نگران حکومت اور جمہوریت پر خوف کے سائے
19 مارچ 2018 2018-03-19

سینیٹ کے انتخابات نے تو پاکستان کی جمہوریت پر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، فروخت ہونے والوں اور خریدنے والوں نے جمہوریت پر کامیاب خودکش حملہ کر دیا ہے۔ شرم تو دوسری جانب سے بھی دلائی جا چکی کہ یہ ہے تمہاری جمہوریت ۔ یہ تو منڈی کا مال ہے مگر بکا خاصے داموں۔ فروخت ہونے والوں نے یہ سودا سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اُن کی نسلیں سنور گئیں کون پوچھے گا مال کیسے کمایا مگر اس کے سامنے بھی تو حاضر ہونا جس کو تم اپنا رب کہتے ہو۔ دلچسپ بات تو چیئرمین سینیٹ کی ہے۔ سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں کہ شفاف انتخاب ہوئے۔ نواز شریف درست کہتے ہیں کہ آپ کے دربار پر ’’وہ سجدہ ریز کیوں ہو گئے۔ جناب چیئرمین آپ سینیٹ کی تاریخ کے پہلے چیئرمین ہیں جن کا انتخاب متنازع نہیں ہے بلکہ اس میں جرم بھی ہو اہے۔ عوام کے نمائندے بکے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں ہے آپ زرداری کے دربار میں بار بار حاضر ہو رہے ہیں مگر آپ قائد اعظم کے دربار میں بھی ایک بار حاضر ہوئے۔ یہاں تو آپ کا معاملہ یقیناًایسا لگتا ہے کہ ’’پھول لے کر گیا آیا روتا ۔ یہاں معاملہ یہ ہے آپ شرمندہ ہوئے یاقائد یا یہاں تک آپ کو بھیجنے والے۔ جنہوں نے جمہوریت کے چہرے کو داغدار کر دیا ہے۔ پھر یہ معاملہ یوں نظر انداز کیے جانے والا نہیں ہے آپ اس پارٹی سے مل گئے جس نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کیا۔ یہاں سے جمہوریت کو اکھاڑ دیا۔ اس پر پھر بات ہو گی۔ خادم اعلیٰ شہباز شریف درخواست کر رہے ہیں ’’خدا کے لیے فوج ، عدلیہ اور سیاستدان مل کر کام کریں‘‘۔
خادم اعلیٰ بھولے بادشاہ ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا جو کام پاکستان بننے سے شروع ہوا وہ آپ کے کہنے پر کیسے ختم ہو سکتا ہے۔ اگر ادارے اپنی حدود میں رہیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ آپ کی حکومت بلوچستان سے اکھاڑی گئی اور بلا وجہ اکھاڑی، یہ مل کر کام کرنے والی بات تو نہیں ہوتی۔ اب تو نگران مقرر ہونے کا زمانہ آ رہا ہے ۔ دو اڑھائی ماہ کی بات بہت کچھ ہونا ہے۔ نوا زشریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلہ نگران حکومت سے قبل آئے گا۔ بہت سی کہانیاں ہیں جو چل رہی ہیں مگر اختیارات عدالت کو اصلی قطری خط (منی ٹرپل ) مل چکا ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس کہنے کو وہ نظر نہیں آ رہا جو وہ تفتیش کے دوران کہتی رہی تھی۔ انتخابی مہم کا بگل بج چکا ہے۔ بیانات آ رہے ہیں۔ زہر میں بجھے ہوئے مگر یہ نہیں سوچتے کیا سیاست اسی کا نام ہے؟ اتوار کے روز کیا کیا تماشا ہوا ، کسی نے یہ نہیں مانا مجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ سیاستدانوں کے جلسے پر جلسے ہوئے۔ نواز شریف نے ضلع ننکانہ صاحب کی تحصیل سانگلہ ہل میں جلسہ کیا۔ بڑا جلسہ تھا۔ نواز شریف سیاسی سما باندھتے ہیں۔ کافی مہارت رکھتے ہیں مگر جلسے میں مریم نواز کے علاوہ حمزہ شہباہ کا اضافہ ہوا ہے۔ وہ بھی انتخابی جوڑ توڑ میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے والد خادم اعلیٰ کے بیانیہ سے زیادہ اپنے تایا نواز شریف کا بیانیہ مانتے ہیں۔ یہ تاثر ختم ہوا کہ شریف خاندان تقسیم ہے۔ اور شریف خاندان سیاست سے مٹ جائے گا۔ یہ ہونا ممکن نہیں جلسہ میں نواز شریف ، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر ہاتھ ہولا رکھا ہے اگر مریم نواز نے سینیٹ انتخاب کے حوالے سے عمران اور زرداری کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے ’’ جمہوریت کی آستین میں چھپے سانپ باہر آ گئے ہیں‘‘ کافی سخت اور ہلچل مچانے والے الفاظ ہیں۔ وہاں حمزہ نے بھی دونوں کو لتاڑا البتہ نواز اپنے مقدمے اور ’’مہروں‘‘ کا ذکر کرتے رہے۔ البتہ بلاول بھٹو بے چارہ کوشش تو کر رہا ہے کوٹلی ستیاں میں جلسہ کیا۔ یہ ایک ایسی جماعت کے چیئرمین کا جلسہ تھا اس کے پیش رو بھٹو اور بینظیر جلسوں کا خوب رنگ جماتے تھے۔ بلاول زرداری شعلہ بیان مقرر تو بن جائے گا مگر وہ عوام کو اپنا بیانیہ نہیں سمجھا سکتا۔ بلاول کا نشانہ عمران خان اور نواز شریف تھے۔ جلسہ تھا مگر بہت بڑا تھا۔ پیپلزپارٹی کے چار کا رکن نظر نہیں آئے۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی پریس کانفرنس میں احتساب اور کرپشن کے
چاچے مامے کا ذکر کیا۔ اسفند یار بھی بولے مگر اصل ٹارگٹ عمران خان بنے۔ عمران نے بلاول سے پوچھ ہی لیا ابا زرداری اربوں پتی کیسے بنا ۔ نواز شریف کو سینیٹ میں شکست دینے کے لیے کپتان نے پیپلزپارٹی کے ڈپٹی سپیکر کو اپنے تیرہ کے تیرہ ووٹ دے دیئے پھر بھی کہو کچھ نہیں ہوا۔۔۔ اودھم مچا تو امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی پیچھے نہ رہے۔ انہوں نے ڈاکٹر قدیر کا نام پیش کر دیا۔ اُن کو نگران وزیراعظم بناؤ۔ اس دوڑ میں میاں رضا ربانی بھی فیورٹ بن گئے ہیں۔ دونوں نام مقتدر قوت کو قبول نہیں۔ سیاست دانوں نے 18 ویں ترمیم میں شامل اصلاحات کے لیے نگران وزیراعظم کا معاملہ طے کیا تھا مگر یہاں تو کوئی اور معاملہ ہے۔ میرا بندہ وزیراعظم بناؤ والا معاملہ ہے کیونکہ یہ نگران بن کر میری بات کرے گا۔ 2013ء میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے نگران وزیر اعظم کے لیے ڈاکٹر حفیظ شیخ ، عشرت حسین اور جسٹس ہزار خان کھوسو کے نام دیئے۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار نے جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس ریٹائر شاکر اللہ خان اور سندھی رہنما رسول بخش پلیجو کا نام پیش کیا۔ مسلم لیگ کو تینوں نام قابل قبول تھے۔ مسلم لیگ کو اعتراض تھا کہ حفیظ شیخ اور عشرت حسین مشرف کی اقتصادی ٹیم کا حصہ تھے۔ جسٹس کھوسو پیپلزپارٹی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں جبکہ جسٹس ناصر اسلم مضبوط امیدوار تھے۔ وہ سپریم کورٹ کے جج رہے مرتضیٰ بھٹو کمیشن میں جو ’’فائنڈنگ‘‘ دی تھی وہ پیپلزپارٹی کو قبول نہیں تھی جبکہ جسٹس نظام کے قتل میں زرداری کا نام آیا تھا وہ جسٹس ناصر اسلم کے رشتہ دار تھے۔ جسٹس شاکر اللہ کا نام (ن) لیگ نے واپس لے لیا تھا۔ ایک طرح دونوں جانب سے تینوں نام مسترد ہو گئے، چاہتے تو مفاہمت ہو سکتی تھی مگر صدر کا معاملہ سامنے آ گیا۔ اس طرح پیپلزپارٹی کی حکومت کے 5 سال مکمل ہوئے۔ قومی اسمبلی اور کابینہ تحلیل ہو گئی۔ اس کے باوجود نگران وزیراعظم کا مسئلہ حل نہ ہوا، راجہ پرویز اشرف اور چوہدری نثار نے رضا ربانی ، اسحاق ڈار اور محمود اچکزئی کے ناموں پر بھی غور کیا یہ بیل بھی مونڈھے نہ چڑھ سکی اور معاملہ آٹھ رکنی کمیٹی کے پاس چلا گیا۔ حکومت کے ممبران میں فاروق نائیک ، خورشید شاہ، غلام احمد بلور اور چوہدری شجاعت شامل تھے جبکہ اپوزیشن کے ارکان مہتاب عباسی، سعد رفیق یقوب ناصر اور پرویز رشید تھے۔ مگر پہلا اجلاس ہی ناکام ہو گیا۔ معاملہ حل ہو سکتاتھا مگر نیت درست نہیں تھی ’’شک‘‘ کا پہلو اور بدگمانی ہر طرف سے ہے۔ اس طرح الیکشن کمیشن کے سربراہ فخر الدین جی ابراہیم نے 3 ارکان کی کثرت رائے سے پیپلزپارٹی کے نامزد جسٹس کھوسو کا نام وزیراعظم کے لیے فائنل کر دیا ایک رکن نے اختلاف کیا ۔ امید ہے سیاستدان ہوش کے ناخن لیں اور نیک نیتی سے جمہوریت کو چلائیں۔ سب پارٹیاں حصہ لیں اور کوئی مائنس نہ ہو، سننے کو تو بہت سی خبریں ملتی ہیں۔
