Naveed Chaudhry, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
19 مارچ 2021 (11:41) 2021-03-19

آخر وہ لمحہ آ ہی گیا جس کا خدشہ ایک عرصے سے ظاہر کیا جارہا تھا - پیپلز پارٹی نے احتجاجی تحریک کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے پر پی ڈی ایم سے راہیں جدا کرلیں۔ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آصف زرداری نے سب کے سامنے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تحریک چلانی ہے تو پاکستان واپس آئیں۔ انہوں نے یہ طعنہ بھی دیا کہ اسحق ڈار بھی آپکے ساتھ لندن بیٹھے ہیں وہ سینٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے بھی نہیں  آئے۔  اجلاس میں آصف زرداری کی گفتگو دیگر تمام جماعتوں کی قیادت کو ناگوار گزری۔ مریم نواز نے اس موقع پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والد کو واپس بلا کر قاتل ٹولے کے حوالے کیسے کردیں۔ اس اجلاس میں جو بد مزگی ہوئی اسکا اظہار مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر بھی ہوا ۔ مولانا فضل الرحمن بددلی سے لانگ مارچ کے التوا کا اعلان کرکے چلے گئے ۔ مریم نواز نے اپنے والد کے متعلق ریمارکس پر ایک بار پھر آصف زرداری کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جس نے بات کرنی ہے پہلے مجھ سے کرے۔مولانا فضل الرحمن بھی پیپلز پارٹی پر کھل کر برسے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم کے قیام کے وقت استعفوں کی پالیسی طے ہوئی تھی اور پیپلز پارٹی نے اس کی حمایت کی تھی ۔ مولانا نے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے دوران ہی کارروائی لیک کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خیانت اور بد دیانتی قرار دیا۔ پاکستان میں اس وقت سیاست کرنے کے تین ہی طریقے ہیں ۔ عمران خان کی طرح سے اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے بن کر ، نواز شریف کی طرح سے زیر عتاب آکر جد و جہد یا پھر حکومت میں حصہ دار ہونے کے باوجود سو جوتے ،سو پیاز ایک ساتھ کھاتے ہوئے جس کا تازہ عملی مظاہرہ ہم پیپلز پارٹی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی استعفوں تو کیا لانگ مارچ اور دھرنے سے بھی انکاری ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سسٹم کے اندر رہ کر جدوجہد کرنے پر یقین رکھتی ہے ۔ اگر یہی بات تھی تو پھر وہ پی ڈی ایم میں شامل کیوں ہوئی ؟ ان کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جنرل ضیا الحق کے دور میں ہونے والے 1985 ء کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا خمیازہ بھگتا تھا۔ یہ دعویٰ کرنے والوں سے سوال کیا جانا چاہئے کہ بائیکاٹ کی پالیسی ترک کرکے 1988ء کے عام انتخابات میں حصہ لے کر جو لولی لنگڑی حکومت بنائی اس سے کیا حاصل ہوا ؟ اسٹیبلشمنٹ کے گاڈ فادر کہلائے جانے والے صدر غلام اسحق خان نے 1990 ء میں ان کی پہلی حکومت کا خاتمہ کر ڈالا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں وطن واپسی اختیار کی تو لاکھوں لوگ استقبال کے لیے نکل آئے تھے۔ اس وقت احتجاجی تحریک کو صحیح رخ پر ڈال دیا جاتا تو ممکن ہے سول ملٹری کشمکش کے حوالے سے معاملات بہت پہلے ہی طے ہو جاتے۔بینظیر بھٹو نے سسٹم کا حصہ بنتے ہوئے 1993ء میں دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کیا تو اپنی ہی پارٹی کے صدر فاروق لغاری نے اسمبلیاں توڑنے کا بدنام زمانہ اختیار استعمال کرکے حکومت کی چھٹی کرادی۔ جنرل مشرف دور میں اسی سسٹم میں رہ کر تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی تو بم دھماکے میں جان ہی لے لی گئی۔