پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ امن!
19 مارچ 2018

افغانستان کی سنگلاخ چٹا نیں ،صحرا اور بیاباں 3 عالمی طاقتوں گریٹ بر طا نیہ ،سابق سوویت یو نین اور امریکا کے مدفن ہیں۔ گر یٹ بر طانیہ جس کو غرور تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہو تا، افغانستان کی وادیوں میں اس کا سورج ایسا ڈوبا کہ عشرے گزر گئے لیکن اس کا سورج دوبارہ طلوع نہیں ہوا، اور نہ ہی مستقبل میں دوبارہ زمینی آسمان پر ان کا آفتاب طلوع ہو نے کی کو ئی امید ہے۔سوویت یونین جس نے نظریاتی یلغار کی وجہ سے پوری دنیا میں ارتعاش پیدا کیا تھا۔ عالمی سطح پر کمیو نزم جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا تھا ۔اس وقت کوئی بھی نظریہ کمیونزم کے خلاف کھڑا ہو نے کو تیار نہیں تھا،اسی دوران سوویت یونین نے نظریاتی فتح کے بعد جغرافیائی طورپر بھی افغانستان کی سرزمین کو قبضہ کرنے کے لئے اپنی فوجیں وہاں اتاریں۔قریباً دس سال سوویت یونین تمام تر جدید جنگی الات کے ساتھ وہاں مو جود رہا۔لیکن آخر کار انھوں نے شکست تسلیم کرتے ہو ئے وہاں سے نہ صرف پسپائی اختیار کی بلکہ عالمی بادشاہت کا پگ بھی ان سے چھین لیا گیا۔سپر پاور کا مر تبہ کھونے کے بعد سوویت یونین کا پورا وجود ٹکڑوں میں بٹ گیا۔دنیا اب اس کو سوویت یونین نہیں بلکہ روس کے نام سے جانتی ہے۔
گزشتہ کئی صدیوں کی تاریخی حقیقت تو یہی ہے کہ کو ئی بھی زمینی سپر پاور افغانستان میں داخل ہو نے سے اجتناب کرے ،لیکن عالمی بادشاہت کے نشے سے سرشار ریاست ’’متحدہ ریاست ہائے امریکا‘‘ نے اکتوبر 2001 ء میں عالمی طاقتوں کے اس قبر ستان میں اپنی فوجیں اتار دیں۔17 سال مکمل ہو نے کو ہیں ،لیکن تا حال امریکا تمام تر جدید ٹیکنالوجی اور جاسوسی نظام کے ساتھ اس سرزمین کو قبضہ نہ کر سکا۔حقیقت یہی ہے کہ افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ جنگ اب فوجی طاقت سے جیتنا ممکن نہیں رہا۔تمام فریقین افغانستان ،افغان طالبان اور امریکا اس بات کا بر ملا اظہار کر رہے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے ’’جا مع بات چیت‘‘ کا آغاز کیا جائے۔متعلقہ فریقین کے علاوہ پڑوسی ممالک پاکستان ،ایران،چین ،روس اور پوری دنیا بھی اس نکتے پر متفق ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے تمام فریقین کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں۔
گز شتہ دومہینوں میں افغانستان میں قیام امن کے متعلقہ فریقین سرگرم ہے۔ افغانستان میں امریکا کے خلاف بر سرپیکار مزاحمتی گروپ افغان طالبان نے قابض امریکا کو بات چیت کی پیشکش کی ہے ۔اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اس پیشکش کو بے دردی کے ساتھ مسترد کیا ہے لیکن ریاست کی طر ف سے ابھی تک کو ئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔اسی طرح افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کر نے ،ان کے ساتھ بات چیت کرنے ،کابل میں سیاسی دفتر کھولنے اور آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی پیشکش کی ہے ،لیکن ابھی تک افغان طالبان کی طر ف سے اس حوالے سے واضح جو اب سامنے نہیں آیا ہے۔بہر صورت گز شتہ دواڑھائی مہینوں میں تمام فریقین کی طرف سے جو اعلا نات سامنے آئے ہیں اس سے یہ بات واضح ہے کہ اس پر اتفاق ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہی ہے۔
