وزیر اعظم کا کورونا سے خطاب
19 مارچ 2020 2020-03-19

پچھلے ایک ہفتے سے اقتدار کے ایوانوں میں وزیراعظم کے خطاب کی افواہ پھیلی ہوئی تھی جو گزشتہ رات حقیقت کا روپ دھار گئی۔ قومی ترانے سے لگے تڑکے کے بعد خوف زدہ عوام نے وزیراعظم کاخطاب دیکھا اور سنا۔ جمہوریت کے ایک اچھے طالب علم کی طرح وزیر اعظم نے پہلے عوام کو کورونا وائرس کی تعریف بتائی اور پھر پھیلنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔ عمران خان نے اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کے لیے عوام کو چند نصیحتیں بھی کیں۔ آخرمیں وزیراعظم نے اسے جنگ قرار دے کر تمام ڈاکٹروں کو جہاد کرنے کی التجا اور نصیحت کی۔ قوم کو خدا کے حوالے کر کے خود بنی گالہ چلے گئے۔ درحقیقت ہمارے وزیراعظم نے گذشتہ شب خطرے کا بگل بجا دیا ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر قوم کو زور دے کر کہا کہ ’’گھبرانا نہیں ہے‘‘ پھر ایک ہی سانس میں یہ بھی بتا دیا کہ خطرناک بات یہ ہے کہ کوروناوائرس بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔ اپنی حکومت کی دور اندیشی اور ابھی تک کامیاب حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے بیوروکریسی کی بنائی کمیٹیوں کا نام اور کام تک قوم کو بتایا۔

امریکہ، برطانیہ اور اٹلی کی اس وائرس کے خلاف حکمت عملی کا ذکر بھی اس خطاب کا حصہ تھے۔ جب ہمارے وزیراعظم یہ تذکرہ کر رہے تھے تو برطانیہ کے وزیراعظم 330 بلین پاؤنڈ اس وائرس پر بچاؤ کے لیے خرچ کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ امریکی صدر پہلے ہی 50 بلین ڈالر مختص کر چکے ہیں۔ ان ممالک نے کورونا وائرس کے خلاف جو بجٹ مختص کیا ہے اس کا ذکر کرنا وزیراعظم بھول گئے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کے پیچھے جو مختص مالی وسائل ہیں ان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

پاکستان میں چونکہ صحت ایک صوبائی معاملہ ہے شاید اس لیے انھوں نے نہ کسی امداد کا اعلان کیا اور نہ ہی کوئی حکمت عملی بتائی۔ یہ کام صوبائی حکومت پر چھوڑتے ہوئے انہوں نے پوری قوم کو اس جنگ میں حصہ ڈالنے کا مشورہ بھی دیا۔ وزیراعظم کے خطاب سے پہلے آئی ایس پی آر نے بھی فوج کی بھرپور تیاری کے بارے میںبتایا اور ہر طرح کی خدمات قوم کو پیش کیں۔ ایسا لگا کہ جہاں پر وزیراعظم نے ختم کیا وہاں سے خطاب کو شروع کرنے کی ضرورت تھی۔

میرے پیارے پاکستان میں ماسک اور سینی ٹائزر ناپید ہوچکے ہیں۔ پانچ روپے کا ماسک بلیک مارکیٹ میں 500 کا دستیاب ہے اور سینی ٹائزر ہزاروں میں بک رہے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا ذخیز ہ اندوزی اور قلت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے 72 سال ہوگئے ہیں مگر ہمارے رویوں میں قوم ہونے کا تاثر چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایسی قوم سے وزیراعظم کس طرح کی توقعات رکھ رہے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق جو صورتحال آج اٹلی، سپین اور ایران میں ہے وہ ایک ہفتہ میں امریکہ اور انگلینڈ میںبھی ہو سکتی ہے۔ ان ملکوں نے جو بجٹ مختص کیا ہے اس کے بعد اس قسم کے اندازے یقینا ان کے لیے پریشانی اور ہمارے لیے افراتفری کا سبب ہیں۔ ہماری قوم کے رویوں کو اگر سامنے رکھ کر پاکستان کے بارے میں سوچا جائے تو تشویشناک نہیں بلکہ خوفناک حد تک کورونا وائرس تباہی پھیلا سکتا ہے۔ پاکستانی قوم کو دوا سے زیادہ دعا کی ضرورت ہے۔ ہم ویسے بھی معاملات اللہ پر چھوڑنے کے عادی ہیں۔ گرمی کی جلد آمد حالات میں بہتری پیدا کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے تو جمہوری زبان میں بتا دیا ہے کہ ’’صرف ساڈے تے نہ رہنا‘‘۔

