کورونا وائرس کے ممکنہ معاشی اثرات
19 مارچ 2020 2020-03-19

پاکستان سمیت دنیا بھر کے لگ بھگ 160 ممالک کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے کوشاں ہیں۔ چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا یہ وائرس اب دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے۔ چین کو متاثر کرنے کے بعد اس نے ایران میں تباہی پھیلائی اور اب اٹلی، سپین اور دیگر ممالک میں سینکڑوں افراد کو نگل چکا ہے۔

اگرچہ اس وائرس کے نتیجے میں انسانی ہلاکتوں کی شرح 3 فیصد کے قریب ہے مگر مؤثر ویکسین اور ادویات کے نہ ہونے کی وجہ سے اور وبائی مرض ہونے کے باعث اس کا خوف بہت زیادہ ہے۔ چین نے تو کافی حد تک اس پر قابو پا لیا ہے اور اب محض 10 سے 11 افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ چین میں 87 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے 68 ہزار (68000) سے زائد مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 3 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

پاکستان میں پہلا مریض 26 فروری کو سامنے آیا تھا جس کے بعد اب تک 254 مستند مریض سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان میں اب تک سامنے آنے والے زیادہ تر مریض ایران سے واپس آئے ہیں۔ جب ایران میں کورونا وائرس پھیلا تو پاکستانی زائرین وہاں موجود تھے۔ اگر وطن واپسی پر ان زائرین کے حوالے سے کوئی مربوط اور جامع پالیسی بروقت بن جاتی تو معاملہ اس قدر خراب نہیں ہوتا۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وائرس کے پھیلائو کو روکا جائے تاکہ یہ انسانی زندگیوں اور معیشت کو زیادہ متاثر نہ کرے۔ اس وقت فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت اس وقت بہت مؤثر طریقے سے اس بیماری کے خلاف اقدامات کرتی نظر آتی ہے۔ سندھ حکومت نے سکھر میں 2000 مریضوں کے لئے لیبر کالونی کے فلیٹس کو کورونا وائرس کے ہسپتال میں تبدیل کر دیا ہے۔ سندھ حکومت ایران سے واپس آنے والے زائرین تک پہنچی ہے۔

معیشت کو بڑے پیمانے پر برے اثرات اور نقصان سے بچانے اور انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لئے اس کے پھیلائو کو روکنا بہت ضروری ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں شدید مندی کا شکار ہیں۔ 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے بعد سے یہ سٹاک مارکیٹس کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ پہلے ہی مندی کا شکار ہے۔ پچھلے 2 ماہ میں پاکستانی سٹاک مارکیٹ 43000 کے انڈکس سے 34000 پوائنٹس تک گری ہے۔ اب تک کئی

سو ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت، ٹریول، تجارت، پرچون اور ہول سیل کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کئی اشیاء کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایئرلائنز، ہوٹل اور کروز شپ ٹورز بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مختلف ممالک اس وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے اپنی سرحدیں بند کر رہے ہیں۔ پوری دنیا کے مختلف ممالک میں تعلیمی ادارے، کاروباری ادارے، ثقافتی سرگرمیاں، کھیلوں کے مقابلے اور نمائشیں منسوخ کی جا رہی ہیں۔ سفری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ان سب اقدامات کے نتیجے میں معیشتوں پر دبائو بڑھ رہا ہے۔

اس وقت بہت سے ماہرین عالمی معیشت میں نئے بحران اور گراوٹ کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ اگر اس وائرس پر جلد قابو نہ پایا گیا تو اس کے عالمی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ چین نے اس وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے جواحتیاطی اقدامات اٹھائے تھے اس کے نتیجے میں ایپل (Apple) مائیکروسافٹ، Nike اور دیگر بڑی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلائو اور زیادہ دیر تک موجود رہنے کے نتیجے میں امریکہ، یورپی یونین اور جاپان کی معیشتیں کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہیں۔ عالمی معیشت کی شرح ترقی سست ہو سکتی ہے۔ ابھی تک مختلف تخمینے سامنے آ رہے ہیں جن کے مطابق ممکنہ طور پر عالمی معیشت کا مجموعی نقصان 1.5 ٹریلین ڈالر (1500 ارب ڈالر) سے لے کر 2.7 ٹریلین ڈالر (2700 ارب ڈالر) تک ہو سکتا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق چین میں گاڑیوں کی خریدوفروخت میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ فضائی مسافروں کی تعداد 85 فیصد کم ہوئی ہے۔ OECD کے مطابق عالمی معیشت کی شرح ترقی 2.9 فیصد سے کم ہو کر 2.4 فیصد ہونے کا امکان ہے اور اگر حالات زیادہ خراب ہوئے تو یہ شرح ترقی 1.5 فیصد تک گر سکتی ہے۔ چین کی شرح ترقی بھی کم ہوئی ہے۔ 2003ء میں پھیلنے والے سارس وائرس نے عالمی معیشت کو جی ڈی پی کے 4.8 فیصد کے قریب نقصان پہنچایا تھا۔ مگر 2003ء میں چین عالمی معیشت کا محض 4 فیصد تھی جو کہ اب 16.3 فیصد ہے۔ سارس نے چین کی جی ڈی پی کو 0.5 فیصد سے ایک فیصد تک پہنچایا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے سے پہلے چین کی شرح ترقی 6 فیصد تک تھی جو اب کم ہو کر 5 فیصدسے نیچے جا سکتی ہے۔

ان حالات میں پاکستان کو کوشش یہ کرنی ہے کہ یہ وائرس وبائی شکل اختیار نہ کرے۔ ورنہ اس کے پاکستانی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی سرگرمیوں میں کمی اور سست روی کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی معیشت میں بحران اور سست روی کے نتیجے میں برآمدات متاثر ہو سکتی ہے۔ نقل و حرکت محدود ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ چین میں لاک ڈائون کی وجہ سے پاکستانی درآمدات پہلے ہی متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی صنعتوں کا خام مال چین سے آتا ہے جو کہ اس وقت دستیاب نہیں ہے۔

پاکستان کو اگر لاک ڈائون کرنا پڑا تو پہلے سے مشکلات اور دبائو کا شکار پاکستانی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو اس حوالے سے مؤثر اور فوری حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت معیشت کو سہارا دیا جا سکے اور سماج کے کمزور طبقات اور غریب عوام کو معاشی بحران کے اثرات سے بچایاجا سکے۔ ہمیں اس حوالے سے چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چین نے جس قدر برق رفتاری سے اس وبائی مرض پر قابو پایا ہے وہ حیران کن ہے۔ اس کی بڑی وجہ چین کی ریاست کی معیشت پر گرفت اور مرکزی منصوبہ بندی کا مؤثر نظام ہے۔ پاکستان کو اپنے لوگوں اور معیشت کو اس مشکل سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔


ای پیپر