گز شتہ چند دنوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی امن بات چیت کے لئے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر نا صر خان جنجو عہ افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں۔کابل میں انہوں نے افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیگٹیو ڈاکٹر عبداللہ سے ملا قاتیں بھی کی ہیں۔ان ملا قاتوں میں افغان صدر اس بات کو کھلے دل سے تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کا امن مشترکہ ہے، آئے اور کابل اور اسلام آباد مل کر اس کو تلاش کر تے ہیں۔اسی طر ح افغان صدر نے ایک نیا نعرہ بھی دیا ہے کہ دہشت گر دی کے خلاف جاری اس جنگ کو جیتنا نہیں بلکہ اس کو ختم کر نا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم گز شتہ دو اڑھائی مہینوں کی کو ششوں کو سامنے رکھیں توکیا ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان مشترکہ امن کی جانب بڑھ رہے ہیں؟اس سوال کا جواب فی الحال نفی میں ہے۔اس لئے کہ دونوں ملکوں میں حکومتیں تبدیل ہو رہی ہیں۔جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہے۔دوسرا یہ کہ افغان طالبان اس وقت ڈاکٹر اشرف غنی کی طرف سے امن کو ششوں کو تیز کر نے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو خدشہ ہے کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اس امن بات چیت کو آنے والے صدارتی انتخابات میں اپنے لئے انتخابی نعرے کے طورپر استعمال کر یں گے۔دوسرا طالبان کو اس بات پر بھی شک ہے کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی امریکی اعتماد کو کھو چکے ہیں ،اس لئے وہ ہمارا سہارا لے کر انتخابی عمل میں حصہ لینا چا ہتے ہیں۔ان کے یہ خدشات کس حد تک درست ہیں۔ ان کا پتہ آئندہ بر س ہونے والے انتخابات کے بعد ہو جائے گا۔لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ افغان طالبان چند مہینوں کی مہمان حکومت سے مذاکرات نہیں کرینگے۔
اس کے ساتھ ہی طالبان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے زیادہ تر حصوں میں ان کا اثر و رسوخ زیادہ ہے ،اس لئے وہ اس حکومت کے ساتھ بات چیت ہر گز نہیں کر ینگے کہ جس کا افغانستان کے زیادہ تر حصوں میں عمل داری نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم نے ان کی بالا دستی کو تسلیم کر لیا ہے۔اس کے بر عکس افغان طالبان کابل حکومت کی بجائے امریکا کے ساتھ بر اہ راست مذاکرات پر راضی ہے،لیکن واشنگٹن آمادہ نہیں ہے۔افغان امور کے مبصریں کا خیال ہے کہ امریکا افغان طالبان کے ساتھ بر اہ راست مذاکرات سے انکاری اس لئے ہے کہ اس کو خدشہ ہے کہ اس سے دنیا کو پیغام جائے گا کہ امریکا نے افغانستان میں شکست کو تسلیم کر لیا ہے۔جس کی وجہ سے اس کی سپرپاور سٹیٹس کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اگر امریکا افغان طالبان کے ساتھ بر اہ راست مذاکرات کے لئے راضی ہو جا تا ہے اور یہ بات چیت ناکامی سے ہمکنار ہو جاتی ہے تو پھر امریکا کے ساتھ اس آپشن کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں رہے گا کہ وہ افغانستان سے مکمل انخلاء کرے۔
بہر کیف اسلام آباد اور کابل کو مشترکہ امن تلاش کر نے میں ابھی وقت لگے گا۔دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کو جیتنے کی بجائے ختم کرنے میں ابھی کئی اور سال بھی لگیں گے،لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر امن کو ششوں کو کابل اور اسلام آباد میں قائم ہونے والی نئی حکومتوں نے بھی جاری رکھا تو وہ دن دور نہیں کہ سرحد کے دونوں اطراف قیام امن کا خواب سالوں میں شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سفارتی ،پارلیمانی اور عسکری سطح پر بات چیت کے سلسلے کو ٹوٹنے نہ دیا جائے۔


ای پیپر