میں کسی کے ٹکٹ کا محتاج نہیں،چوہدری نثار حقیقت سامنے لے آئے
19 مارچ 2018 (22:04)

سابق وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ن لیگ میں اختلاف رائے کی آزادی ختم ہو چکی ہے، عزت ملنے تک حالات ٹھیک رہے۔ نواز شریف سے کہا تھا کہ جس کے ساتھ 30 سال کا تعلق ہو بگاڑنے میں بھی 30 سال لگا۔ میں نے زندگی میں کبھی ٹکٹ کے لیے اپلائی نہیں کیا۔میرے حلقے کے عوام کا مجھ پر اعتماد ہے میں کسی کے ٹکٹ کا محتاج بھی نہیں ہوں۔ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چودھری نثار کا کہنا تھا کہ میرا پہلے دن سے موقف ہے کہ سپریم کورٹ سے تصادم کی پالیسی نہیں اپنانی چاہیے۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو عدالتی فیصلے پر تحفظات ہیں تو قانونی راستہ اپنائیں۔ ان کے کان پکا دیئے گئے ہیں کہ آپ جیل جائیں گے تو ہمدردی کا تاثر ملے گا لیکن میرا خیال ہے نواز شریف جیل گئے تو پارٹی کو نقصان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے، عدالتِ عالیہ کا غلط فیصلہ ہے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں، ہم خود کیس کو سپریم کورٹ لائے۔

واحد شخص ہوں جس نے اختلاف کیا کہ کیس کو سپریم کورٹ نہیں لے کر جانا چاہیے۔ نواز شریف نے چند لوگوں کے جھرمٹ میں فیصلہ کیا کہ کیس سپریم کورٹ میں لے کر جانا چاہیے۔پارٹی معاملات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ میں اختلاف رائے کی آزادی ختم، عزت ملنے تک حالات ٹھیک رہے۔ نواز شریف سے کہا تھا کہ جس کے ساتھ 30 سال کا تعلق ہو بگاڑنے میں بھی 30 سال لگا۔سابق صدر پرویز مشرف کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریری فیصلے کے بعد پرویز مشرف کو جانے کی اجازت دی گئی۔ پرویز مشرف ڈھائی سال ای سی ایل میں رہے لیکن جو تنقید کرتے ہیں، انھوں نے ان کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا؟ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ مشرف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے، ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، اس کے بعد 15 دن کے اندر ہم نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی لیکن وہاں سے بھی ہماری اپیل مسترد کر دی گئی یعنی فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے وکیل نے علاج کی اور واپس آنے کی بات سپریم کورٹ میں کی تھی، اس کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی ہے ہماری نہیں، عدالت کہے تو کسی کے بھی ریڈ وارنٹ جاری کئے جا سکتے ہیں۔سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رضا ربانی پاکستان میں سب سے بہتر چیئرمین سینیٹ رہے لیکن اگر ہم انھیں بطور چیئرمین سینیٹ لانا چاہتے تھے تو عوامی سطح پر کیوں اظہار کیا گیا۔ کون سی پارٹی چاہے گی کہ ان کے امیدوار کی نامزدگی کوئی اور پارٹی کرے۔ اگر نمبر پورے نہیں تھے تو آخری وقت میں چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ چودھری نثار نے کہا کہ اگر سینیٹر ہوتا تو ڈپٹی چیئرمین کو ووٹ نہ دیتا کیونکہ جس کو ڈپٹی چیئرمین کے لیے نامزد کیا گیا وہ اداروں کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے سکول دور سے دوستی ہے، وہ جب کرکٹ کھیلتے تھے تب کئی بار ملاقاتیں ہوتی تھیں۔

