سی پیک آنے والی نسلوں کیلئے چین کا تحفہ
19 مارچ 2018

سی پیک کے حوالے سے چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین کا سی پیک پہلا کاریڈور نہیں ہے بلکہ مختلف ممالک کے درمیان پانچ کاریڈور پہلے ہی سے موجود ہیں۔ سی پیک کا آغاز 2015ء سے اس وقت ہوا جب ہمارے صدر پاکستان آئے تھے۔ چین گوادر کو خصوصی اہمیت اس لیے دے رہا ہے کہ گوادر پورٹ کو کمرشلی وائے ایبل بنانا چاہتا ہے۔ وہاں پانی کے پلانٹ‘ توانائی پلانٹ‘ ہائی ویز سمیت انفراسٹرکچر بنایا جا رہاہے۔ گوادر سے ماہانہ دو کمرشل بحری جہاز بھی چلنے لگ گئے تو گوادر بندرگاہ مالی طور پر خود کفیل ہو جائے گی۔ ہم سپیشل اکنامک زون بنائیں گے۔ سی پیک کاریڈور کاشغر سے خنجراب تک ایک کاریڈور ہے۔ اس میں ویسٹرن کاریڈور اور ایسٹرن کاریڈور کا کوئی تصور نہیں۔ ایسی خبریں دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ سی پیک پر پچاس ساٹھ ارب ڈالر خرچ ہونگے۔ 2020ء تک پہلے مرحلے کو مکمل کیا جائے گا جبکہ 2020ء سے 2025ء تک دوسرے مرحلے کے پراجیکٹس شروع ہونگے اور 2030ء میں یہ کاریڈور مکمل ہو جائے گا۔لاہورمیں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چینی سفیر یاؤجنگ نے کہا کہ پاکستان چین دوستی اور خارجہ تعلقات شخصیات کے محتاج نہیں۔ پاکستان میں کوئی حکومت تبدیل ہو یا چین میں نئی حکومت آئے‘ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان اور چین کے تعلقات حکومتوں کے درمیان نہیں۔
چینی سفیر نے گفتگو میں کہا کہ چین سی پیک کی پراگریس سے مطمئن ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ سی پیک سلو ڈاؤن ہوا ہے۔ سی پیک کے 43 پراجیکٹس ہیں۔ ان میں سے 7 پراجیکٹ بجلی کے ہیں جو مکمل ہو چکے جبکہ 13 پراجیکٹ پائپ لائن میں ہیں۔ اب تک 19 ارب ڈالر کی لاگت آچکی ہے۔ اس میں سے صرف 4ارب ڈالر نرم ترقیاتی قرضوں کی صورت میں دیئے گئے۔ ان پر سود کی شرح 2فیصد اور واپسی کا عرصہ 30سال تک ہے ۔ ان کی ساخت وہی ہے جو ورلڈ بینک یا دیگر اداروں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضوں کی ہوتی ہے ۔ باقی 15بلین ڈالر کے قریب چینی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی۔مثال کے طورپر ساہیوال پاور پلانٹ لگانے والی کمپنیوں نے پاکستانی حکومت سے آئی پی پی ماڈل کے تحت معاہدہ کیا ۔ چینی حکومت سے قرض لیا اور یہاں پلانٹ لگائے ۔ اب وہ بجلی پاکستانی حکومت کو بیچیں گی جس سے منافع کمائیں گی اور قرض بھی واپس کریں گی۔
یاؤجنگ نے مزید کہا کہ چین کی خارجہ پالیسی کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو لوز کرنا ہم افورڈ نہیں کر سکتے۔ دوسرے چین کی معیشت ہمسایوں کے ساتھ اکنامک ڈویلپمنٹ کے ساتھ وابستہ اور پاکستان چین کے ہمسایہ ممالک میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ پاکستان کو ترقی میں اپنا پارٹنر بنانا ہے۔ چین کیلئے ایشیا پیسیفک اور افریقہ کی بہت اہمیت ہے۔ ان میں پاکستان جوائنٹ پوائنٹ ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں گرے زون میں ڈالا گیا۔ اس موقع پر یہ تاثر ابھرا کہ چین نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔ پاکستان کا نام دہشت گردوں کے سرپرست ممالک کی فہرست میں ڈالنے کے معاملے میں چین اور سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیاجس پر کافی تنقید کی جارہی رہی تھی لیکن ایسا نہیں ہے۔ لیکن اب چینی سفیرنے حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں چین کا نہ بولنے کا مطلب یہ نہیں تھاکہ پاکستان کے خلاف ہوگئے ہیں بلکہ جب متعدد ممالک شریک ہوں توممالک کے بہت سے مفادات ہوتے ہیں۔ اسی طرح چین کا بھی کچھ مفاد تھا جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھالیکن چین کے پاس پاکستان کو ان مشکلات سے نکالنے کا منصوبہ موجود ہے ۔ یہ تصور نہیں لیاجاناچاہیے کہ ہم نے پاکستان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ بات بھی بالکل بے بنیاد ہے کہ ٹاسک فورس کے آخری سیشن سے قبل چین کو پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت دکھائے گئے بلکہ وہ موقع ایسا تھا کہ چین کابولنا نہ بولنا برابرتھا۔ کشمیر کے حوالے سے چینی سفیر نے کہا کہ کشمیر سی پیک کیلئے نہیں بلکہ سینٹرل ایشیا کیلئے چیلنج ہے۔ روہنگیا کے مسلمانوں کا معاملہ میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان مسئلہ بنا ہوا ہے۔ چین ان کے درمیان مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔ تاہم چین ان کے تناؤ کی بحث میں الجھنا نہیں چاہتا۔ چین کا ایک کوریڈور بھارت ، بنگلہ دیش اور میانمار سے بھی گزرتا ہے۔
