میں جناح کا وارث ہوں
19 مئی 2018 2018-05-19

وطن سے محبت ہر ذی روح کے لہو میں شامل ہے اور جو وجود اس احساس سے خالی ہے ، وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں بس جائے، اس زمین سے محبت نہیں کر سکتا۔ ریاست دو طرح کی ہوتی ہے، ایک وہ جو خود کونہ صرف ماں تسلیم کرتی ہے بلکہ اپنے سارے فرائض بھی پوری دیانت اور غیر جانب داری سے انجام دیتی ہے ۔ جس کے ذمہ داراس ریاست کو چلانے والے ادارے اور ان اداروں سے وابستہ افراد ہوتے ہیں۔حکومت جو ریاست کا نمائندہ ادارہ مانا جاتا ہے وہ اہل اور ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں ہو تو وہ ریاست اپنے کردار کی فعالیت کے حوالے سے اقوام عالم میں اہم مقام حاصل کرتی ہے ۔ تاہم اقتدار کا ہما جب نا اہل افراد کے سروں پر بیٹھے تو پھر ایسی ریاست کی ہر شاخ پر الو بیٹھا نظر آئے گا۔

بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ایسی ہی ریاستوں میں کیا جاتا ہے جو اپنے عوام کو بنیادی ضررویات فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔جس کی وجہ اس ملک کے عوام کے خون پسینے پر پلنے والی وہ سیاسی قیادت ہے جو نہ صرف خود غرض ہے بلکہ لالچی بھی۔ملک کی ستر برسوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ،کوئی بھی آئینی ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرتا نظر نہیں آئے گا۔ یہ بھی مجھے مل جائے، وہ بھی مجھے مل جائے کی ہوس میں عامی رل گئے اور غیر عامی خاص الخاص بنتے چلے گئے۔ عام آدمی کے مسائل تو بے تحاشا بڑھ گئے ،عالمی سطح پر بھی پاکستان کو گونا گوں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔دوسروں کی آگ اپنے گھر میں لانے والے نا اہلوں نے ملک کو ایک ایسی دوزخ میں جھونک دیا جس سے ہم آج تک نہیں نکل سکے۔ دہشت گردی ، غربت،جہالت، جرائم اورلا تعداد ایسے مسائل ہیں جس کا سامنا آج ہر دوسرے پاکستانی کو ہے۔ سیاسی قیادت کے پاس بھی شاید ایسی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی نہیں جو قوم کو ایک واضح سوچ اور پلیٹ فارم مہیا کر سکے جو ان مسائل کا حل دے۔ موجودہ سیاسی دھڑے اس وقت جس کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں ،وہ حقیقی نقطہ نظر میں ملک و قوم کے لیے ایک نئے سیاسی امتحان کی صورت میں نظر آئے گا جس کے نتائج خوش آئندنظر نہیں آتے۔کوئی تو ہو جو ان موضوعات کو اٹھائے، فکشن کی نظر سے دیکھے اور بتائے کہ کیا کرنا چاہیے۔ استاد اور ادیب قوم کی بگڑی سنوار سکتے ہیں۔معروف شاعر خالد شریف لکھتے ہیں،

خواب در خواب لکھ رہا ہوں میں

اک نیا خواب لکھ رہا ہوں میں

دلِ بیتاب! اک ذرا مہلت

دلِ بیتاب لکھ رہا ہوں میں

کہتے ہیں ادب دو طرح کا ہوتا ہے، ادب برائے ادب اور ادب برائے اصلاح مگر ایک ادب اور بھی ہے تعمیری ادب۔ایسی ادبی تخلیقات جو قوم کے درد میں ڈوب کر لکھی جاتی ہیں اور جن کا مقصد اپنے قاری کو ایک سوچ اور دائرے میں لانا ہوتا ہے ۔ میرے نزدیک ادب اور فکشن شعور کی آبیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہمارے آج کا لکھاری جو دیکھ رہا ہے ، وہ یقینااس کی روح کا کرب ہے ، وہ اپنے ارد گرد اپنے وطن کی سماجی، معاشی اور سیاسی کسمپرسی دیکھ رہا ہے ۔ کچھ خاموشی سے درگزر کر رہے ہیں تو کچھ ایسے ہیں جو اپنے لفظوں سے سوئی ہوئی اس قوم کو جگانے کے لیے ابابیلوں کا کام لے رہے ہیں۔ خوش قسمت ہے پاکستانی قوم ، کہ اس کے پاس ایسے لکھنے والے موجود ہیں جو اپنوں کے درد کو نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ اس کوشش میں ہیں کہ کچھ ایساہو جائے کہ بہتری کے اسباب سامنے آئیں۔ایسا ہی ایک منفرد اور قابل احترام نام معروف ناول نگار محمود ظفر اقبال ہاشمی کا ہے ،جنہوں نے اپنے ناول ’’ میں جناح کا وارث ہوں ‘‘ میں حقیقت اور فکشن کے لازوال امتزاج سے ایک ایسی سیاسی ادبی تخلیق پیش کی ہے جوعام قاری کے ساتھ ساتھ اس ملک کے سیاسی طبقے کو بھی کھلے دل سے پڑھنی چاہیے ۔ ہاشمی صاحب نے اپنے ناول میں ان تمام مسائل کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ ان کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

