سوات کی پرامن حسین وادی
19 مئی 2018 2018-05-19

سوات ایک پرامن وادی اوریہاں کے عوام ملنسار،مہمان نواز، پرامن اورمحب وطن ہیں جنہوں نے قیام امن کی خاطر بیش بہاقربانیاں دی ہیں۔ وادی سوات میں زندگی کی چہل پہل دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ علاقہ چند سال پہلے تک دہشت گردی کا نشانہ تھا اور اس خوبصورت وادی سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔ مینگورہ کا ’’خونی چوک‘‘ جہاں سرعام پھانسیاں دی جاتی تھیں اب زندگی کی روانی کا مرکز ہے۔ دہشت گردوں کے سیاہ دور میں اس چوک پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ اعلان کیا جاتا تھا کہ میت کو فلاں وقت تک کسی نے اْتارا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اب خونی چوک دوبارہ سراج خان چوک کہلاتا ہے۔

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ نے سوات کا دورہ میں کانجو گیریژن میں آ رمی پبلک سکول و کالج کا افتتاح کیا۔اس موقع پر آ رمی چیف نے طلباء، اساتذہ اور مقامی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکول سوات کے پر عزم عوام کے لیے تحفہ ہے۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں۔ آرمی پبلک سکول اورکالج میں طلباء کی گنجائش 3ہزار 600سے زائد ہے جبکہ سکول میں جدید ترین آڈیٹوریم، کمپیوٹر و سائنس لیبا رٹری بھی قائم ہے ۔ اس کے علاوہ وسیع سٹیڈیم بھی موجود ہے۔مقامی عمائدین نے سوات کینٹ میں سکول وکالج کے قیام پرآرمی چیف کاشکریہ اداکیا۔

سوات کی خوبصورت وادی کے لئے سیاحت معیشت کا اہم ذریعہ ہے۔ دہشت گردی نے اس کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم وادی سوات کی طرف جانے والی سڑک پر ٹریفک کا بے پناہ رش پیدا ہو چکا ہے۔ سڑک بہتر بنانے اور سڑک کو موٹر وے میں بدلنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ سڑک پر بنی ہوئی جابجا چیک پوسٹیں بھی علاقہ کے لوگوں کے مسائل کا باعث ہیں۔ اگرچہ لوگ ان کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے تاہم اب بھی ان چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی کے خواہاں ہیں۔

مینگورہ شہر میں لگنے والی دو روزہ ’’ایکسپو‘‘ سے اگرچہ کوئی بڑی معاشی سرگرمی تو پیدا نہیں ہوئی تاہم اس کے باقاعدگی کے ساتھ انعقاد سے علاقے کے عوام کو فائدہ ہو گا۔ سوات کی معیشت میں سیاحت کا حصہ 38 فیصد تک پہنچ چکا ہے جس میں اضافہ کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ سوات کے اکانومی میں 31 فیصد حصہ زراعت کا ہے جبکہ وہاں پیدا ہونے والے پھلوں کی اندرون و بیرون ملک بہت مانگ ہے۔ حکومت اس شعبہ کی سرپرستی کرے تو کاشتکاروں کے حالات بہتر ہونے کے علاوہ بڑی مقدار میں زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ سوات مگس بانی، مچھلیوں کی افزائش اور ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار کیلئے بھی مشہور ہے جبکہ یہاں سے ماربل اور زمرد بھی نکلتا ہے جو ساری دنیا میں مشہور ہے لیکن اسمیں ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ نگینوں کی کٹنگ اور پالش سے بہت زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔اس علاقہ کا دستکاری کا سامان، دیگر مصنوعات، اونی ملبوسات اور شالیں اورفرنیچر بھی کافی مشہور ہے جسے حکومت کی سرپرستی ترقی دے سکتی ہے۔ فوج اور حکومت تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کریں تاکہ ان کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے زوال کے بعد سکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ برس اپریل اور مئی کے مہینوں میں سولہ ہزار نئی طالبات نے سوات کے مختلف سکولوں میں داخلہ لیا ہے۔ تعداد میں اضافے کی وجہ سے سکولوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے اور سکولوں میں اضافی کمرے بنائے جارہے ہیں۔

