سن لے کاتب کی صدا…
19 مارچ 2020 2020-03-19

سنتے رہو کہ وقت نے بدلی ہے راگنی

دم بھر میں انقلاب ہوا دیکھتے رہو

سیاست ناممکن کوممکن بنانے،معاملہ فہمی اور،عوامی مسائل کے حل کانام ہے۔لیکن ہم نے سیاست کا مطلب مشکل کومشکل ترین بنانے،،،معاملات کوسلجھانے کی بجائے الجھانے اورعوام کی نظریں مسائل سے ہٹانے کیلئے نان ایشوکوایشوبناکرسیاسی مفادات کاحصول رکھ دیاہے۔وزیراعظم اُٹھتے بیٹھتے ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتاہے کہ وہ یہ بات محض سیاسی پوائنٹ سکورننگ کیلئے کرتے ہیں ،کیوںکہ ریاست مدینہ کی سیاست میں جھوٹ ،منافقت اورموقع پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ۔بہترہوگاکہ وہ اپنی غلطیوں کااعتراف کرتے ہوئے ٹریک پرواپس آجائیں اس سے پہلے کہ بہت دیرہوجائے۔کیوں کہ کبوترکی طرح آنکھیں بند کرکے حقیقت سے فرارممکن نہیں ہے۔زمینی حقائق یہی ہیں کہ آج ہرطرف معیشت کی تباہ حالی،مہنگائی اور بیروزگاری کاشور ہے،،جس کی وجہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی قراردی جارہی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ حکومت اپنی تمام ترکوششوں کے باوجودپچھلے سترہ ماہ میں ڈلیورنہیں کرپارہی ،معاشی سرگرمیاں سکڑکررہ گئی ہیں،کارخانے بند ہورہے ہیں یاان کی پیداوارانتہائی کم رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیداہونے کے بجائے بیروزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے،،،ڈاکٹرحفیظ پاشاہ نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے خبردارکیاہے کہ اس مالی سال کے آخرتک 22 لاکھ افرادبے روزگارہوجائیں گے۔صنعتوں کے بعد اس عرصے میں سٹاک مارکیٹ بھی بری طرح متاثرہوئی ہے،،،جس کے باعث سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب چکے ہیں۔سیاسی غیریقینی اور پالیسیوں کے تسلسل کے فقدان کے باعث ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری انتہائی نچلی سطح پرآگئی ہے۔خوف کایہ عالم ہے کہ باہرسے سرمایہ کاری آنے کے بجائے مقامی سرمایہ کاربھی باہرجارہاہے۔۔اس کے اثرات ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکامی کی صورت میںسامنے آرہے ہیں جو کہ انتہائی پریشان کن ہے۔ کیوں معاملہ آمدنی اٹھنی خرچ روپیہ والاہوتاجارہاہے،،یہی صورتحال رہی توحکومت کیلئے بجٹ بنانا انتہائی مشکل ہوجائیگا۔

مسائل کے اس بھنورسے نکلنے کیلئے حکومتی سطح پرکوئی لائحہ عمل نظر نہیں آتا۔وہ حکومت جوماضی کی حکومتوں پر بہت زیادہ قرضے لینے کاالزام لگاتی ہے، اس نے اپنے مختصر دورحکومت میں قرضوں کے تمام ریکارڈتوڑدئیے ہیں۔صرف سترہ ماہ میں 8ہزار295ارب روپے کے قرضے لئے گئے ہیں ،،اس میں دوست ملکوں اورآئی ایم ایف سے بیلنس آف پیمنٹس کی مد میں لئے گئے ساڑھے چھ ارب ڈالر سے زائد کی رقم شامل نہیں ہے۔۔ایسا ہی حال کرپشن کیخلاف جنگ کاہواہے ان سترہ ماہ کے دوران کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے،،،جس کی تصدیق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ سے ہوتی ہے ہے۔دونہیں ایک پاکستان کانعرہ لگانے والوں کے دورمیں پاکستان رول آف لاانڈیکس میں دودرجے نیچے چلاگیاہے اور128ملکوں میں پاکستان کا120واں نمبر ہے،،،جبکہ خطے میں سرزمین بے آئین افغانستان ہی پاکستان سے نیچے ہے۔یورپی یونین کی ایک رپورٹ میں پاکستان میں احتساب کے عمل پر بھی سوالات اٹھائیے گئے ہیں۔کہنے کوآزاد صحافت بھی کئی پہروں اور خوف کے سایوں تلے شب وروز گزار ہی ہے ۔