163 ملکوں میں بیک وقت موجود کورونا وائرس ایک عالمی خوف اور افراتفری کا باعث بن چکا ہے۔ مہذب ملکوں میںبھی اگر چور بازاری نہیں تو اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں بندوق کی خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کو ایسے ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے کمیٹی نہیں بلکہ کام کرنے والی ٹیم کی ضرورت ہے۔ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے لہٰذا آئندہ آنے والے خطرے کے خدوخال سے لڑنا ہوگا۔ ہمارے وزیراعظم نے کورونا وائرس سے جنگ کا اعلان کر دیا ہے یعنی پاکستان حالات جنگ میں آ چکا ہے۔ تاہم وزیراعظم نے کسی قسم کی ایمرجنسی یامحدور کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ہمارے ملک میں اندرونی پرواز معمول کے مطابق چل رہی ہیں جبکہ ریل اور بس کے سفر بھی اپنی روش پر رواں دواں ہیں۔ وزیراعظم نے ڈاکٹروں اور اس شعبے سے جڑے دوسرے لوگوں کو جہاد کی اپیل کی ہے تاہم اس جہاد کے لیے اسلحہ اور سامان دینے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ وزیراعظم جانتے ہیں کہ ‘‘مومن ہو توبے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ‘‘ ۔

وزیراعظم نے صاف کہہ دیا ہے کہ کورونا وائرس نے تو پھیلنا ہی ہے۔ ابھی تک صوبہ سندھ نے اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے جبکہ بلوچستان کی تعریف وزیراعظم نے خود کر دی ہے۔ باقی عسکری قوتوں کے اچھے ذکر کے بغیرحکومتی ارکان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے۔ ماضی میں حکومت بدہضمی کا شکار ہو چکی ہے۔ عسکری گولی کی تاثیر حالات کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔ قوم حکومت سے اچھے نتائج کی توقع رکھتی ہے۔ اچھی توقعات کا اظہارتو وزیراعظم نے بھی کیا ہے تاہم کس نے کیا کرنا ہے اس کا تعین اور پھر کس طریقے سے کرنا ہے یہ دونوں چیزیں آنیوالے وقت میں اہمیت کی حامل ہوں گی۔ ایک پڑھا لکھا پاکستان یہ توقع کر رہا ہے کہ عمران خان بہادر رویہ اپنائیںگے۔ ریسٹورنٹس، شاپنگ مال اور مارکٹیں سب کو بند کرنے کے احکامات پوری طرح نافذالعمل ہونے چاہئیں۔ ہرقسم اورسطح کے اجتماع پر پابندی لگانے کی بھی ضرورت ہے۔ فی الحال تو ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نے خطاب سے پہلے پارٹی سے نہیں بیوروکریسی سے مشورہ کیا ہے۔ یہ بھی لگتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ریڑھی سے لے کر فیکٹری والے تک ہر شخص عمران خان کا نام مہنگائی سے جوڑ کر اپنی جیبیں بھر رہا ہے اور غریب عوام کو لوٹ رہا ہے۔ یہ ذاتی فائدہ اب قومی روش بنتی جارہی ہے۔ اس بحران کی نوعیت آٹے اورچینی سے مختلف ہی نہیں شدید بھی ہے۔ حکومت کو ڈاکٹرز اور ان سے جڑے اسٹاف کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔ بغیرہتھیار کے اگر قوم کے اس سرمایہ کی قربانی دی گئی تو حالات سنگین ہو سکتے ہیں۔ ہمارے صدر مملکت چین کے کامیاب دورے سے واپس لوٹ آئے ہیں۔ کیا صدر ہاؤس میں کوئی کمانڈ لنک بنے گا جو حالات کو ایک منطقی اورکامیاب انداز سے چلا کر قوم کے ممکنہ نقصانات کو کم کرسکے گا؟ صدر محترم خود ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے قیادت کے فرائض سر انجام دیں۔

بقول وزیراعظم 25 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے ہیں لہٰذا ان کے خون میں کورونا سے زیادہ خطرناک مہنگائی کا وائرس پہلے سے موجود ہے۔ یہ وائرس کورونا سے زیادہ تیزی سے ملک میں پھیلا ہے اور شرح اموات بھی کرو نا سے زیادہ ہیں۔ کورونا کا خطرہ اور فکر باقی 75 فیصد عوام کے لیے ہے۔ امید ہے کہ وفاقی حکومت بہتر طرز حکمرانی کامظاہرہ کرتے ہوئے کورونا سے کمانڈر سیف گارڈ کی طرح اچھا مقابلہ کرے گی۔


ای پیپر