پاکستان کی فوج سوات میں فوجی آپریشن کے بعد آٹھ برس کے عرصے میں تقریباً تین ہزار افراد کو انتہاپسندانہ سوچ کے خاتمے کے پروگرام سے گزار کر معاشرے کا دوبارہ حصہ بنانے کی کوشش کر چکی ہے تاہم ان افراد کا کہنا ہے کہ معاشرہ انھیں آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وادی سوات میں 2009 میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد چار ایسے بحالی مراکز قائم کیے گئے تھے جہاں طالبان کے ان ساتھیوں کی تربیت کی جاتی تھی جنھوں نے ہتھیار ڈالے اور ان کے خلاف کوئی بھی جرم ثابت نہ ہو سکا تھا۔ وزارت دفاع کے مطابق اب تک 39 پروگرامز میں تقریباً تین ہزار افراد ان ڈی ریڈیکلائزیشن یعنی انتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے کے ان تربیتی مراکز سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ ان افراد میں سے کوئی بھی دوبارہ کسی دہشت گرد تنظیم یا ایسی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنا ہے۔ ان افراد میں صرف ایک فیصد ایسے ہیں جن سے تربیت کی تکمیل کے بعد دوبارہ رابطہ نہیں ہو سکا یا ان کے بارے میں سکیورٹی ادارے لاعلم ہیں۔ سوات میں قائم ان چار مراکز میں سے اب صرف ایک فعال ہے۔ اس مرکز کے پہلے پروگرام کا حصہ رہنے والے کہتے ہیں کہ اس مرکز سے نکلنے کے بعد ان کے اردگرد موجود لوگوں نے انھیں قبول نہیں کیا تھا اور انھیں معاشرے میں اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ملک بھر میں، جہاں شدت پسندی کے واقعات نہیں ہوتے ایسے علاقوں میں یہ تربیت ضروری ہے کہ نوجوانوں کو دہشت گردی اور جہاد میں فرق بتایا جائے۔بازار میں آتے جاتے لوگوں کو مار دینا کہاں کا جہاد ہے؟ یہ تو دہشت گردی ہے۔

سوات کے رہائشی ایک نوجوان بلال نے بتایا کہ جب وہ طالبان کے ایک تربیتی کیمپ کا حصہ بنا تو اس کی عمر تقریبا چودہ سال تھی اور وہ نویں جماعت کے طالبِ علم تھا۔اس ٹریننگ کیمپ میں بچے بھی تھے اور بڑے بھی۔ صبح فجر کی نماز کے بعد وہ پہلے ہماری دوڑ لگواتے اور پھر کلاشنکوف چلانا سکھاتے۔ بلال کے مطابق وہ کچھ دن وہاں موجود رہا اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی زندگی کے 'بدترین' دن تھے۔ بس یہ بتایا جاتا تھا کہ فوج دشمن ہے اور امریکہ کی ساتھی ہے، اس لیے فوج کے خلاف لڑنا ہے۔

بلال کا کہنا ہے کہ اس سمیت سوات کی ایک پوری نوجوان نسل تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئی۔ بلال کے خیال میں تعلیمی اداروں کے نصاب میں انتہا پسندی اور جہاد کی وضاحت ہونا ضروری ہے کیونکہ طالبان نے یہاں دین کے نام پر شہریوں کو بیوقوف بنایا تھا۔اسی بارے میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے بعض صوبوں کی جانب سے نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے کچھ مشکلات کا سامنا ہے۔ احسان غنی کے مطابق کئی دہائیوں سے پنپتی انتہا پسندی کی سوچ کے خاتمے میں وقت لگے گا۔ اس ضمن میں بعض اداروں نے انفرادی سطح پر کوششیں کی ہیں، جیسا کہ فوج نے چند ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز کھول دیے یا حکومتِ پنجاب نے بھی کچھ کام کیا ہے۔


ای پیپر