کورونا: ’’عجب مرض ہے جس کی دوا ہے تنہائی‘‘
19 مارچ 2020 2020-03-19

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تباہی جاری ہے جس کے آگے پوری دنیا کے طبی ماہرین ابھی تک بے بس نظر آتے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک نازک دور ہے جس نے دنیا کی سپر پاورز کو بھی بوکھلا دیا ہے۔ خوف اور بے یقینی کی اس فضا میں کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ دنیا بھر کی معیشت گھٹنے ٹیک چکی ہے اور اگر یہی حالات رہے تو ایک بہت بڑا معاشی بحران آنے کا خطرہ ہے۔

اس وقت دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل فارما سیوٹیکل کمپنیوں میں دن رات کورونا وائرس کی ویکسین دریافت کرنے پر کام ہو رہا ہے کیونکہ یہ جنگ عظیم دوم سے بڑا واقعہ ہے اور دوا ساز کمپنیاں جنگی محاذ کی طرح کام کر رہی ہیں انہیں کافی امید ہے کہ ضرور کامیابی ہو گی۔ اس اہم موڑ پر سوال یہ ہے کہ جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی اس وقت تک انسانیت کو اس آفت سے بچاؤ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بے چین ہیں کہ نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے کورونا کا علاج دریافت ہو گیا تو انہیں دوسری مدت کے لیے انتخاب جتینے کی راہ ہموار ہو جائے گی مگر یہ بظاہر ناممکن نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی نئی دوا ایجاد ہوتی ہے تو انسانوں پر اس کے اثرات کا ٹرائل کرنے کے لیے ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔ آزمائشی مدت کے بھی تین مراحل ہوتے ہیں سب سے پہلے اس کو صحت مند لوگوں پر ٹرائی کیا جاتا ہے تا کہ اس کے نقصانات کا پتہ چلایا جا سکے اس کے بعد دوسرے مرحلے میں مریضوں کی محدود تعداد کا علاج کیا جاتا ہے اور اس میں کامیابی ہو جائے تو حتمی مرحلے میں اس دوائی کی تجارتی بنیادوں پر پرڈوکشن اور علاج شروع ہوتا ہے ۔

کورونا ویکسین کی ممکنہ تیاری کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی فارما کمپنی یہ ویکسین بنا لیتی ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کی قیمت اتنی زیادہ ہو گی کہ وہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گی اس کے لیے لازمی ہو جائے گا کہ پولیو ویکسین کی تیاری اور دنیا بھر میں اس کی فراہمی جس طرح مائیکرو سوفٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس نے اپنے ذمے لے رکھی ہے اس طرح کا کوئی اہتمام ہو جائے کہ دوا ساز کمپنی کو ایسے ڈونر سے اتنے فنڈ مل جائیں کہ وہ اس کو مارکیٹ میں سبسیڈائزڈ قیمت پر فروخت کرے۔

اس کے علاوہ تیسرا اہم پہلو ہے کہ اس ویکسین کی اتنے بڑے پیمانے پر مینو فیکچرنگ آسان نہیں ہو گی۔ اس وقت دنیا بھر کی فارما کمپنیاں انڈیا میں اپنے پروڈکشن پلانٹ چلا رہی ہیں جن کے لیے خام مال چائنا سے آتا

ہے چائنا چونکہ ابھی تک معاشی طور پر دوبارہ فعال نہیں ہو سکا اس لیے یہ مرحلہ بھی دنیا کے لیے خاصا چیلنج ہو گا۔

