آسٹریلیا کے پہلے مسلمان کرکٹر عثمان خواجہ کی منگیتر نے اسلام قبول کرلیا
19 مارچ 2018 (18:31) 2018-03-19

سڈنی:پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کی منگیتر ریچل میکلیلن نے اسلام قبول کرلیا ۔آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلم کرکٹر عثمان خواجہ کی 22 سالہ منگیتر نے اسلام قبول کرلیا جن کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا، عثمان یا ان کے اہلخانہ کا کوئی دبائو نہیں تھا۔ریچل میکلیلن کا تعلق آسٹریلیا کے شہر برسبین سے ہے اور دونوں گزشتہ ایک سال سے رابطے میں تھے جب کہ عثمان خواجہ اور ریچل اگلے ماہ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران ریچل کا کہنا تھا کہ عثمان خواجہ سے ملاقات سے پہلے انہیں اسلام کے بارے میں صرف اتنا ہی معلوم تھا جتنا میڈیا میں بتایا جاتا ہے۔ریچل نے کہا کہ عثمان خواجہ سے ملاقات سے قبل انہیں اسلام سے متعلق دہشت گردی اور بری چیزیں ہی پڑھنے اور سننے کو ملیں لیکن عثمان سے قریبی تعلق نے ان کا ذہن تبدیل کیا۔ کرکٹر عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی میں مذہب کو اولین درجہ حاصل ہے، جب ریچل کے ساتھ ان کی قربت ہوئی تو لوگوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عثمان خواجہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر لوگوں نے انہیں برا بھلا کہا اور جب انہوں نے ریچل کے ساتھ تصاویر اپ لوڈ کیں تو ان کے کچھ مسلمان ساتھیوں نے کہا کہ ریچل کے ساتھ رشتہ حرام ہے اور وہ مسلمان نہیں۔آسٹریلوی کرکٹر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ریچل پر اسلام قبول کرنے کےلئے کبھی دبائو نہیں ڈالا اور قبول اسلام کا فیصلہ ریچل کا ذاتی فیصلہ ہے۔

آسٹریلیا کے پہلے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ کی منگیتر ریچل میکلیلن نے بتایا ہے کہ انہوں نے برضا و رغبت اسلام قبول کیا ہے اور ان پر کوئی دباو¿ نہیں تھا۔31 سالہ پاکستانی نڑاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ اور 22 سالہ ریچل میکلیلن کی اگلے ماہ اپریل میں شادی ہے۔ ریچل میکلیلن عیسائیت کے کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ آسٹریلوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ریچل میکلیلن نے بتایا کہ جب عثمان اور ان کی محبت کی خبر پھیلی تو لوگوں نے مسلمان سے تعلق قائم کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ریچل میکلیلن نے کہا کہ انہوں نے میڈیا میں مسلمانوں کے بارے میں ہمیشہ بری بری باتیں ہی سنی تھیں اور منفی خبریں پڑھی تھیں کہ وہ دہشتگرد ہوتے ہیں، لیکن عثمان نے مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی گئی ساری غلط فہمیوں اور پروپگینڈے کو ختم کردیا، عثمان میری زندگی میں آنے والے پہلے مسلمان تھے۔ پہلے پہل تو میں نے عثمان پر کوئی توجہ نہ دی اور ہمیشہ انہیں نظرانداز کیا، لیکن پھر ہم دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہوگئی جو اب حقیقی رشتے میں بدلنے جارہی ہے۔ریچل میکلیلن نے کہا کہ شادی کے لیے عثمان اور ان کے گھروالوں نے مجھ پر اسلام قبول کرنے کے لیے دبائو نہیں ڈالا لیکن مجھے یہ بات معلوم تھی کہ عثمان اپنی زندگی میں مذہب کو بہت اہمیت دیتے ہیں اس لیے میں نے سوچنے سمجھنے کے بعد اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔

عثمان نے کہا کہ انہیں بھی ایک غیر مسلم سے محبت کرنے پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں کی باتیں سننی پڑیں، اسلام ان کی زندگی میں ہمیشہ بہت اہمیت کا حامل رہا ہے اور عقیدہ ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے، میں نے ریچل سے کہا کہ اگرچہ میری بھی خواہش ہے کہ تم مسلمان ہوجائو لیکن یہ فیصلہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے جو تمہیں خوشی سے کرنا ہوگا، جس میں کوئی جبر نہ ہو۔ عثمان خواجہ 18 دسمبر 1986 کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے جولائی 2016 میں ریچل کو شادی کی پیش کش کی تھی۔


ای پیپر