ہماری خوراک اور کےمےاوی اثرات
19 مارچ 2018

خبر چھپی ہے کہ مصنوعی طرےقے سے پھلوں کو پکانے والے زہرےلے کےمےکل اجزاءسے دس سے پندرہ فےصد خطرناک امراض مےں اضافہ ہو گےا ہے ۔تفصےل کے مطابق زہرےلا کےمےکل ”کےلشےم کاربائےڈ“ اس وقت تقرےباََ پچانوے فےصد پھلوں خاص طور پر آم، آڑواور کےلے کے پھل کو پکانے کے لےے استعمال ہو رہا ہے ۔ےہ کےمےکل گےس وےلڈنگ مےں بھی استعمال ہوتا ہے ۔دنےا کے مختلف ممالک مےں اس کا استعمال ممنوع قرار دےا جا چکا ہے ۔لےکن حےرت ہے کہ ہمارے ہاں اےسی باتوں پر توجہ دےنے اور پوچھنے والا کوئی نہےں ۔انسان فطرتاََبہت جلد باز واقع ہوا ہے ۔وہ ہر چےز مےں جلدی اور شارٹ کٹ چاہتا ہے ۔پھل پکنے کے اپنے مراحل ہوتے ہےںمگروقت سے پہلے اسے مصنوعی طرےقے سے پکا کر کاروباری فائدہ اٹھانے والوں کو انسانی جانوں سے کوئی سروکار نہےں کہ زہرےلے کےمےکل سے کےسی کےسی بےمارےاں پےدا ہو سکتی ہےں ۔اور تو اور ہم لوگ تو بھےنسوں کو انجےکشن لگا کر دودھ نکالنے سے بھی باز نہےں آتے ۔حالانکہ اس کے بھی مضر اثرات ہوتے ہےں ۔کچھ عرصہ قبل جب اےک حکےم صاحب نے ہمےں بتاےا کہ ان دنوں خواتےن کے چہروں پر بال بہت زےادہ ہونے کی وجہ انجےکشن والا دودھ ہے تو ہم بہت حےران ہوئے ۔
حکےم صاحب کا خےال تھاکہ ہماری روزمرہ کی خوراک مےں کئی اشےاءدودھ سے تےار ہوتی ہےں ،اس کے علاوہ پےکٹ والے دودھ کی اندرونی سطح پر بھی اےک خاص قسم کا کےمےکل استعمال کےا جاتا ہے جو دودھ کو خراب ہونے سے بچاتا ہے ۔ےہ وہی کےمےکل ہے جو لاشوں (مُردوں) کو خراب ہونے سے بچانے مےں بھی مدد دےتا ہے ۔حکےم صاحب کی اس بات مےں کتنی صداقت ہے ےہ تو کوئی فارماسسٹ ہی بتا سکتا ہے لےکن ہم ےہ ضرور جانتے ہےں کہ اےسے کےمےکل انسانی صحت کے لےے ےقےنا نقصان دہ ہےں۔انسان ساری بھاگ دوڑ جےنے کے لےے کرتا ہے مگر اسی بھاگ دوڑ مےں وہ اپنی صحت اور تندرستی( خصوصاََ کھانے پےنے پر )زےادہ توجہ نہےں دےتا۔ مصروف لوگوں کے پاس توناشتے کے لےے بھی وقت نہےں ہوتا ۔بھاگتے بھاگتے اےک سلائس ےا چائے لے کر کام پر نکل پڑتے ہےں ۔حالانکہ ےہ ساری ”کھےچل “دو وقت کی روٹی اور سکون کے لےے ہے۔دوسری طرف کتنے بے رحم ہےں وہ لوگ جو اشےائے خورد و نوش مےں بھی ملاوٹ سے باز نہےں آتے۔ہماری ہاں مرچ مصالحوں سے لے کرادوےات تک مےں ”دونمبری“ کی جاتی ہے ۔جعلی ادوےات کی روک تھام کرنے والا کوئی نہےں ۔برائےلر مرغےوں کی خوراک مےں مردہ جانوروں کی انتڑےاں،خو ن اور چربی بھی استعمال مےں لائی جاتی ہے جو کےنسر جےسی بےمارےوں کا موجب بنتی ہے۔اسی طرح کےمیائی کھاد کے استعمال سے ہم فصلےں تو زےادہ اٹھانے لگے ہےں مگر اس اناج مےں زہرےلے مواد سے دھےرے دھےرے کئی بےمارےوں کا شکار بھی ہو رہے ہےں ۔
