پنجابیوں کے دشمن ہو؟
19 مارچ 2021 2021-03-19

گوجرانوالہ والوں کے بعد لاہوریوں کی زندگی کی سب سے بڑی تفریح گھر سے باہر کھاناکھانا ہے مگر کورونا کے برطانوی وائرس کے آنے کے بعد پنجاب حکومت نے ریسٹورنٹس کے ان ڈور کے ساتھ ساتھ آوٹ ڈور پر بھی پابندی لگا تے ہوئے ان بے چاروں کی سب سے بڑی خوشی اور ایکٹویٹی بھی چھین لی ہے۔ ریسٹورنٹس کی یونٹی ایسوسی ایشن کے سربراہ عامر رفیق قریشی بتا رہے تھے کہ یہ پابندی سندھ اور خیبرپختونخوا میں نہیں ہے۔سندھ میں رات دس بجے تک ایس او پیزکے ساتھ ان ڈور اور آوٹ ڈورہوٹلنگ کی اجازت ہے مگرنجانے کیوں پنجاب میں یہ انوکھا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ وہ بتا رہے تھے کہ وہ کمشنر لاہور ڈویژن اور سیکرٹری صحت پنجاب دونوں سے ملاقات کرچکے ہیں اور ان دونوں اصحاب ان کے ساتھ متفق تھے کہ ریسٹورنٹس سے کورونا نہیںپھیل سکتااگر ایس اوپیز پر عمل کیا جائے۔ا نہوں نے جناب عمران خان کو بھی ایوان وزیراعظم ایک پیغام بھیجا تھا جس کے بعد ان کی کسی وفاقی سیکرٹری سے بھی ملاقات کروائی گئی اور کہا گیا کہ این سی او سی میں کا ایک ووٹ ہو گیا ہے مگر اس کے باوجود پنجاب میں ریسٹورنٹس کو کام کرنے کی اجازت کانوٹیفیکیشن نہیں ہوسکا۔ ویسے مجھے حکومتی حلقوں میں بہت بااختیار اور بہت بااثرعامر رفیق قریشی کے احتجاج کی بھی سمجھ نہیں آتی،ماشاءاللہ، اس وقت بھی آپ ان کے واٹس ایپ پر کال کریں تو عمران خان کے ساتھ ان کی ہنستی مسکراتی فوٹوسامنے آجاتی ہے۔ وہ پی ٹی آئی کے اتنے بڑے سپورٹر ہیں کہ جب فردوس مارکیٹ کا انڈر پاس وزیراعلیٰ کی طرف سے بار بار ڈیڈ لائن دینے کے باوجود نہیں بن رہا تھا توانہوں نے ایم ایم عالم روڈ پر اپنے ریسٹورنٹ کے باہر لگے ہوئے بل بورڈز اوربینروںمیں عمران خان اور عثمان بزدار کو اسکی ریکارڈ ٹائم میں تکمیل پرمبارک باد دے دی تھی جبکہ انڈر پاس پر ابھی ملبے اور گرد کے ڈھیر تھے،احتجاج توبے چارے اپوزیشن والے مسکینوں کا بنتا ہے۔

انجمن تاجران پاکستان کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے دلچسپ نکتہ اٹھا یا ہے کہ پنجاب کے ریسٹورنٹس صرف اس لئے بند کئے گئے کہ لانگ مارچ کے شرکا کو ملتان سے راولپنڈی تک کہیں بھی کھانا نہ مل سکے، نہ ان ڈور اورنہ ہی آوٹ ڈور، ورنہ اس پابندی کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر ریسٹورنٹس کو اسی طرح کھول دینا چاہئے جس طرح سندھ میں کھلے ہوئے ہیں کہ نہ صرف لانگ مارچ ملتوی ہو گیا بلکہ پی ڈی ایم پر بھی عملی طور پر انا اللہ پڑھ لیا گیا۔ مریم نواز کی ایک طعنے دیتی ہوئی ٹوئیٹ میں پیپلزپارٹی پرالزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ پی ڈی ایم میں محض فائدے اٹھانے کے لئے تھی۔ لہذا جب نہ لانگ مارچ رہا اور نہ پی ڈی ایم تو جناب عمران خان اور عثمان بزدار کو اپنی فتح کا جشن مناتے ہوئے غریبوں کے روزگار بحال کر دینا چاہئے کہ لاہورئیے تورو دھو کے ہوٹلوں کے بغیر ایک آدھ مہینہ گزار لیں گے مگر ان ہزاروں، لاکھوں کا کیا بنے گا جو ان ریسٹورنٹس کی ورک فورس ہے۔پنجاب بھر کے ہوٹلوں میں لاکھوں ایسے ان سکلڈ اور ان پڑھ افراد بطورکُک، ویٹر، ڈش واشر،سویپر اور گارڈ کے طور پر کام کرتے ہیں جن کو کوئی دوسرا کام نہیں آتا اور اگر ریسٹورنٹس بند ہوتے ہیں وہ سب گھروں میں بیٹھ جائیں گے۔ ان لوگوں نے گذشتہ برس فروری سے اب تک کا وقت بہت مشکل سے کاٹا ہے۔ ایسے ہزاروں روزگار سے محروم ہوچکے جن کے گھروں میں بوڑھے ماں باپ بھی ہیں اور بیوی بچے بھی۔ ان میں ہی ایسے بھی ہیں جن کی تنخواہ دس ، بارہ ہزار روپوں سے زیادہ نہیں ہے مگر وہ اپنا گزارا اس ٹپ سے کر لیتے ہیں جو گاہک دیتے ہیں لیکن جب گاہک ہی نہیں آئیں گے تو ٹپ ایک طرف رہی وہ تنخواہ بھی کہاں سے آئے گی جو کاروبار سے نکلتی ہے۔ ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر لاک ڈاون کا فیصلہ واپس نہ ہوا تو پہلے مرحلے میں وہ آدھے سٹاف کو فارغ کر دے گا یا ان کی تنخواہیں آدھی کر دے گا۔ وہ درست سوال کرتاہے کہ جب گاہک ہی نہیں تو وہ کک، ویٹر، ڈش واشروغیرہ وغیرہ کی تنخواہیں کیوں دے،کہاں سے دے؟

