سندھی زبان کو لازمی مضمون قرار دیا جائے
19 مارچ 2018


گزشتہ دنوں ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی جانب سے ایک معاون ڈاکٹر کو ایک مریض سے سندھی میں بات کرنے پر نہ صرف ڈانٹا گیابلکہ اس کو شو کاز نوٹس جاری کردیا۔ اس معاملے پر اشتعال پھیل گیا۔ صوبے کے مختلف شہروں میں اتوار کے روز احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ معاملہ بڑے پیمانے پر زیر بحث آیا۔ سندھ کے لوگ زبان اور ثقافت کے حوالے سے حساس ہیں۔ اس احتجاج کے بعد ڈاکٹر فہیم کی سوشل میڈیا پر ویڈیو آئی جس میں انہوں نے معافی مانگی اور کہا کہ اب وہ خود بھی سندھی سیکھیں گے اور سندھی میں بات کرنے کی کوشش کریں گے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ زبان کا معاملہ پاکستان میں حساس رہا ہے۔ بنگال میں قوم پرست تحریک کا آغاز بھی بنگالی زبان کے مسئلہ پر ہوا تھا۔ سندھی زبان کا مسئلہ سب سے پہلے اس وقت کھڑا ہوا جب ون یونٹ کے بعد ایوب خان نے سندھی زبان کو محدود کردیا تھا۔ اور اردو پڑھائی جانے لگی۔ قیام پاکستان کے بعد بڑے پیمانے پر بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ بڑے پیمانے پر سندھ میں بسائے گئے۔ جبکہ اس بٹوارے کی وجہ سے سندھ سے مڈل کلاس جو کہ ہندو آبادی پر مشتمل تھی، بھارت چلی گئی ۔ اس طبقے کا خلاء باہر سے آنے والی آبادی نے بھرا۔ لہٰذا سندھی کو خطرہ محسوس ہوا۔ یہ خطرہ ایوب کے احکامات اور ون یونٹ کی وجہ سے مزید بڑھ گیا۔ سندھ کے لوگ زبان کو بچانے اور اس کو سرکاری حیثیت دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔
سندھ کے لوگوں کی وسیع القلبی ہے کہ سندھ کا تقریباً ہر باشندہ اردو بول سکتا ہے بلکہ بولتا بھی ہے۔ سندھی کا ہر پڑھا لکھا بندہ اردو پڑھ سکتا ہے اور لکھ بھی سکتا ہے۔ بلکہ سندھی بولنے والے کئی لکھاری اردو میں لکھتے ہیں اور اس وجہ سے شہرت بھی حاصل کی ہے۔ ایک صورت حال یہ بھی ہے کہ پنجاب سے آکر سندھ میں بسنے والے آبادکار گھروں میں چاہے پنجابی بولتے ہوں لیکن پڑھتے سندھی ہی ہیں اور کسی عام سندھی جتنی ہی سندھی جانتے ہیں اور بولتے ہیں۔ سندھی کے ایک بڑے شاعر وفا ناتھن شاہی بنیادی طور پر پنجابی سیٹلر ہیں۔ ان کی شاعری سے کہیں نہیں لگتا کہ وہ سندھی بولنے والے سندھی نہیں۔ سندھ کے ایک مشہور گائیک سرمد سندھی جو سندھی قوم پرست سندھی نغمے گانے کی وجہ سے مشہور ہوئے، وہ بھی پنجابی سیٹلر ہیں۔
سندھ میں سندھی ، اردو،سرائیکی، براہوی ،، بلوچی، ڈھاٹکی اور مارواڑی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ اسی طرح سے پنجاب میں پنجابی کے علاوہ سرائیکی ، بلوچستان میں
بلوچی، براہوی اور پشتو، جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتو کے علاوہ بلتی، شینا، اور دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔
اردو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دی گئی ہے لیکن عملی طور پر انگریزی ہی سرکاری زبان ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عام فہم ہونے کی وجہ سے اردو حقیقی معنوں میں رابطے کی زبان ہے۔ لہٰذا یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ ملک کی دوسری زبانوں کی ترقی کی وجہ سے پاکستان میں اردو کو خطرہ ہے۔ دنیا میں کئی ممالک اور صوبے موجود ہیں جہاں ایک سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔
سندھ کا یہ المیہ ہے کہ زبان کے نام پر سیاست بھی ہوتی رہی اور فسادت بھی۔ دنیا کا کوئی بھی قانون اور مذہب کسی بھی زبان بولنے سے نہیں روکتا۔ یہ درست ہے کہ ایک سے زائد زبانیں آنا ایک اضافی صلاحیت مانی جاتی ہے ۔ لیکن کسی زبان کو دبانا یا اس سے نفرت کرنا تعصب مانا جاتا ہے اور وہ نسلی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔
ہمارے ہاں زبان کی سیاست بھی ہوتی رہی ہے۔ اس بنیاد پر فساد ات بھی ہوئے تھے۔ اردو کو مہاجر سیاست کا بھی حصہ بنایا جاتا رہا۔
اگر ایک ڈاکٹرسندھی نہیں بولتا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب کے ہسپتال میں ڈاکٹر یا مریض کو پنجابی میں، بلوچستان میں بلوچی میں اور خیبرپختونخوا میں پشتو میں بات کرنے سے روکنا کتنا صحیح ہوگا؟ جبکہ سندھ میں سندھی قانونی طور پر سرکاری اور دفتری زبان ہے۔یہ درست ہے کہ سندھی صوبے کے سکولوں میں نہیں پڑھائی جارہی ہے۔ لہٰذا سندھی کا استعمال کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ سندھ میں اگرچہ گریڈ 17 سے زائدگریڈ میں ترقی کے لئے مقامی زبان یعنی سندھی آنا لازمی ہے۔ لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔ اب جب انتخابات کا موسم شروع ہونے والا ہے ایسے میں اگر لسانی بنیاد پر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، اس کو کیش کرانے کے لئے مختلف سیاسی گروہ موجود ہیں۔ جو اس واقعہ کو بہت آگے تک لے جاسکتے ہیں۔
سندھی اس صوبے کی نہ صرف اصل زبان ہے بلکہ اکثریت یہی زبان بولتی ہے۔ سندھی پاکستان کی واحد صوبائی زبان ہے جس کئی صدیوں سے رسم الخط ہے اور یہ زبان بطور ذریعہ تعلیم رہی ہے۔ اس زبان کا ادب ہزروں بلکہ لاکھوں کتابوں پر مشتمل شایع ہو چکا ہے۔ اس زبان میں ایک سو سے زائد اخبارات کو حکومتی سطح پر قانونی لحاظ سے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اگرچہ حکومت نے سندھی زبان لینگوئج اتھارٹی کا قیام اس مقصد کے لئے عمل میں لائی تھی کہ وہ سندھی کو دفتری زبان بنانے کے لئے اقدامات کرے۔ لیکن اس ادارے کی کارکرادگی خال خال رہی۔ دوسری جانب صوبے میں سرکاری شعبے کے سکولوں کی کارکردگی نہایت ہی خراب رہی۔ نتیجہ لوگ اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں داخلہ دلانے لگے۔ جہاں پر سندھی تھرڈ لینگوئج کے طور پڑھائی جاتی ہے۔ عملی طور پر یہاں بھی سندھی کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایانہیں جارہا ہے۔ دراصل یہ حکومت سندھ کی ناکامی ہے کہ وہ پورے طور پر سندھی کو سکولوں میں لازمی طور پر پڑھا سکی نہ دفتری زبان بنا سکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت سرکاری سکولوں میں سندھی مضمون کو لازمی اور بہتر طور پر پڑھانے کو یقینی بنائے۔ سندھی کو دفتری زبان بنانے کے لئے مطلوبہ اور ٹھوس اقدامات کرے۔ اگلے گریڈ میں ترقی کے لئے لازمی شرط پر سختی کے ساتھ عمل کرے۔ اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ معاملے کو لسانی رنگ دینے یا نفرت پیدا کرکے تعصب پھیلانے کے بجائے ایک انسانی غلطی قرار دے کر معافی مانگنے پر ’’ملزم‘‘ ڈاکٹر کو معاف کردیا جائے ۔


ای پیپر