آج بھی بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ ایسی امیدیں باندھے بیٹھے ہیں۔ جو آج کے دور میں غیر آئینی ہی نہیں بلکہ نہ ممکن ہے۔ ایک محترمہ اینکر جو کسی زمانے میں تحریک انصاف میں میڈیا ایڈوائزر ہوا کرتی تھیں اور اب وہ غیر جانبدار اینکر بن کر برین واش کر رہی ہیں کہ دو سال کے لیے کیئر ٹیکر حکومت آ رہی ہے اور سب کی صفائی ’احتساب‘ ضروری ہے مگر کرتا کوئی نہیں مگر دو سال کی نگران حکومت کا حق کسی بندے کا نہیں آئین پاکستان کا دیا ہوا۔ کوئی سمجھائے تو سہی کہ یہ سارا کام آئین کے مطابق کیسے ہو گا۔ نہ ملک میں جنگ لگی ہوئی ہے اور نہ ایسی خوفناک آفت ہے۔ پھر نہ جانے ہم دو سال کے فارمولے کو کیسے نافذ کریں گے۔ ہم نے پہلی بار دنیا کے صادق اور امین شخص معین قریشی کا تجربہ کیا۔ کہا تو یہی گیا تھا کہ دو سال کے لیے آیا ہے معیشت اور کرپشن ٹھیک کرے گا۔ بے شک معین قریشی کی جڑیں خورشید محمود قصوری کے خاندان سے جڑی ہوئی تھیں مگر سب پرانی باتیں تھیں۔ وہ امریکی تھا اور امریکہ نواز بھی۔ اس کے پاس تو پاکستان کا شناختی کارڈ بھی نہیں تھا۔ مگر کیا ہوا۔ قرضے معاف کرانے والوں کے نام شائع کیے۔ ڈیفالٹر کا اتا پتا بتایا۔ معیشت کو درست کرنے کے اقدام کیے مگر عملی نتائج نہ نکلنے تھے اور نہ نکلے۔ جن لوگوں نے نواز شریف کو پہلے 17 اپریل 1993ء اور پھر ’’کاکڑ فارمولے‘‘ کے تحت جولائی 1993ء میں نکالا تھا۔ انہوں نے اس لیے نہیں نکالا تھا نواز شریف پھر آ جائے۔ جھکاؤ دوسری طرف صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بینظیر آ گئی پرانا کھیل شروع ہو گیا۔ پھر بینظیر بھٹو کو نکالا ۔ کسی اور نے نہیں اپنے جیالے صدر پاکستان فاروق لغاری نے تھا۔ کرپشن کا طوفان اتنا شدید تھا کہ صدر نے بینظیر کے قریبی وزراء کو بلایا سمجھایا کہ کرپشن کو رو کو، نہ روکا تو پاکستان ڈوب جائے گا۔مگر خود محترمہ لغاری کے سامنے آ گئی۔ صدر نے کہا احتساب کا کوئی نظام نہیں ۔ بینظیر بھٹو کو یہ برا لگا مگر جیالے صدر نے لکھ دیا سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی اور چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کو کرپشن پر قانون سازی کرو، دوسری جانب بینظیر بھٹو کی حکمرانی کا یہ عالم تھا کہ مرتضیٰ بھٹو نے بہن سے احتجاج کیا۔ احتجاج زرداری کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تھا۔ بینظیر بھٹو نے 93ء کے انتخاب کے بعد پہلا کام یہ کیا نصرت بھٹو جن کو ابتلا کے زمانے میں پارٹی کا تاحیات چیئرپرسن بنایا تھا ان کی جگہ خود چیئرپرسن بن گئی۔ پھر بھائی قتل ہوا۔ یہ ماضی کی باتیں اب ٹوٹ بٹوٹ کی کھیر تیار ہو رہی ہے، سنگین غداری کا ملزم آ رہا ہے پہلے بھی مارچ 2013ء میں آیا تھا۔ لاکھوں لوگوں نے استقبال کرنا تھا۔ اڑھائی سو لوگ بھی نہ آئے۔ جس شخص نے نواز کو جلا وطن کیا اب وہ پاکستان میں آ کر پھنس گیا۔ بینظیر قتل، اکبر بگٹی قتل، لال مسجد سانحہ ، ججوں کو نظر بندی، سنگین غداری کیس، گھر جیل خانہ قرار، نام ای سی ایل میں شامل۔ عدالت کے حکم پر گیا۔ اب واپس آ رہا ہے۔ شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے۔ خود آ رہا ہے۔ آئے گا اس دن جب وزیراعظم عباسی جائے گا۔ اب سیاست میں اس بھگوڑے کی کمی تھی۔ اللہ حافظ ہے جمہوریت کا۔


ای پیپر