اب ذرا کورونا کے پھیلاؤ پر نظر ڈالتے ہیں اس کا پہلا مرحلہ اس کو محدود رکھا یا Containment تھا جب چائنا کے شہر ووہان میں اس کا آغاز ہوا تھا تو اگر بروقت شہر کو دنیا سے الگ تھلگ یا آئسولیٹ کر دیا جاتا تو یہ سلسلہ رک چکا ہوتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اب یہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کیونکہ اس کا پھیلاؤ پوری دنیا میں تقریباً پہنچ چکا ہے۔ اب ساری تگ و دو یہ ہے کہ اس کے مزید پھیلاؤ کو Delay کیا جائے تا کہ وائرس آسانی سے ایک مریض سے دوسرے صحتمند شخص تک نہ پہنچے یہ مرحلہ زیادہ مشکل ہے اس کے لیے Social Distancing یا سماجی فاصلہ کالفظ استعمال کیا جا رہا ہے کہ انسانوں کے باہمی رابطے جتنے کم ہوں گے اتنا ہی یہ وائرس سست رفتار ہو گا۔ بارڈرز ، ایئر پورٹ، سکول ، یونیورسٹیاں اور میرج ہال وغیرہ کو بند کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے یہ مشکل عام ہے اور اس کے معاشی سرگرمیوں پر تباہ کن اثرات پڑ رہے ہیں مگر انسانی نسلوں کو بچانا ضروری ہے اس لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے ولای عالمی کساد بازاری کو نارمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس آفت کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جتنی تشویش کا یہ متقاضی ہے۔ اب بھی سوشل میڈیا پر دیکھیں تو جہاں پوری دنیا کی معاشی صورت حال اور عالمی منڈیوں پر ویرانی چھائی ہوئی ہے پاکستان سوشل میڈیا پر لطیفے اور جگت بازی کا خاص موضوع کورونا وائرس ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

دوسری طرف سیاسی حکمت عملی میں اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ وفاق اور سندھ ایک دوسرے پر الزام لگانے میں مصروف ہیں سب سے زیادہ مریض وہ ہیں جو تفتان کے راستے ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں اگر ان کا بروقت سدباب ہو جاتا تو صورت حال خاصی محفوظ ہوتی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جاپان جغرافیائی طور پر چائنا کے قریب ہونے کے باوجود اس آفت کا شکار نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بروقت اقدامات کیے ہیں اور ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا ہے اسی طرح روس میں بھی صورت حال اتنی خراب نہیں ہے۔

حکومت اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہے لیکن جب تک عوام کی تائید نہیں ہو گی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ سکول ، کالج، یونیورسٹیاں، میرج ہال بند ہونے کے باوجود ہم نے دیکھا ہے کہ لاہور میں ٹریفک میں کمی نہیں ہوئی مارکیٹیں کھلی ہیں شہر کے مصروف ترین علاقوں میں لوگ نارمل زندگی کی طرح اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اکثریت ماسک کے بغیر گھروں سے نکلتی ہے۔ یہ صورتحال سماجی ذمہ داری کے اخلاقی اصول کے برعکس ہے اب بھی وقت ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور اپنی روزمرہ زندگی کے غیر ضروری مصروفیاں کو التواء میں ڈالیں تاکہ اس آفت کا جلدی خاتمہ ہو سکے۔

قدرت پاکستان کی حمایت میں ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے ادارے WHO کے ماہرین کی مستند رائے یہ ہے کہ کورونا وائرس 26، 27 ڈگری سے زیادہ Heat برداشت نہیں کر سکتا اس لیے پاکستان میں جہاں 50 ڈگری تک درجہ حرارت کا ریکارڈ سے وہاں گرمی کی لہر آتے ہی کورونا وائرس کا خاتمہ ہو جائے گا گویا قدرت پاکستان پر مہربان ہونے والی ہے۔ تب تک ہمیں ماسک اور ہینڈ واش اور دیگر احتیاطی تدابیر پر سختی سے کاربند ہونا پڑے گا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

محترمہ انیلہ ثاقب نے اپنے سوشل میڈیا گروپ ’’لٹریچر‘‘ میں کسی کا یہ شعر رقم کیا ہے جو اس جبری قطع تعلق کے پر آشوب جذبات کی عکاسی کرتا ہے

عجب مرض ہے جس کی دوا ہے تنہائی

بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں


ای پیپر