معاملہ محض ریسٹورنٹس کی بندش کا نہیں بلکہ یہ تو ایک زنجیر کی طرح ہے۔اس سے وہ تمام لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں جو وہاں سبزیاں، پھل، گوشت یا دیگر اشیا سپلائی کرتے ہیں،وینڈرز کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کاکام بھی رکتا ہے۔ ایک طرف وزیراعظم کنسٹرکشن انڈسٹری کو بحال کرنے کے لئے بلیک منی تک کی اجازت دے رہے ہیں کہ اس سے چالیس دیگر انڈسٹریز جڑی ہوئی ہیں تو دوسری طرف ایسی ہی ایک اور انڈسٹری بار بار بند کر رہے ہیں۔ عامر رفیق قریشی درست سوال کرتے ہیں کہ جب شادی ہالز کھلے ہوئے ہیں اور وہاں تین سو افراد جمع ہو کر کھانا کھا سکتے ہیں تو ریسٹورنٹس میں بالعموم ایک وقت بھی دس، بیس ، تیس سے اوپر لوگ بھی نہیں ہوتے،ان کے درمیان ایک کئی فٹ کی ایک میز ہوتی ہے جو آٹومیٹک سوشل ڈسٹنسنگ کر دیتی ہے ۔جب بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ کھلے ہوئے ہیں تو ریسٹورنٹس کی بندش کا حکم بلاجواز ہے بلکہ چھ بجے بازار بند کرنے کے حکم کے بعد ایک مرتبہ پھر کھوے سے کھوا چھلنے لگا ہے۔ لوگوں کی دوڑیں لگ رہی ہیں کہ وہ اپنے کام چھ بجے سے پہلے نمٹا لیں حالانکہ اگر آپ رش کم کرنا اورسوشل ڈسٹنسنگ کرنا چاہتے ہیں تو دکانداروں سے کہیں کہ جو اپنی دکانیں آٹھ یا دس بجے بند کرتے ہیں وہ رات ایک یا دو بجے بند کریں تاکہ لوگوں کو علم ہوا کہ وہ آسانی سے خریداری کر سکتے ہیں۔یوں بھی اس وقت مغرب کا وقت سوا چھ بجے سے بھی آگے جا رہا ہے، سورج کی روشنی جاتے جاتے پونے سات آسانی سے بج رہے ہیں تو ایسے میں چھ بجے دکانیں بند کرنے کا حکم دینا کون سی عقل مندی ہے اور ستم یہ کہ یہ احکامات صرف پنجاب میںہیں، سند ھ اور کے پی کے میں نہیں ہیں۔یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ حکمران ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لاہوریوں اور پنجابیوں سے دشمنی کر رہے ہیں۔ابھی ایک روز پہلے ایپکا پاکستان کے صدر حاجی محمد ارشا د بھی بتا رہے تھے کہ وفاق کے تین وزرا نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں پچیس فیصد بڑھانے کا جو تحریری معاہدہ کیا تھا پنجاب حکومت نے اس پرعمل کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ لاہور کچہرے کا ڈھیر بن چکا ہے اور سابق دور میں بنی ہوئی خوبصورت ترین سڑکیں بھی کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہی ہیں، حکمران ایساکیوں کر رہے ہیں؟


ای پیپر