پاکستان میں کورونا کیسے پھیلا؟
19 مارچ 2020 2020-03-19

تادم تحریر پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی رپورٹ شدہ تعداد 237 سے زائد ہے۔ محض 2 روز پہلے پنجاب میں کورونا کا صرف ایک مریض تھا لیکن اچانک منگل کی شام کو پنجاب میں کورونا مریضوں کی تعداد 26 رپورٹ کر دی گئی۔ کچھ معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ رپورٹ ہونے والے مریضوں کی بڑی تعداد ایران سے تفتان آنے والے زائرین سے منسلک ہے۔ بلوچستان حکومت نے ایران سے آنے والے مریضوں کو تفتان قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ یقیناً نیک نیتی سے کیا تھا مگر معمولی لاپرواہی اور ایران سے آنے والے زائرین میں آگاہی کی کمی کے باعث دنیا بھر کو لپیٹ میں لینے والی کورونا کی آگ بالآخر پاکستان پہنچ ہی گئی۔ وزیراعظم نے درست کہا کہ ہمارے پاس کورونا سے نمٹنے کے وسائل نہیں ہیں۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کئی دنوں سے یہی کہہ رہی ہیں کہ ہمارے اسپتالوں میں بہت زیادہ مریض رکھنے کی گنجائش نہیں ہے خدارا احتیاط کریں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت اکیلے کورونا کا مقابلہ نہیں کر سکتی عوام کو ساتھ دینا ہو گا۔ حکومت پاکستان نے بروقت درست فیصلے کیے مگر تفتان میں کوتاہی ہو گئی۔ سندھ حکومت بری الذمہ ہو کر تمام ملبہ وفاق پر ڈال رہی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سندھ حکومت کی تفتان سے آنے والے زائرین کو چیک کرنے کی اتنی ہی ذمہ داری تھی جتنی پنجاب کی ہے۔ بلوچستان کے علاقے تفتان میں ایران سے واپس آنے والے شہریوں کو پاکستان ہاؤس، کرکٹ گراؤنڈ، ٹاؤن ہال اور دیگر کھلے میدانوں میں خیمے لگا کر ٹھہرایا گیا ہے۔ ان کھلے میدانوں کو قرنطینہ کا درجہ تو دیا گیا ہے مگر آئسولیشن یا تنہائی میں رکھنے کا انتظام پورا نہیں کیا جا سکا یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ عارضی رہائش گاہیں قرنطینہ کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ تفتان قرنطینہ میں رہنے کے بعد مریضوں میں وائرس کی تیزی سے تصدیق نے وہاں کی سہولیات پر اٹھنے والے سوالوں کو درست ثابت کر دیا ہے۔ اب تو یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تفتان سے آنے والے تقریباً ہر شخص کو ہی کورونا ہو سکتا ہے۔ تفتان قرنطینہ میں کورونا ٹیسٹ کے لیے ایک ہفتہ قبل ہی موبائل لیب بھیجی گئی ہے جو ایک دن میں صرف 30 ٹیسٹ کر سکتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق قرنطینہ میں رہنے والے افراد اگر 14 دن سے قبل باہر کے یا قرنطینہ کے ہی کسی فرد سے رابطہ کرتے ہیں تو ایسے قرنطینہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور سلسلہ دوبارہ سے اگلے 14 دن تک شروع کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ تفتان سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق قرنطینہ مرکز میں موجود افراد کو نہ صرف بازاروں میں جاتا دیکھا جا سکتا ہے بلکہ گزشتہ ہفتے سینکڑوں افراداحتجاج کے لیے تمام رکاوٹیں توڑ کر مرکزی شاہراہ پر بھی پہنچے ہوئے تھے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ احتجاج کے دوران کئی زائرین قرنطینہ سے بھاگ نکلنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اب یہ زائرین کوئی خود کش بمبار تو ہیں نہیں جو بھاگنا چاہتے تھے۔ کوتاہی منتظمین سے ہی ہوئی جو قرنطینہ میں رہنے والے افراد کونہ اس کی اہمیت سمجھا سکے اور نہ انھیں انکے باہر نکلنے کے اثرات بتائے گئے۔ ابھی پنجاب میں صورتحال اتنی خراب نہیں ہے جتنا تاثر دیا جا رہا ہے. قرنطینہ میں موجود زائرین کا ٹیسٹ ہوتا ہے اور انکی تشخیص ہو جاتی ہے تو یہ اچھی خبر ہے کیونکہ اگر سندھ کی طرح یہ زائرین صوبے میں پھیلتے ہیں تو صورتحال مزید بے قابو ہو جائے گی۔گزشتہ روز وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے جسطرح مرزا حسنین نذر نامی شخص کی تصویر اور شناختی کارڈ ٹویٹ کیا گیا ایسے لگ رہا تھا کہ کسی قومی مجرم کو تلاش کیا جا رہا ہے. مانتے ہیں کہ کورونا چھپانے اور دوسروں تک پہنچانے والا شخص قومی مجرم سے کم نہیں مگر اسے اس بات کو ادراک تو کرائیں. آپ سڑک پر کسی راہ چلتے کے پیچھے چور چور کا شور مچا کر لگ جائیں تو وہ رک کر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کے بجائے پہلے بھاگ کر ہی جان بچائے گا۔ اس لیے ایک تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو ہو گا کہ تفتان میں کوتاہی ہو گئی ہے اور دوسرا اس کوتاہی کا سدباب کرنے کے لیے تمام صوبوں اور وفاق کی حکومت کو مشترکہ پالیسی اپنانا ہو گی۔ بہت سے حلقے اس قدرتی آفت کے دوران بھی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ سندھ حکومت کا موازنہ عمران خان کی حکومت سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے حلقوں سے گزارش ہے کہ خدارا ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بعد میں بنالیجیے گا کیونکہ موجودہ صورتحال تو یہ ہے خدا کے گھر تک کا طواف رکا ہوا ہے۔ خدا ہمارے گناہوں کو معاف کرے مگر بطور ذمہ دار شہری ہمیں صرف خدائی معجزے کا انتظار کرنے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ مجھے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑھ رہا ہے کہ ہم جیسی ہی قوم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عقائد کی بھرمار مگر یقین کا کال... اب دیکھیں ایک طرف تو یہ راگ ہے کہ جو رات قبر میں وہ باہر نہیں اور دوسری طرف اشیاء خورونوش ذخیرہ کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز اپنا ہی منہ چڑاتی نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹرز کو دیکھیں تو وہ احتجاج کو تیار بیٹھے ہیں، مریضوں کو دیکھیں تو وہ اسپتالوں اور قرنطینہ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، ذخیرہ اندوز اب کھانے پینے کے ساتھ ساتھ ماسک اور سینیٹائزرز بھی غائب کر رہے ہیں، 5 روپے والا ماسک 50 سے60 روپے میں اور رضاکاروں کی تو بات ہی نہ کریں اس وقت تو اپنی مدد آپ کی پالیسی ہے۔ کیا ایسی ہی قومیں ہوتی ہیں جو آفات سے نمٹتی ہیں. نہیں جناب آپ چین کی مثال تو دیتے ہیں مگر یہ بھی کہتے ہیں کہ چین پر اللہ کا عذاب آیا. ذرا سوچیں مخفی نظر اس ننھے سے کورونا سے عالمی طاقتوں کو تو خدا یاد دلا دیا مگر ہمارے اہل ایماں کی حرکات دیکھیں اور ان حرکات کی بنا پر عذاب کے فیصلے ہوں تو شاید اہل کائنات ابلیس کی کوتاہیوں کو بھی بھول جائیں۔


ای پیپر