن میں رات گئے تک بیٹھے گپیں ہانکتے تھے۔ اور مائیں پریشان ہو جاتیں۔ پھر انہیں ڈھونڈنے چل پڑتیں! کیا سہانی رات ہوتی کہ جن میں ٹٹیری کا بولنا اور دھیرے دھیرے نیند کی آغوش میں چلے جانا بڑا لطف دیتا تھا۔
وہ سب کہاں گیا۔۔؟
ان پیسے والوں نے، حاکموں نے اور انسانوں کو یرغمال بنانے والے ہاتھوں نے سارے طلسمی ماحول کو دھواں دھواں کر کے رکھ دیا ۔ اب وہ دیے ہیں نہ وہ چراغ جو دھیمی دھیمی روشنی بکھیر کر اندھیرے پر غالب آجاتے۔ دیر تک دادی اماں سے باتیں ( کہانیاں ) سننا ایک نئی دنیا میں لے جاتا ۔ مہرو وفا کے قصے عام ہوتے۔ سادگی نے خون کی گروش کو تیز کبھی نہ ہونے دیا۔ اس وقت جو ہمارے سیاسی رہنما تھے وہ بھی ایسے ہر گز نہ تھے۔ پیسے کے لیے دروغ گوئی کا سہارا نہیں لیتے تھے۔ خدمت کا جذبہ ان میں بڑی حد تک موجود تھا۔بڑے بڑے نوابوں کے بارے میں آج بھی فخریہ کہا جاتا ہے کہ وہ عدل و انصاف کرتے اور کماحقہٗ لوگوں کو سہولتیں مہیا کرتے۔ اس میں وہ تسکین محسوس کرتے ۔ اب تو تسکین اسی میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اذیتیں دوتا کہ انہیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ مگر رات کب ٹھہری ہے اسے ڈھلنا ہے سو اس کے ڈھلنے کے اسباب پیدا ہونے لگے ہیں۔ دور بہت دور ہلکی سی اجالے کی کرن نمودار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بس اب وہ فاصلہ جلد از جلد سمٹ جائے اور تاریکیوں کے دیو جو اس کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ ایک طرف ہٹ جائیں۔ انہیں ہٹنا ہی ہو گا ۔ کیونکہ خلق خدا کی آرزو ہے جس کی تکمیل کے لیے وہ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ لگ رہا ہے کہ اب وہ نئی صبح میں ضرور سانسیں لیں گے۔۔۔ جہاں پرندوں کی مسحور کن آوازیں بھی ان کے کانوں میں پڑ رہی ہوں گی ۔۔۔!


ای پیپر