پانچ برسوں کا مینڈیٹ اور خوشامدپسندی!
19 مارچ 2021 2021-03-20

میں حیران ہوں وزیراعظم کی ٹیم میں کوئی ایک شخص ایسا نہیں جو اُنہیں سمجھانے کی، اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کرے کہ جس طرح سے حکومتی معاملات چلائے جارہے ہیں اُس سے خرابیاں مزید بڑھیں گی، حتیٰ کہ صدر مملکت عارف علوی بھی نہیں، جن کا اگلے روز میں بیان پڑھ رہا تھا کہ ”کابینہ محسوس کرتی ہے الیکشن کمیشن اعتماد کھوچکا ہے“....بندہ پوچھے کابینہ کے محسوس کرنے کو آپ اتنا کیوں محسوس کررہے ہیں؟، آپ صدر مملکت ہیں یا کابینہ کے رُکن ہیں؟، ....وزیراعظم یا حکمران وغیرہ بننے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے انسان اس قدرخوشامد پسند ہوجاتا ہے جس روز اُس کے منہ پر اُس کی کوئی تعریف نہ کرے اُسے لگتا ہے وہ اپنے عہدے سے محروم ہوگیا ہے، وزیراعظم بننے سے پہلے خان صاحب اِس قدر خوشامد پسند نہ تھے، نہ ہی ہمیں اُمید تھی وزیراعظم بننے کے بعد وہ بھی سابقہ حکمرانوں جتنے خوشامد پسند ہو جائیں گے، اس قدر خوشامد پسند کہ اُن کی ٹیم کا کوئی رُکن اُن کی کسی غلط بات سے اختلاف کرنے کی جرا¿ت نہیں کرے گا۔ یہی المیہ سابقہ حکمرانوں کا بھی تھا پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟....پنجاب کے ایک سابقہ حکمران اعلیٰ کا واقعہ سُن لیں وہ کس قدر خوشامد پسند تھے، ایک بار اُنہوں نے مجھے اپنے گھر ناشتے پر بلایا، ناشتے کی میز پر اُنہوں نے بطور وزیراعلیٰ کچھ اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ بھی کی، اُس کے بعد وہ مجھے قریب ہی اپنے صاحبزادے کے زیرتعمیر گھر میں لے گئے ، کچھ افسران بھی اُن کے ساتھ تھے، گھرکے ایک واش روم کا معائنہ کرتے ہوئے فرش پر لگے ٹائلز کے بارے میں اُنہوں نے فرمایا ” یہ بہت سلپری ٹائلز ہیں“....قریب کھڑے ٹھیکیدار نے بڑے مو¿دبانہ انداز میں، آدھے سے زیادہ جُھک کر عرض کیا ”سر یہ امپورٹیڈٹائلز ہیں، یہ بظاہر سلپری دکھائی دیتی ہیں، مگر یہ سلپری نہیں ہیں “ ....بے چارے ٹھیکیدار نے اپنی طرف سے حکمران اعلیٰ کی معلومات درست کرنے کی ہلکی سی کوشش کی تھی، قریب کھڑے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے پستہ قدافسر نے سمجھا یہ ٹھیکیدار شاید حکمران اعلیٰ سے اختلاف کرنے کی جرا¿ت کررہا ہے۔ اُس افسر نے فوراً اُس کا ازالہ کرنے کی کوشش میں باقاعدہ پھسل کردکھادیا ، اور ٹھیکیدار سے کہنے لگا ”سی ایم صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ یہ ٹائلز سلپر ہیں، تم ایسے ہی چولیں ماررہے ہو کہ یہ سلپری نہیں ہیں“ .... تب اُس بونے افسر کے کان میں، میں نے کہا ”بڑے نمبربنائے جے تے بڑی اختیاط نال سلپے او، کوئی سٹ وی نئیں لگی“ ....کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آجاتے ہیں“.... وزیراعظم بننے سے پہلے ہمارے خان صاحب اِس حدتک ”اختلاف پسند“ تھے ہمیں اُن پر رشک آتا تھا، ایک بار میرے کہنے پر اُنہوں نے پی ٹی آئی کے دفتر فیصل ٹاﺅن میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک اور اُن کی کابینہ کے کچھ اہم ترین اراکین کو مدعوکیا کہ وہ لاہور آکر کچھ سینئر قلم کاروں کو کے پی کے میں ہونے والی اصلاحات پر بریفنگ دیں، اِس موقع پر خان صاحب خود بھی موجودتھے، وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے پی کے، کے محکمہ جنگلات میں ہونے والی اصلاحات بارے بتارہے تھے، درمیان میں اچانک خان صاحب نے بولنا شروع کردیا، وہ بھی جنگلات کے حوالے سے بریف کرنے لگے، اِس دوران کے پی کے، کے وزیر جنگلات نے بیچ میں اُنہیں ٹوک دیا