وہ مطمعین کہ سب کی کی زباں کاٹ دی گئی

ایسی خموشیوں سے مگرڈرلگے مجھے

حکمرانی صبر اور برداشت کانام ہے،،، جس کا ہر دور میں فقدان نظر آتا ہے۔ اہل دانش سچ ہی کہتے ہیں کہ کسی کاصبر دیکھناہوتواس پر تنقید کرکے دیکھ لو۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے ہاتھوں میں کھیل رہاہے،لیکن مت بھولئے میڈیا معاشرے کاآئینہ ہوتاہے،،،آئینہ وہی دکھاتاہے جو اس کے سامنے ہوتاہے،،، اب اگر کوئی حقیقت سے فرارچاہے ،،،، یا اسے اپناعکس ہی برالگے تواس میں آئینے کا کیا قصور ہے۔ اسی بات کوشیخ سعدی نے یوں کہاتھاکہ اگر چمگاڈرکودن کے اجالے میں نظرنہیں آتاتواس میں سورج کا کیا قصور ہے۔

سنبھل جا آج بھی تو سن لے کاتب کی صدا

جلد لوٹ آ ظالم ورنہ بہت پچھتائے گا

صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے

ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا ہے

اگر پھر بھی کوئی نوشتہ دیوار نہ پڑھے تواسے اپنے پیش روؤں کے انجام کونہیں بھلاناچاہئے۔ مہنگائی اور بیروزگاری نے صنعتکاروں ،تاجروں اور عوام سب کی چیخیں نکلوادی ہیں،،،،۔لیکن حکومت نے ان کی مشکلات کامداواکرنے اور زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے جنوبی پنجاب صوبے کاڈھول پیٹناشروع کردیاہے۔اب اگر غلط وقت پر صحیح کام بھی کرنے کی کوشش کی جائے گی توکوئی اس کی ستائش یا حمایت نہیں کرسکتا۔

جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے حکومت کی اپنی صفوںمیں بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔اس پرحکومت کی طرف سے اب تک جواعلانات سامنے آئے ہیں وہ غیرحقیقت پسندانہ ہیں۔جس سے اُن کی سنجیدگی کااندازہ بخوبی ہوجاتاہے۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس وقت جنوبی پنجاب صوبے کے اعلان کامقصد میڈیااور عوام کی توجہ مسائل سے ہٹانا اور ممکنہ طورپرآنے والے بلدیاتی انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھاناہے۔کیوںکہ کرپشن کے خاتمے اور قانون کی حکمرانی کے بیانئے بری طرح پٹ چکے ہیں،،ایسے میں کارکردگی کی بنیاد پر حکومت کوکامیابی کا یقین نہیں ہے۔ حکومت اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ دوتہائی اکثریت کے بغیر نیاصوبہ بنانا ممکن نہیں،،اس لئے اس نے ایک ہارتے ہوئے جواری کی طرح ترُپ کاپتہ کھیلنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں اگرحکومت واقعی نئے صوبے بنانے میں سنجیدہ ہے توکیاہی بہترہوتاکہ بہاولپوراور جنوبی پنجاب صوبوں کااعلان کیاجاتا۔اس طرح حکومت اپنی توانائیاں اتفاق رائے پیداکرنے پر صرف کرنے کی بجائے توجہ مجوزہ قانون سازی پر کرتی ،،،، کیوں کہ یہ اتناسادہ نہیں جتناحکومتی ذمہ داران سمجھ رہے ہیں۔یہی نہیں حالیہ چند تجربات میں قانون سازی کے میدان میں حکومت کی کمزوریاں کھل کرسامنے آئی ہیں۔حکومت کے خیرخواہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکمران واقعی ملک و قوم کی بہتری چاہتے ہیں تو انہیں اپوزیشن کی پچ کوچھوڑکراپنی پچ پر کھیلنا ہو گا۔ بصورت دیگرمخالفین کے ہرباؤنسرپر غصے میں آکریہ اپنی وکٹ ہی گنوائیں گے،،،،جس کانتیجہ یقینی شکست کے سواکچھ بھی نہیں۔تب حکومت کے ناخداخود کوبچاتے ہوئے یہی کہیں گے۔

اکیلے پار اتر کر یہ ناخدا نے کہا

مسافرو یہی قسمت شکستہ ناؤ کی تھی


ای پیپر