اسی سسٹم میں رہ کر آصف زرداری نے اپنی صدارت میں حکومت چلا کر بھی دیکھ لیا ۔ جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے مکمل سرنڈر کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی کو پورے پانچ سال تک تگنی کا ناچ نچوایا اور ججوں سے ہی دھلائی کرائی۔ اسی سسٹم کے اندر نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے تو پہلے جنرل راحیل شریف ، پھر بعد والوں نے پورے خاندان کو خود بھی رگیدا اور دیگر اداروں سے بھی رگڑا لگوایا ۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی بنیادی معاملات طے کیے بغیر سسٹم کے اندر رہ کر جوڑ توڑ کرتا ہے تو اس سے ملنے والی کامیابی ادھوری اور عارضی ہوگی ۔ جس کا متاثرہ فریق کے ساتھ ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا نہ ہی آئین و قانون کی بالادستی قائم ہو پائے گی۔ آج کل 

کے حالات میں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پی ڈی ایم کا بنیادی مقدمہ کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ 2018 ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو کامیاب کرانے کے لیے کھلی دھاندلی کی گئی۔ یعنی اس الیکشن کے نتیجے میں بننے والی اسمبلیاں جعلی ہیں ۔صرف پی ڈی ایم ہی نہیں اپوزیشن اتحاد سے باہر جماعت اسلامی بھی مکمل طور پر اسی موقف کی حامی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن ان متنازع انتخابات کے فوری بعد سے یہ مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کر سڑکوں پر آیا جائے۔ پیپلز پارٹی شروع سے ہی اس موقف کی حامی نہیں تھی بلکہ اس نے حکومت سازی میں بالواسطہ طور پر پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے امیدوار صادق سنجرانی کو پہلی مرتبہ چیئرمین سینٹ بنانے کے لیے پیپلز پارٹی نے کھل کر ساتھ دیا ۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پے درپے جھٹکے اور وعدہ خلافیاں برداشت کرنا پڑیں تو اس کی قیادت بھی ن لیگ کی طرح اسی نتیجے پر پہنچی کہ اسٹیبلشمنٹ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔ جب سندھ حکومت گرانے کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع ہوئیں اور یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ بلاول سمیت مرکزی قیادت کو عدالتوں سے نااہل کراکے سیاست سے آئوٹ کردیا جائے گا تو آصف زرداری کو بھی متحدہ اپوزیشن کی یاد آگئی۔ پی ڈی ایم قائم ہوتے ہی اسٹیبلشمنٹ کا جارحانہ رویہ بھی تبدیل ہوگیا کیونکہ اپوزیشن اتحاد نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ لڑائی ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہے ۔ اس اتحاد کا یہی موقف تھا کہ نیم دلی سے کیا گیا احتجاج رائیگاں جائے گا کیونکہ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کرانے والے تمام کردار آج بھی اپنی پوزیشنوں پر موجود ہیں ۔ جب تک ان کو سڑیٹ پاور سمیت دیگر ذرائع سے دھکیل کر ان کے اصل مقام پر نہیں پہنچایا جاتا گند صاف نہیں ہوسکتا ۔ پی ڈی ایم نے اپنے ٹارگٹ کے حصول کے لیے جو لائحہ عمل مرتب کیا پیپلز پارٹی اس سے متفق تھی ۔ ملکی تاریخ میں یہ اپوزیشن جماعتوں کا غالباً پہلا ایسا اتحاد تھا جس کے سبب حقیقی تبدیلی کا امکان پیدا ہوتا نظر آنے لگا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس میں دراڑیں ڈالنے کے لیے جب سب سے الگ الگ رابطے کیے تو ‘‘ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے ‘‘ جیسے ڈاکٹرائن سے ’’ شہرت ‘‘ حاصل کرنے والے آصف زرداری ہی کام کے بندے ثابت ہوئے۔ آصف زرداری ہی ہیں جنہوں نے نواز اور مشرف ادوار میں طویل جیل کاٹی اور مجید نظامی مرحوم سے مرد حر کا لقب پایا ۔ جنرل مشرف نے مارشل لالگاتے ہی نواز شریف کو بھی جیل میں ڈال دیا مگر  غیرملکی دبا ئو پر سابق وزیر اعظم کو ملک سے باہر بھیجنا پڑا۔اس دوران کچھ شخصیات نے آصف زرداری کے حوالے سے بھی ایسا ہی سلوک کرنے کا مشورہ دیا تو فوجی آمر نے صاف انکار کردیا ۔ چند سال بعد آصف زرداری ضمانت پر رہا ہوئے تو فورا ملک سے باہر چلے گئے۔’’ مرد حر ‘‘ کی بہادری کا وہ قصہ تو ابھی تازہ ہے جب انہوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی پھر اگلے ہی دن دبئی جاکر پناہ گزین ہوگئے۔ سو اب انہوں نے طے کرلیا ہے کہ ہر حالت میں اسٹیبلشنٹ کی نوکری کرنی ہے ۔ نواز شریف اور ان کے خاندان نے 1993ء سے لے کر اب تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ باربار ٹکرا کر کیا کھویا اور کیا پایا وہ سب کے سامنے ہے ۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ وہ ایک بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے جو ملک کے دیگر حصوں کے علاوہ پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں پذیرائی حاصل کررہا ہے۔ ایسے ماحول میں پی ڈی ایم کا اتحاد جمہوریت دشمنوں کے لیے ایک ڈرائونا خواب بنتا جا رہا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اس اتحاد کو جس طریقے سے نقصان پہچانے کی کوشش کی اس سے لگتا ہے کہ یہ باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ آصف زر داری بذات خود ماضی قریب میں اسٹیبلشنٹ کی جانب سے دئیے گئے کئی ٹاسک پورے کرچکے ہیں ۔ اسی لیے جب انہوں نے جوڑ توڑ کرکے حکومت کو رخصت کرنے کی اجازت مانگی تو پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے اتحاد بچانے کے لیے انہیں یہ موقع فراہم کیا۔  چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کے بعد معاملات واضح ہو جانے پر جب انہیں پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں اور بیانیے کے پیچھے چلنا تھا۔ انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو تاک تاک کر نشانہ بنایا۔ پی ڈی ایم میں شامل دیگر 9 جماعتوں کے برعکس موقف اختیار کیا۔آصف زرداری کے اس اقدام سے پی ٹی آ ئی کے حلقوں میں شادیانے بج اٹھے۔ اب پیپلز پارٹی کے ساتھ چلنے کا کوئی امکان نہیں۔ بلکہ اسے ساتھ رکھنے سے الٹا نقصان ہونے کا خطرہ ہے تو پی ڈی ایم کے لیے بھی یہ آسانی پیدا ہوگئی کہ وہ اپنے حقیقی ٹارگٹ کو سامنے رکھتے ہوئے بلا رکاوٹ فیصلے کرے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی آصف زرداری کی نئی پوزیشن کا خوب اندازہ ہو چکا ہے۔ریکارڈ سے ثابت ہے کہ اسٹیلشمنٹ اپنے بدترین مخالف کے بارے میں تو اکثر احتیاط سے کام لے لیتی ہے مگر سر نڈر کرنے والے کو ہر صورت نمونہ عبرت ہی بناتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی یہ خوش فہمی بھی جلد ہی دور ہو جائے گی کہ وفاق یا سندھ میں اس کی ضرورت ہے ۔ جیسے ہی یہ ادراک کرلیا گیا کہ پی ڈی ایم میں واپسی کا کوئی چانس باقی نہیں رہا۔ پیپلز پارٹی کے خلاف بھی کارروائیوں کا سلسلہ نئے سرے اور زیادہ شدت سے شروع ہو جائے گا۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک اور بعض دیگر سیاسی شخصیات کو یقین ہے کہ بلوچستان اور سندھ کی ساحلی پٹی کو الگ سے وفاقی علاقہ بنانے کی تجویز پر کام جاری ہے۔ بلوچستان میں تو جام کمال ہے ہی سندھ میں بھی کوئی عثمان بزدار اتار دیا جائے گا۔ جہاں بڑے بڑوں کے ڈاکٹرائن پٹ چکے وہاں  زرداری ڈاکٹرائن کی کیا حیثیت ہے ؟ اگر جدوجہد کی ہمت نہیں تو اپنی کم ہمتی کا اعتراف کر کے ایک طرف ہو جانا چاہئے ۔ اپنی کم ہمتی کو سیاسی صلاحیت قرار دینے سے کسی قسم کی رعایت ملے گی نہ فیس سیونگ۔


ای پیپر