یاؤجنگ کاکہناتھاکہ پاکستان چین کا روایتی دوست ہے ۔ یہ رشتہ 1950ء سے قائم ہے ۔ چین کی معیشت نے تیزی سے ترقی کی اور اب ہم چاہتے ہیں کہ اس کے ثمرات ہمسائے ممالک تک بھی پہنچائے جائیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اسی وژن کا تسلسل ہے ۔ سی پیک کا تعلق پاکستان سے ہے اور اس کا مقصد بھی پاکستان کی معاشی ترقی ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر پاکستان کی معیشت کم ازکم 4فیصد کی رفتار سے ترقی کرتی رہے تو چین سے آنے والا قرضہ اس کی معیشت پر بوجھ نہیں بنے گا۔
چینی سفیرنے بتایاکہ سی پیک منصوبوں کی 4 کیٹیگریز ہیں۔ گوادر شہر میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بندرگاہ کو کمرشل سطح پر کار آمد بنانا۔ توانائی منصوبے: توانائی سے متعلق تمام منصوبے۔انفراسٹرکچر:سڑکوں اور ہائی ویز کی تعمیر۔ سپیشل اکنامک زونز: سی پیک ماسٹرپلان کے تحت کاشغر سے گوادر تک پاکستان میں 20سپیشل اکنامک زونز بنائے جائیں گے۔ ان منصوبوں کا مقصد پاکستانی انڈسٹری اور مینوفیکچرنگ کو انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے پیروں پرکھڑی ہوسکے اور دنیا سے مقابلہ کرسکے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے نتیجے میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں بے حد اضافہ ہوگاتاہم یہ بھی ضروری ہے کہ منصوبے وقت پر مکمل کیے جائیں۔ 2030ء تک سی پیک کے تمام 43منصوبے تقریباً مکمل ہوجائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ 2018ء کے انتخابات کا سی پیک پر بالکل بھی اثر نہیں پڑے گاکیونکہ میں نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ سی پیک اور چین کے معاملے پر تمام جماعتیں متفق ہیں۔ تمام سیاستدان سی پیک اور پاکستان میں تعلقات کے حوالے سے پْرجوش ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں کوئی فکر نہیں ہے۔ سی پیک کے خلاف پراپیگنڈا کا مقابلہ کرنا اور اپنی کامیابیوں کا اعتراف کروانا اب ہمارے لیے نیا چیلنج ہے اور اس دور میں میڈیا بے حد اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سی پیک منصوبے موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے چین کا تحفہ ہیں۔ منصوبے سے وسط ایشیا سے روابط ہوں گے۔ گوادر منصوبے سے بلوچستان ترقی کرے گا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ دونوں ملکوں کے انجینئرز کی کوششوں سے گوادر اور سی پیک حقیقت میں بدل رہا ہے۔ چین نے پاکستان کو پائیدار توانائی کے منصوبے دیئے ۔ ریلوے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ سڑکوں کا جال بنایا جا رہا ہے۔ منصوبوں میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کا خیال رکھا جارہا ہے۔
جن صحافیوں نے چینی سفیر یاؤجنگ کے ساتھ ملاقات کی ان میں راقم الحروف کے ساتھ مجیب الرحمن شامی، ارشاد عارف،روف طاہر، رضی الدین رضی، عمر مجیب شامی، عثمان مجیب شامی، انتخاب حنیف، شعیب بن عزیز، پرویز رشید، سعدیہ فضل، غریدہ فاروقی، حفیظ اللہ نیازی ، مزمل سہروردی سمیت دیگر سینئر صحافی بھی شامل تھے۔
پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی اچھے ہیں۔ بلکہ دنیا میں پاکستان اور چین دونوں ایک دوسرے کے سب سے اچھے دوست کہلاتے ہیں۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، صحراؤں سے وسیع،شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری ہے۔دونوں دوست ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔موسمی شدت یا بلند پہاڑوں کی رکاوٹ سے دوستی بڑھتی ہے کم نہیں ہوتی۔


ای پیپر