19 مارچ 2018 2018-03-19

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ پڑھنے سے میں مایوسی میں ڈوبنے لگا۔ اس رپورٹ کے مطابق اوسطاً ایک لاکھ افراد میں سے 18افراد کی موت ٹریفک ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور اِن میں سے بانوے فیصد اموات اُن ممالک میں ہوتی ہیں جو کم اور درمیانے درجہ کی آمدن والے ہیں۔ جن میں جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک اور افریقی ممالک سرِ فہرست ہیں ۔ یہ ذہن میں رہے کہ اپنا پیارا پاکستان جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے اور کم درجے کی آمدن والا ملک بھی ہے۔ کینیڈا میں ایک لاکھ افراد میں سے صرف 6.8افراد کی اموات روڈ ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں ایک لاکھ افراد میں سے صرف 2.75افراد کی اموات روڈ ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ لیکن اپنے پیارے پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں سے 17.4افراد کی اموات روڈ ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) امریکہ کی رپورٹ کے مطابق کل گاڑیوں کے ایکسیڈینٹ میں سے تقریباً 25 فیصد ایکسیڈینٹ دوران ِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال کرنے والے نوجوان کا کسی ایمرجنسی کی صورت میں reaction timeاک ستّر سال کے بوڑھے آدمی کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہ تمام پڑھ کر مجھے لاہور جو پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور پنجاب کا صوبائی دارالخلافہ ہے ، کی ٹریفک کا خیال آرہا تھا۔ اِس بات سے تو(سوائے ٹریفک ملازمین کے) سو فیصد لوگ متفق ہونگے کہ لاہور کی ٹریفک کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ ہر روز لوگوں کو دوران ِ ڈرائیونگ موبائل استعمال کرتے نہیں دیکھتے؟ کئی حضرات تو دوران ِ ڈرائیونگ ontacts c میں سے مطلوبہ نمبر تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ اورکئی با قا عدہ میسجنگ کر رہے ہو تے ہیں۔ یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ بڑی قیمتی گاڑی والے نے تو ضرور اپنے قیمتی موبائل سے دوران ڈرائیونگ لمبی بات کرنی ہوتی ہے بلکہ اپنے پورے سفر کے دوران موبائل پر بات کرنا ہی اُسے VIP لوگوں کی قطار میں کھڑا کرتا ہے۔ یہ صرف مرد حضرات تک ہی موقوف نہیں ہے بلکہ ذرا ماڈرن خواتین کا بھی یہی طور طریقہ ہے۔ موبائل فون کے استعمال میں موٹر سائیکل حضرات بھی کسی سے کم نہیں۔ آپ روزانہ سڑکوں پر دیکھتے ہوں گے کہ موٹر سائیکل سوار ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل کا ہینڈل پکڑے دوسرے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے لمبی گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا خلاف قانون نہیں ہے۔ یقیناًایسا کرنا خلاف قانون ہے تو پھر اس پر عمل درآمد کروانا کس کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ بلاشبہ اِس کی ذمہ دار لاہور ٹریفک پولیس ہے۔
مجھے یاد ہے کہ آج سے تقریباً گیارہ بارہ سال پہلے لاہور کی ٹریفک کو احسن طریقے سے کنٹرول کرنے کے لئے ایک سکیم متعارف کروائی گئی جسے ٹریفک وارڈن سکیم کا نام دیا گیا۔ یہ سکیم ایک سینئر پولیس آفیسر نے conceiveکی تھی ، غالباً اُس میں الطاف قمر ایڈیشنل آئی جی کا بڑا رول تھا۔ ا س سکیم کے تحت ٹریفک وارڈن کم از کم گریجویٹ تعلیم کا حامِل ہونا ضروری ٹھہرا ۔ اِس میں ٹریفک وارڈن کی تنخواہ بھی نہایت ہی معقول مقرر کی گئی تھی۔ اور ایسا اِس بناء پر کیا گیا تھا کہ ٹریفک وارڈن اچھی تنخواہ کے ہوتے ہوئے لوگوں سے رِشوت کے طور پر پیسے اکٹھے کرنے میں مشغول نہیں ہو جائیں گے۔ یہ بھی کوشش کی گئی کہ ٹریفک وارڈنز کی بھرتی بھی میرٹ پرہو۔ زیادہ تر بھرتی میرٹ ہی پر ہوتی تھی معدودے چند واقعات کے ۔کیونکہ حسب روایت بڑے حکمران کچھ نہ کچھ بھرتی کا کوٹہ اپنے چہیتوں کو ضرور دیتے ہیں۔ اور اُن چہیتوں نے دروغ بر گردنِ راوی ایک ،ایک یا دو ،دو لاکھ روپے فی وارڈن بھرتی کروائے۔ لیکن overallیہ سکیم حکومت کی ایک کامیاب سکیم کے طور پر سامنے آئی ۔ شروع کے عرصے میں یہ کوشش بھی کی گئی کہ جس طرح یہ سکیم conceiveکی گئی اُسی شکل میں نظر بھی آئے۔ اِس سکیم کی کامیابی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ عوام کے خیال کے مطابق mostlyٹریفک وارڈن رشوت نہیں لیتے۔ ہمارے پاکستانی معاشرے میں یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔ اِس سکیم کو متعارف کروانے والے افسران وقت گزرنے کے ساتھ یا تو ٹرانسفر ہوگئے یا ریٹائر ہوگئے۔ نتیجتاً اِس کی ownership ختم ہونے لگی۔ political will تو پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ لہذا اب جو ٹریفک پولیس کی کارکردگی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ہر بڑے چوک پر آپ کو چار یا پانچ ٹریفک وارڈن اکٹھے کھڑے یا بیٹھے نظر آئیں گے اور انداز یوں ہوگا جیسے بڑی شاہراہ پہ بیٹھ کر نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ شروع شروع میں ایک چوک پر دو سے زیادہ وارڈنز کو اکٹھے ہونے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔ لیکن اب تو ایک منفرد تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جو ان کے چیف کی ماتحت پروری کی منہ بولتی تصویر ہے۔ زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ اس فورس کو سرکار نے کُرسیاں فراہم کر دی ہیں اور لاہور کے ہر بڑے چوک پر یہ اِن کرسیوں پر براجمان خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ملک کے دوسرے شہروں کی ٹریفک پولیس جو اس سہولت سے محروم ہے اُن کے لیے یہ ایک قابل تقلید مثال ہے۔
اسی طرح ٹرپل سواری کی حامل موٹر سائیکلز بھی لاہور کی سڑکوں پر بلا خوف و خطر رواں دواں نظر آتی ہیں۔ حتیٰ کہ بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلز اور گاڑیاں بھی ان کے سامنے سے گزرتی نظر آتی ہیں جسے دیکھ کر لاہور ٹریفک پولیس کی بے پروائی نمایاں طور پر عیاں ہوتی ہے۔
بد قسمتی سے دہشت گردی نے آجکل اپنی پاک سر زمین کو انتہائی بُرے طریقے سے جکڑا ہوا ہے ۔ قوم نفسیاتی مریض بن رہی ہے جب تک قوم کا ہر فرد اس جنگ میں اپنا حصہ نہیں ڈالے گا۔اس سے نبرد آزما ہونا بہت ہی مشکل ہوگا اور ملک و قوم تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ جائیں گے۔اس شہر لاہور میں نوے فیصد دہشت گردی کی واردتیں موٹر سائیکل اور موبائل کے ذریعے ہی ہو رہی ہیں۔ اِن وارداتوں کے روکنے میں لاہور ٹریفک پولیس بہت اہم رول ادا کر سکتی ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں صاحبانِ اقتدار نے کبھی اِس رول کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ بد قسمتی سے اسی دہشت گردی کے ناسور نے کسی اہم حکومتی شخصیت کو اپنے ہی شہر میں آزادی کے ساتھ گھومنے کے قابل ہی نہیں رہنے دیا۔ کہ انہیں زمینی حالات سے آگاہی ہو سکے۔ہمارے خادم اعلیٰ گڈ گورننس کو اپنی شخصیت کا ایک اہم پہلو گردانتے ہیں اور یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آج کل اُنہوں نے ایک عام شہری کے طور پر لاہور کی ٹریفک کا مزہ نہیں اُٹھایا۔ جن راہوں سے اُن کا گزر ہوتا ہے وہاں تو ٹریفک پولیس نہایت مستعدی سے اپنے وجود کا اظہار کر رہی ہوتی ہے۔جس نے ایک جان بچائی گویا اُس نے پوری انسانیت کو بچایا ۔ اوپر درج شدہ حقائق اور خاص طور خوفناک دہشت گردی کو مدِنظر رکھتے ہوئے خادمِ اعلیٰ صاحب دوران ِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر zero tolerance پالیسی کا اعلان کریں اور اس پر سو فیصد عمل درآمد کروائیں۔ اس کی مانیٹرنگ کے لیے اپنے شہر کے اور اپنی پارٹی کے مستعد ورکرز کی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔جو ہر مہینے اپنی رپورٹ خادم اعلیٰ کو پیش کرے اور وہ خود ہر مہینے اِس کمیٹی کی میٹنگ کی صدرات کریں۔ جس میں ظاہر ہے چیف ٹریفک آفیسر لاہور موجود ہوں گے۔ یقین کیجئے اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔
خادمِ اعلیٰ کی گڈ گورننس پالیسی میں یہ اقدام یادگار رہے گا اور عوام اسے اُسی طرح یاد کریں گے جیسے شادیوں کے فنکشن میں ون ڈِش پالیسی اور رات دس بجے تک فنکشن کا اختتام اور پتنگ بازی پر پابندی، جس نے کئی ماؤں کی گود اُجاڑ دی تھی۔ حتّٰی کہ اِس سلسلے میں کچھ سونے کے چمچ کے ساتھ پیدا ہونے والوں کا بے انتہا پریشر بھی انھیں پالیسی تبدیل کرنے پر مائل نہ کرسکا۔


ای پیپر