پچھلے ہفتے ہری پور تکےہ شرےف مےں بابا جی کی محفل مےں فقےر منش سائےں مسکےن نے ہماری خوراک کے حوالے سے دلچسپ اور فکر انگےز باتےں بےان کیں۔سائےں مسکےن کا تعلق سابقہ رےاست بہاولپور کے نوابےن کے ”بازگر“ خاندان سے ہے۔اس نے کچھ عرصہ نوابوں کی ”کےمل فورس“ مےں بھی گزارا ہے۔سائےں مسکےن نے اپنی ملازمت کے دنوں کے واقعات بےان کرتے ہوئے کہا کہ اےک بارہمارے علاقے مےں فوجی جوان اپنے تربےتی کےمپ لگائے ہوئے تھے۔انہوں نے گاﺅں کی اےک بڑھےاسے دودھ لےنا شروع کےا۔استعمال سے قبل دودھ کو باقاعدہ لےبارٹری مےں چےک کرواےا گےا تو اس مےں دو تولہ زہر شامل تھا۔بڑھےا سے باز پرس ہوئی تو اس نے اپنی بھےنسوںکو پےش کر دےااورکہا کہ آپ خود دودھ نکال کر دےکھ لےں ہم نے دودھ مےں کوئی اےسی شے نہےں ملائی۔اب دودھ نکال کر دوبارہ لےبارٹری مےں ٹےسٹ کےا گےالےکن زہر کی مقدار مےں کوئی فرق نہ آےا۔مزےد تحقےق سے پتہ چلا کہ مصنوعی (کےمےائی) کھادکے استعمال سے زہرےلا مواد ،نہ صرف فصلوں مےں منتقل ہوتا ہے بلکہ جانوروں کے دودھ مےں بھی شامل ہو جاتا ہے۔سائےں مسکےن نے دےسی گھی کے حوالے سے بھی اسی قسم کا واقعہ سناےا لےجئے انہی کی زبانی سنےں اور اندازہ لگائیں کہ انسان اپنے ماحول اور خوراک سے کےسے متاثر ہو رہا ہے۔
”اےک روز ہمارے صاحب(کمانڈر) کو خالص دےسی گھی کی ضرورت پڑی مےرا تعلق چونکہ دےہاتی علاقے سے تھا سو دےسی گھی خرےدنے کے لےے رقم دے کر مےری ڈےوٹی لگا دی گئی۔بلکہ اس کے لےے مجھے چند روز کی چھٹی بھی دی گئی۔مےں اپنے گاﺅں آگےا اور ارد گرد کے علاقوں سے دےسی گھی اکٹھا کرنے لگا ۔اس وقت دےسی گھی ساڑھے تےن روپے کلو ہوا کرتا تھا۔مےں نے اےک کنستر(تقرےباََ سولہ کلو) گھی اکٹھا کر لےا اور مقررہ وقت پر گھی لے کر صاحب جی کی خدمت مےں حاضر ہو گےا۔گھی کا کنستر اندر بھےج کر مےں برآمدے مےں بےٹھ گےا۔اندر بےگم صاحبہ گھی کو چےک کر رہی تھیں۔کچھ ہی دےر مےں اندر سے بےگم صاحبہ کی آوازےں سنائی دےنے لگےں۔بےگم صاحبہ گھی دےکھ کر سیخ پا ہو رہی تھیں۔
”ےہ کےسا گھی ہے اور کتنی عجےب سمےل ہے، اف توبہ توبہ سارے گھر مےں عجےب و غرےب بو پھےل گئی ہے“
پھر کنستر زور سے گرنے کی آواز سنائی دی ،مجھے محسوس ہوا جےسے مےں ٹھڈو ں کی زد مےں آگےا ہوں۔کچھ دےر مےں مجھے اندر طلب کر کے بتاےاگےا کہ گھی مےں نہ جانے کےسی ملاوٹ ہے ہم اسے چےک کروائےں گے۔تھوڑا سا گھی لےبارٹری مےں چےک کرانے کے لےے نکال کر باقی مجھے واپس کر دےا گےا۔مےں گھی اٹھا کر شہر لے گےا ۔خالص دےسی گھی کے شوقےن لوگ اس کی خوشبو پہچانتے ہےں ۔اےک سنار نے پانچ روپے فی کلو سارا گھی خرےد لےا ۔چند روز بعد صاحب کے گھر سے پےغام ملا وہ گھی لے آﺅ،مگر اب گھی کہاں سے آتا؟مےں نے صاف جواب دےا کہ وہ تو فروخت ہو چکا ہے ۔صاحب نے بتاےا کہ لےبارٹری مےں ٹےسٹ کرانے پر پتا چلا کہ گھی مےں کوئی ملاوٹ نہےں البتہ اس مےں اےک خاص قسم کی گھاس” کترن“(جڑی بوٹی) کی خوشبو شامل ہے ۔کترن صحرا مےں پائی جانے والی وہ جڑ ی بوٹی ہے جو گائےں اور بھےنسےںچارے کے طور پر کھاتی ہےں۔جس کا اثر(خوشبو) ان کے دودھ مےں بھی شامل ہو جاتا ہے۔انہی کی زبانی ےہ بھی معلوم ہوا کہ کترن کی بوٹی اےک خاص قسم کے عطر مےں بھی استعمال کی جاتی ہے۔رےاستی علاقے کے دےسی گھی مےں کترن کی خوشبو گھی کے خالص ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔صاحب جی نے مجھے دوبار ہ دےسی گھی اکٹھا کرنے کے لےے چھٹی عناےت کر دی ۔ اور میں ایک بار پھر دیسی گھی کے کھوج میں نکل کھڑا ہوا۔


ای پیپر