’’ میں جناح کا وارث ہوں ‘‘ پاکستان کا بھرپور مقدمہ اور یادداشت بھی ہے ، ایک شکایت اور فریاد بھی ہے۔ ہمیں آزادی ملے ستر برس ہو گئے اور ہم ابھی تک وہاں نہیں پہنچ سکے جہاں ہمیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ سیاسی نا اہلی ہے یا عوامی بے حسی۔ اپنے کالم نگاری کے ابتدائی کالموں میں ، میں نے ایک کالم لکھا تھا’’ بحرانوں کی سر زمین‘‘ جس میں میری رائے کے مطابق پاکستان کے عامی نہیں، بلکہ پاکستان کے خواص اپنے اپنے مفادات کے حصول میں ناکامی کے بعد بحرانوں کی زد میں آتے ہیں ۔جس کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، جو بیچاری مسیحا کی خواہش میں سرابوں کی گرد کا شکار ہو جاتی ہے۔

ہم تیسری دنیا کے لوگوں کی عجب کہانی ہے، بہتررزق کی تلاش میں اس دھرتی کی کونجوں کو اپنی ڈار سے جدا ہونا ناگزیز ہو جاتا ہے، میں جناح کا وارث ہوں ، کے مصنف ،محمود ظفر اقبال ہاشمی بھی ایک ایسی ہی کونج ہے، جوبسلسلہ روزگار دیارِ غیر میں مقیم ہیں ۔مگر ان کی تحریروں میں ہمیں ایک ایسا دکھ محسوس ہوتا ہے ،جسے سمجھنے کے لیے قاری کا محب الوطن ہونا بہت ضروری ہے۔ ہاتھوں میں سفید گلاب لئے ، قندیل کی روشنی میں ،اندھیرے میں کسی جگنو کی طرح محمود ظفر اقبال ہاشمی قلم سے قرطاس پر اپنے لفظوں کے دیپ جلائے جناح کے وارث کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ میں جناح کا وارث ہوں ، کو محض ایک ناول سمجھنا غلطی ہوگی، یہ معاشیات اور سیاسات پر لکھی ہوئی ایک ایسی دستاویزات ہے جسے پڑھنا اور سمجھنا ہر محب الوطن کے لیے ضروری ہے۔ناول میں چائلڈ لیبر کے سلگتے ہوئے موضوع کا احاطہ

بھی کیا گیا ہے۔ میں جناح کا وارث ہوں ، کوئی عشقیہ کہانیوں کے کرداروں کے وارثوں کا قصہ نہیں ہے،یہ وطن سے محبت کی طویل داستان ہے۔ یہ جاگتی آنکھوں کے خواب ہیں، جب ہم کتاب کھول کر پڑھنا شروع کرتے ہیں تو امید کی سینکڑوں کرنیں لفظوں کی اوٹ سے پھوٹنے لگتی ہیں ۔ پاکستان کے موجودہ مسائل پر سیر حاصل بحث کے بعد ان کا حل تک یہ دستاویز ہمیں پیش کرتی ہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ، محمود ظفر اقبال ہاشمی کا ناول ’’ میں جناح کا وارث ہوں ‘‘ dystopia سے utopiaتک کی ایک مکمل اور لازوال کتھا ہے، جو اپنے قاری کو کبھی مایوس نہیں کرتا،ہمیشہ اندھرے میں روشنی دکھاتا ہے۔ ہاشمی صاحب کا قلم سفید گلابوں کی روشنائی سے یقین کے لفظ قرطاس پر منتقل کر کے انہیں سبق آموز جگنوؤں کی صورت میں اپنے آسمانوں کے اندھیروں کو دور کرنے کا کام کرتا ہے۔ آئیں ایک بار صرف پاکستانی بن کر اس ناول کا مطالعہ کریں، جو صرف وطن کی محبت میں لکھا گیا ہے۔


ای پیپر