درمیانی مدت کا وزیر اعظم۔۔۔؟
19 مارچ 2018

موسم بدلا ۔۔۔ بارش ہو یا نہ ہو ڈاکٹروں کے کلینک پر مریضوں کی موسلا دھار بارش جاری ہے، مریضوں کے کھانسنے کی آوازیں جیسے بادل گرج رہے ہوں اور نزلے برس رہے ہوں ۔۔۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں سرکاری ہسپتال کی حالت زار دیکھ کر لوگ پرائیویٹ کلینک پر جانے پر مجبور ہیں ۔۔۔
زندگی تو سب کو عزیز ہے ناں ایک دوست اچھی غزلیں گاتے ہیں کہیں کسی جگہ بہت سے دوست اکٹھے ہو گئے کچھ مہمان بیرون ملک سے بھی تشریف لائے تھے، بارش جاری تھی بھیگی شام سردیوں کی ایسی شام میں اندھیرا بھی نہیں ڈراتا بلکہ اچھا لگتا ہے ۔۔۔ تھوڑا بہت مرغ مسلم، خشک میوے اور دوستوں کی فرمائش جناب کچھ سنائیں ۔۔۔ سنا ہے کمال کا گاتے ہیں آپ، سوری ویری سوری کچھ گلا خراب ہے حرارت بھی ہے بس ذرا طبیعت ناساز ہے موسم نے کچھ زیادہ ہی اثر کر دیا ہے دوستوں نے ذرا زور دے کر فرمائش کر دی تو حسب معمول گلا صاف کیا، شرما کے ادھر اُدھر دیکھا اور ارشاد فرمایا ’’بس زیادہ نہیں گا سکوں گا ایک دو اشعار ہی ہو سکیں گے‘‘ ذرا گلا (اپنا گلا خود ہی دونوں ہاتھوں سے باقاعدہ دباتے ہوئے) بس کچھ زیادہ ہی ہو گیا اور ’’چوتھے کالے‘‘ سے موصوف نے جو شارٹ لیا تو شام چوراسی اور صبح پچاسی والے سب دنگ رہ گئے ہم نے تو حسب حکم دو اشعار سنائے اور اپنے باس کے ڈر سے جلدی ہی اُٹھ گئے ہاں البتہ صبح لوگوں نے بتایا کہ محفل صبح تین بجے ختم کی گئی شاید بائیس غزلیں وغیرہ ہی گائی گئیں ۔۔۔ خدا کی پناہ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں گلے خراب کے ساتھ موصوف بائیس غزلیں (صرف) گا گئے اور اگر خدا نخواستہ گلا ٹھیک ہوتا تو خدا کی پناہ ۔۔۔ بہرحال قدر دان بھی موجود ہیں اور اپنے اپنے حلقوں میں نہایت کمال فنکار بھی ہمارے یہاں موجود ہیں مگر افسوس کے حکومتی سطح پر وہ سرپرستی ابھی میسر نہیں جو ہونی چاہئے مہدی حسن صاحب جو بلا شبہ Legend ہیں اور اُن کا نام پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے، محترمہ ریشماں صاحبہ ہیں بیماریوں نے گھیر رکھا ہے مگر کوئی پرسان حال نہیں سنا ہے، صحافتی دنیا کے ایک تابندہ ستارے جن کا زمانہ احترام کرتا اور تقلید بھی ۔۔۔ اور ہم سب اُن کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں ایک دفعہ محترمہ ریشماں صاحبہ ادارے کی بلڈنگ میں تشریف لائیں تو موصوف نے خیر و خریت دریافت کی تو پتا چلا کہ محترمہ بیمار ہیں تو کمال عزت و احترام سے پیش آئے اور اپنے سٹاف سے کہا کہ ایک معقول رقم بیمار فنکارہ کو ہر ماہ دی جائے اور پھر انہیں روایتی طریقے سے پورے احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ اس طرح کے بزرگ تو نمود و نمائش کے بغیر چپکے سے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں ہمیں بھی بلاشبہ اس معاملہ میں بھی اُس کی تقلید کرنی چاہئے۔ بات شروع ہوئی تھی بائیس غزلوں کی اور پہنچ گئی فنکاروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں تک ۔۔۔ عابد کمالوی کا شعر یاد آیا ۔۔۔
عمر بھر سازشیں ہوتی رہیں میرے خلاف
مر گیا تو ریفرینس برسیاں ہونے لگیں
کچھ عرصے پہلے پرویز مہدی ابھی زندہ تھے تو مرحوم نے ایک محفل میں ایک جگہ اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا، مہمان بھی تشریف فرمائے تھے، عین اُس جگہ ایک عمر رسیدہ شخص آ کر بیٹھ گیا جہاں بیٹھ کر پرویز مہدی نے گانا تھا اور بلند آواز میں وہ عمر رسیدہ شخص بولا ’’پرویز سناؤ تم نے اپنا گانا بہتر کیا ہے یا پہلے جیسا ہی ہے عطائیوں جیسا‘‘ ۔۔۔ پرویز مہدی بجلی کی تیزی کے ساتھ اُٹھے اور سیدھا سٹیج پر آئے اور اُس عمر رسیدہ شخص کے کان میں کچھ کہا اور دونوں تیز تیز قدم اُٹھاتے ہال سے باہر نکل گئے۔ کچھ دیر بعد پرویز مہدی اکیلے ہی ہانپتے کانپتے ہال میں واپس آئے تو لوگوں نے تھوڑا سا شور مچایا ’’مذاکرات ۔۔۔ مذاکرات ۔۔۔ ہاں ہاں‘‘۔۔۔