اور کہنے لگے ”خان صاحب آپ صحیح نہیں بتارہے“ .... میرے سمیت وہاں موجود ہرشخص کا یہ خیال تھا خان صاحب اپنے ایک نکے وزیر کی اِس حرکت کا بہت بُرا منائیں گے، مجھے بلکہ یہ یقین تھا اُسی وقت اِس ”گستاخ وزیر“ کو فارغ کرنے کا اعلان فرمادیں گے، خان صاحب کے ماتھے پر ایک شکن نہیں آئی، بلکہ بڑی فراخ دلی سے اُس وزیر کی طرف اُنہوں نے دیکھا اور فرمایا ”ہاں ہاں تم بتاﺅ اصل میں تو یہ تمہارا محکمہ ہے اور تم ہی صحیح بتاسکتے ہو“.... اب میں حیران ہوتا ہوں، وزیراعظم بننے کے بعد اللہ جانے کیا ہوگیا ہے میری اطلاعات کے مطابق وہ اپنے مزاج یا مرضی کے خلاف کچھ سننا پسند نہیں کرتے، اُن کا کوئی قریبی ترین ساتھی بھی اُن کی مرضی یا مزاج کے خلاف کچھ کہہ دے وہ فوراً یہ سمجھتے ہیں، اور کہہ بھی دیتے ہیں” تم تو نون لیگ کی زبان بول رہے ہو“ .... جیسے اب اُن کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے نکمے افسر کی کسی اہم عہدے پر تقرری کسی نے اُن سے کروانی ہو اُس افسر کی صرف ایک ہی ”خوبی“ کافی ہے کہ شریف برادران اِس افسر کو بڑاناپسند کرتے تھے۔ اور کوئی افسر چاہے کتنا ہی اہل یا ایماندار کیوں نہ ہو اُسے کسی عہدے سے ہٹوانا ہو اُس کی صرف ایک ہی ”خامی “ کافی ہے کہ اُس کا نون لیگ یا شریف برادران سے ابھی تک رابطہ ہے“۔ اِس کے برعکس وہ ایک خاص مجبوری کے تحت اُن ارکان اسمبلی یا اپنے اُن قریبی دوستوں کا بال بیکا نہیں کرسکتے جن کا شریف برادران سے واقعی رابطہ ہے، میں ایک ”تحقیقاتی ادارے کے ایسے افسر کو جانتا ہوں جس نے ایک بار ایک وزیر کے بارے میں وزیراعظم کو رپورٹ دی کہ اس کا شریف برادران سے رابطہ ہے، رات کو وہی افسر شریف فیملی کے ایک اہم رُکن کے ساتھ ایک خفیہ جگہ پر ”گونگلوگوشت“ کھارہا تھا ....سو آج کل ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے صرف یہی خوبیاں خامیاں دیکھی جارہی ہیں، وزیراعظم کو غلط اطلاعات فراہم کرکے کچھ ایسے سازشی افسران کی اُن سے تقرریاں کروالی جاتی ہیں جو حکومت کی نیک نامی کے بجائے بدنامی کا باعث بنتے ہیں، اور جو موجودہ حکمران اعظم کی کچھ خوبیوں کے دل سے مداح ہیں، اور اُن کے خوابوں کے مطابق واقعی کچھ کرکے دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں چُن چُن کر کھڈے لائن لگایا جارہا ہے، پھر جوکچھ اِس کے نتیجے میں ہورہا ہے ”اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں“.... کل وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کی ایک تقریب میں فرمایا ”ہمیں پانچ برسوں کا مینڈیٹ ملا ہے، ہم اِس کے بعد جوابدہ ہوں گے“.... اُن کی خدمت میں عرض ہے گزشتہ اڑھائی برس اُن کے پانچ برسوں کے مینڈیٹ سے باہر نہیں ہیں، اگر گزشتہ اڑھائی برسوں کی کارکردگی کے جوابدہ ہونے کی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تو اگلے اڑھائی برسوں کو ساتھ ملا کر پورے پانچ برسوں کے مینڈیٹ کی کارکردگی بتانے کے جوابدہ وہ کیسے ہوں گے؟ ہم بہرحال اُن کے لیے دعاگو ہیں، ہماری اُمیدوں کا دیا ٹمٹما رہا ہے، ابھی بُجھانہیں ہے، البتہ ہم اس جان لیوا خدشے کا شکار ہیں اگلے اڑھائی برس بھی پچھلے اڑھائی برسوں کی طرح صرف ایسے ہی کانوں کے کچے پن اور زبان کے گندے پن میں گزر گئے، اُس کے نتیجے میں ظاہر ہے چوروڈاکو سابقہ حکمرانوں کو اقتدار میں آنے سے کسی کا ”باپ“ بھی نہیں روک سکتا، ممکن ہے اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا یہ ترانہ ”روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے“ بھی ”لوٹا“ بن کر نون لیگ میں شامل ہوجائے !! 


ای پیپر