پارٹی میں چند لوگوں کو میرے خلاف کچھ نہیں ملتا تو جا کر کان بھرتے ہیں کہ اس کی عمران خان سے دوستی ہے۔ میرا ساڑھے 3 سالوں سے عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ نواز شریف سے کہا تھا کہ میں عمران خان پر ذاتی تنقید نہیں کر سکتا۔ نواز شریف کو کہا ہے کہ جس کے ساتھ 30 سال کا تعلق ہو بگاڑنے میں بھی 30 سال لگا۔مریم نواز اور حمزہ شہباز ہمارے بچوں کی طرح ہیں، کل جب یہ لیڈر ہوں گے تو خاموشی سے سائیڈ پر ہو جائیں گے۔ اس وقت شہباز شریف پارٹی لیڈر ہیں اور میں ان کو لیڈر مانتا ہوں۔ شہباز شریف پارٹی موجودہ حالات کے حوالے سے نیک شگون ہیں۔ شہباز شریف کو کام کرنے دیا گیا، پیچھے سے احکامات نہ آئے تو اچھا ہو گا، اگر پیچھے سے احکامات آتے رہے تو شہباز شریف کام نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کہا کہ اگر مریم نواز پارٹی لیڈر ہوئیں تو میں حصہ نہیں بنوں گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کیسے فلیٹ لے سکتی ہیں، یہ وہ ہی جواب دے سکتی ہیں، میں نے کرپشن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی، جماعتوں میں کسی سے نہیں پوچھا جاتا کہ پیسہ کہاں سے آیا، یہ کام اداروں کا ہے، سپریم کورٹ نواز شریف سے پوچھ رہی ہے اور وہ جواب دے رہے ہیں۔34 سالہ سیاسی دور میں پارٹی سے کچھ نہیں مانگا۔پارٹی سے کبھی رشتہ دار کے لیے کوئی سیٹ نہیں مانگی نواز شریف سے عزت کے سوائے کچھ نہیں مانگا،میاں صاحبسے آج تک کوئی عہدہ نہیں مانگا ،جب تک عزت ملتی رہی حالات ٹھیک رہے۔

میں نے ہمیشہ غلط چیزوں کی نشاندہی کی پارٹی میں ایک بھی شخص ایسا نہیں رہا جو غلط چیزوں کی نشاندہی کرے۔ میں نے سب سے پہلے نواز شریف کی پنجاب اسمبلی میں حمایت کی شروع میں نواز شریف کی سیاست کا اتنا نہیں پتہ تھا وہ سیاسی طور پر نابلد تھے انہوں نے مشاورت شروع کی انہیں اپنی کمزوریوں کا احساس تھا۔نواز شریف سے کہا کہ پنجاب میں مضبوط گروپ ہونا چاہیے گروپ بنانے سے نواز شریف کو سیاسی طاقت حاصل ہوئی نواز شریف سادہ انسان ہیں آج کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔ اب ان میں بہت بہتری آئی ہے میاں صاحب کھلے دل سے تنقید کو سنتے تھے آج پارٹی میں مشاورت والا ماحول نہیں ہے آج بدقسمتی سے اچھے کام کی قدر نہیں اور برے کی پکڑ نہیں۔ میں نے اپنے سامنے کبھی میاں صاحب کو کمیشن لیتے ہوئے یا کرپشن میں ملوث نہیں دیکھا۔اگر میں انہیں کرپشن کرتے دیکھتا تو میاں نواز شریف کے ساتھ نہ ہوتا مجھے غیب کا علم نہیں۔انہوں نے یہ پیسہ کہاں سے بنایا فلیٹ کہاں سے بنائے اس بارے میں کچھ نہیں جانتا پارٹی میں یہ کلچر نہیں کہ پوچھا جائے کہ پیسہ کہاں سے آیا۔

میں نے پہلے دن سے موقف اپنایا کہ ہمیں سپریم کورٹ سے تصادم کی پالیسی نہیں اپنانی چاہیے۔نواز شریف کا بیانیہ نہیں سیاسی موقف ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بالکل (ن) لیگ میں ہی ہوں میں نے زندگی میں کبھی ٹکٹ کے لیے اپلائی نہیں کیا۔ میرے حلقے کے عوام کا مجھ پر اعتماد ہے میں کسی کے ٹکٹ کا محتاج بھی نہیں ہوں عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کی خواہش کا احترام کرتا ہوں پیپلز پارٹی نے 90 کی دہائی میں سب سے پہلے الزام لگایا پرویز مشرف دور میں معاملہ عدالتوں میں گیا عدالت نواز شریف سے پوچھ رہی ہے۔اگر نوازشریف کو کوئی قانونی تحفظات ہیں تو قانونی راستہ اپنائیں مگر ہم اس کو سیاسی نہ بنائیں۔


ای پیپر