پنجاب پولیس کی شرمناک حرکت ،نوجوان کیساتھ بدفعلی
19 مارچ 2018 (15:51)

لاہور: شیراکوٹ پولیس نے اپنے نجی ٹارچر سیل کے اندر لڑکے کو زیادتی کا نشانہ بنادیا۔ پنجاب پولیس کے کالے کرتوت نہ بدلے ۔ تھانہ شیراکوٹ پولیس کے نجی ٹارچر سیل میں پولیس اہلکاروں کی عیاشیاں اور بدمعاشی کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس افسر عمران نے خوبرو نوجوان کو نہ صرف نجی ٹارچر سیل میں بدفعلی کا نشانہ بنوا دیا بلکہ اپنے موبائل سے اس گھناو¿نی حرکت کی ویڈیو بھی بناتا رہا۔


عمران نے نوجوان پر تشدد کرکے اسے مقابلے میں مارنے کی دھمکی بھی دی اور دوسرے اہلکار سے بدفعلی کا نشانہ بنوایا۔ پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش شروع کردی تاہم 15 مارچ کو عدالتی احکامات پر نوجوان کا طبی معائنہ کروایا گیا جس کے بعد عدالتی احکامات پر مجبورا 6 روز بعد ملوث پولیس اہلکاروں کیخلاف شیراکوٹ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ملزم عمران کو بچانے کے لیے گرفتار کرنے کی بجائے ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم عمران کو حوالات میں بند رکھنے کی بجائے ایس ایچ او کے ریٹائرنگ روم میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ سنگین واقعہ 13 مارچ کو غوثیہ کالونی بند روڈ پر قائم نجی ٹارچر سیل میں پیش آیا۔ ایف آئی آر کے مطابق نوجوان مظفر اویس کو اس کے دوست کے ذریعے ادھار کی رقم کی واپسی کا جھانسا دے کر پولیس اہلکاروں نے تھانہ شیراکوٹ کے قریب بلوایا، اہلکاروں نے نوجوان آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نجی ٹارچر سیل منتقل کیا گیا جہاں پولیس اہلکار شراب نوشی میں مصروف تھے۔ پولیس افسر عمران نے نوجوان کو کہا کہ میرے ساتھی پولیس اہلکار کو خوش کرو، انکار پر اسے باتھ روم میں بند رکھا گیا اور مقابلے میں پار کرنے کی دھمکی دی۔ پھر نشے میں دھت پولیس اہلکار شفاقت نے نوجوان سے جبری زیادتی کی جب کہ پولیس افسر عمران سارے واقعے کی ویڈیو بناتا رہا۔

عدالتی حکم کیوجہ سے نوجوان سے زیادتی کا مقدمہ در ج کیا گیا ۔اس کے برعکس نوجوان اور اسکے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ۔


ای پیپر