پرویز مہدی بولے ’’ہاں ہاں کامیاب ہو گئے مذاکرات، کامیاب ہو گئے‘‘ ۔۔۔ اور سارا ہال قہقہے لگانے لگا۔ ہر کام کی اپنی باریکیاں ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ وقت آنے کے ساتھ ساتھ سمجھ میں بھی آ جاتی ہیں اور تجربہ اُن سے نبرد آزما ہونے کے طریقے بھی سکھا دیتا ہے ویسے مذاکرات کا عمل بھی جاری رہنا چاہئے کیونکہ موسم بھی بدلتے رہتے ہیں اور شدید گرمی کے بعد شدید سردی بھی آ جاتی ہے اور پھر بارشیں بھی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ بادل گرجنے اور نزلے برسنے کا خوف بھی ہوتا ہے۔ ویسے بھی ’’امن کا راگ‘‘ سب سے اچھا راگ ہوتا ہے جس کے لیے موسم کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ۔۔۔ نہ ہی ’’امن کے راگ‘‘ کے لیے صبح دوپہر یا شام کا وقت متعین ہے۔ یہ راگ کسی بھی وقت گایا جا سکتا ہے کیونکہ عوام کی اکثریت اس راگ کو سننے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔ یہ راگ کوئی عطائی فنکار بھی گا سکتا ہے۔ دنیا میں اٹامک راگ گانے کی بھی ہر وقت تیاریاں ہوتی رہتی ہیں یقیناًوہ راگ اگر چھڑ گیا تو لوگوں کے کانوں کے پردے بھی پھٹ جائیں گے اور شاید دماغ بھی ۔۔۔ لوگ اٹامک راگ کے بارے میں پوری طرح باخبر ہیں اس لیے سب کو ہوش سے کام لینا چاہئے۔ اچھا فنکار عوام کا نبض شناس ہوتا ہے اس لیے بڑے فنکاروں کو چاہئے کہ وہ ایک بڑی سی محفل سجائیں اور ’’امن کا راگ‘‘ چھیڑ دیں لوگ ساتھ مل جائیں گے اور یہ خراب گلے کے باوجود صبح سوا تین بجے تک جاری رہے گا کیونکہ لوگوں کو مزہ آئے گا ۔۔۔ دیر کے بعد یہ راگ سن کر خوشی بھی محسوس ہو گی مگر ضروری ہے کہ بڑے فنکار بھی سٹیج پر موجود ہوں ۔۔۔
بڑے فنکار سے آپ میری مراد سمجھ گئے ہوں گے کیونکہ سب سے بڑے فنکار ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ایک سال مکمل جو کر لیا ہے اور اس کے ساتھ امریکی اداروں نے دنیا بھر کو یہ خبر بھی سنائی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ میڈیکل چیک اپ میں بھی ’’فٹ ‘‘ قرار پائے ہیں۔ وہ بڑے بڑے لوگوں کی نقلیں اتارتا ہے دھمکی بھی دیتا ہے اور شرمسار بھی نہیں ہوتا۔ یہ اُس کی عادت ہے اور بری عادتیں عام طور پر نہیں بدلتیں ۔۔۔ ہمارے ہاں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے پیروکار موجود ہیں آپ جانتے ہی ہیں میری وضاحت معاملے کو گھمبیر بنا دے گئی ۔۔۔ اُدھر روس میں چوتھی مرتبہ ولادی میر پیوٹن کے صدر بن جانے کی امید پیدا ہو چکی ہے جبکہ ہمارے ہاں آخری خبریں آنے تک کچھ سیاسی جماعتوں کی اس بات پر سوئی اڑ گئی ہے کہ درمیانی مدت میں وزیر اعظم کے طور پر ہر ’’دلعزیز‘‘ شیخ رشید آف لال حویلی پسندیدہ ترین امید وار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں ۔۔۔ ان حالات میں جبکہ اچانک سینٹ کے چےئرمین کی حیثیت سے صادق سنجرانی سامنے آئے اور لوگوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور وہ سینٹ کے چےئرمین کے طور پر کرسی پر براجمان بھی ہو گئے ایسے میں کل کلاں کو لگتا ہے کہ شیخ رشید آف لال حویلی بھی کہیں درمیانی مدت کے لیے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھا رہے ہوں ۔۔۔
آپ جانتے ہیں پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہمیشہ لاہور ہی رہا ہے اور اس مرکز سے جو بھی ابھرا وہ مرکزِ نگاہ بن گیا بھٹو سے لے کر نواز شریف تک ۔۔۔
مگر افسوس کہ چودہ جماعتی ۔۔۔ یا شاید اس سے بھی زیادہ جماعتی اتحاد کا آخری جلسہ اسی شہرِ لاہور میں بری طرح ’’فلاپ‘‘ ہو چکا ہے جہاں آخری خبریں آنے تک ہمارے پیارے شیخ رشید آف لال حویلی نے خالی کرسیوں سے خطاب کرتے ہوئے بڑھک ماری یعنی نئے سال کے پہلے مہینے کا سب سے بڑا جھوٹ بولا یعنی استعفیٰ دینے کا ’’لالی پوپ‘‘ دے ڈالا اور حسب معمول پھر اپنے کہے سے مکر گئے اور بتایا کہ لوگو دنیا میں ’’راگ جئے جئے ونتی‘‘ کے علاوہ ’’راگ یو ٹیرن‘‘ بھی گایا جاتا ہے اور عوام کو یہ راگ کچھ زیادہ اچھا نہیں لگتا لیکن ہمارے سیاسی فنکار یہ راگ الاپتے رہتے ہیں حالانکہ دنیا بھر کو میرا یہی پیغام ہے کہ صرف ’’امن کا راگ‘‘ ہی عوامی راگ ہے جو ہر دور میں پسند کیا جاتا ہے دنیا کے ہر کونے میں ۔۔۔


ای پیپر