کورونا وائرس، ہم عوام اور یاستی ذمہ داریاں
19 مارچ 2020 2020-03-19

دنیا میں کورونا وائرس کی وبا نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ آخری خبریں آنے تک کورونا وائرس دنیا کے ۱۶۲ ملکوں تک پہنچ چکا ہے۔ابھی تک اس جان لیوا وائرس کی وجہ سے تقریبا ۷۰۰۰ افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان میں اس وقت متاثرہ افراد کی تعداد اڑھائی سو کے قریب بتائی جاتی ہے۔ اس وباء کے مزید پھیلنے سے ایک طرف اگر جانی نقصانات کا اندیشہ ہے تو دوسری طرف پہلے سے خراب معاشی صورتحال کوبھی بڑادھچکا لگ سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم عوام اور بالخصوص ہماری حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے؟محض سیاسی بیانات دینے اور قوم کو نہ گھبرانے کا ورد کرنے سے اس جان لیوا وئرس کا راستہ روکا نہیں جاسکتا، اسکے لئے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ہمارے پاس ملک میں اس وقت تقریباً دو ہزار کے قریب ونٹی لیٹرز موجود ہیں لیکن جس تیزی سے یہ وبا پھیلتی جارہی ہے بائیس کروڑ عوام کا ملک ہونے کے ناطے کیا ہم اس چیلنج کیلئے تیار ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ حیران کن بھی ہے اور پریشان کن بھی۔ گزشتہ روز دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز جانے کا اتفاق ہوا، ہسپتال کا مرکزی حصہ جو کہ باہر سے آنیوالے مریضوں کیلئے مختص ہے، ایسا منظر پیش کررہا تھا جیسے کسی اتوار بازار میں آٹپکا ہوں۔ کئی ایک مریضوں کو کورونا وائرس کیلئے مختص ائسولیشن وارڈ کے قریب ادھر ادھر لپکتے دیکھنے پر استفسار کیا تو ایک مریض نے بتایا کہ انہیں وارڈ کے مین کائونٹر پر بیٹھی ایک لیڈی

ڈاکٹر نے بتایا کہ ٹیسٹ کرنے کیلئے نیشنل انسٹیٹیوٹ آ ف ہیلتھ چلے جایئں لیکن جب وہان گیا تو مجھے بتا یا گیا کہ وہاں پر اس طرح سے ٹیسٹ نہیں ہوتے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں وہاں پر بلیو ایریا میں موجود پرایئویٹ لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ پرائیویٹ لیبارٹری میں اس ٹیسٹ کی قیمت سات ہزار نو سو روپے ہے۔ یہ معلوم ہونے پر آخرکار غریب مریض کو شکستہ دل کے ساتھ بغیر ٹیسٹ کئے واپس گھر جانا پڑا۔ اس پر میرا تجسس اور بڑھا ۔ ہسپتال انتطامیہ نے فون پر بتایا کہ ہسپتال انتطامیہ کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والوں کو علاج ومعالجے کی سہولتیں بہم پہنچا سکیں۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگر ملک کے دارلحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کا یہ حال ہے تو ملک کے دورافتادہ علاقوں کے لوگوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت پر تنقید کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے خوب نشتر برسائے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے احسن اقبال، مریم اورنگزیب، رانا ثناء اللہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی غیر سنجیدگی پر سوال اٹھائے اور اس حوالے سے قومی حکمت عملی ترتیب دینے کا مشورہ دیاجبکہ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے سندھ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے حکومتی کارکردگی کو ہدف تنقید بنایا۔ لیکن ان سیاسی رہنماوں سے کوئی پوچھے کہ انکی پارٹیوں نے اگر مذکورہ قومی حکمت عملی کے حوالے سے کوئی پلان یا پروگرام ترتیب دیاہے تو پریس کانفرنس میں صرف حکومت پر تنقید کرنے کی بجائے اس پروگرام کو عوام اور حکومت کے سامنے پیش کیوں نہیں کرتے۔ عوام کا حال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کے ظہور پذیر ہونے کے ساتھ ہی متعلقہ اشیاء کی مہنگے داموں خرید وفروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سینیٹائزرز مارکیٹ میں نایاب ہوگئے ۔ دس روپے والے ماسک کی قیمت تیس سے چالیس روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح صابن بنانے والے کمپنیوں اور ڈیلروں کی بھی چاندی نکل آئی۔ہم اپنے پڑوس میں چین سے سبق کیوں نہیں سیکھتے جہاں پراس وئرس نے جنم لیا اور پھر پوری قوم نے کس طرح سے متحد ہو کر اس قومی المیے کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ آج پوری دنیا کو اس قسم کے اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے ۔اس وباء سے بچنے کیلئے ہمیں ملک کے اندر بھی پوری قوت کے ساتھ ملی یکجہتی اور یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ہمارے ملک میں ۷۰ فی صد سے زیادہ لوگ دیہاتوںمیں رہتے ہیں ان کو آگاہی مہمات کے ذریعے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کرنا پڑے گا اور جتنا ممکن ہو سکے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پوری طاقت کے ساتھ اس چیلنج سے نمٹنا ہو گا۔ اس کے لئے لازم ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن، نجی ادارے ہوں یا سرکاری کارندے ، تاجر ہوں یا میڈیا کے نمائندے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنا اپناکردار ادا کریں اور انسانیت کو اس وبا سے نجات دلانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔


ای پیپر