سنتھیا رچی کے نئے انٹرویو نے ہلچل مچا دی
19 جون 2020 (21:31) 2020-06-19

اسلام آباد:سابق وزیر داخلہ رحمن ملک پر عصمت دری کا الزام لگا نے والی امریکی بلاگر سنتھیا رچی نے بتایا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف بولنے کا میرا تجربہ دوسرے متاثرین کی مدد کرے گا۔

ایک انٹرویو میں سنتھیا رچی نے وضاحت کی کہ اسے مبینہ جنسی ہراساں کرنے کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ہفتے پہلے میں نے اپنے فیس بک پیج پر اپنی کہانی سنانا شروع کی تھی۔ یہ بینظیر بھٹو کے متنازعہ ٹویٹ سے ایک ماہ قبل اور پیپلز پارٹی کے ممبروں کے ہاتھوں بدتمیزی کے بارے میں میرے دوسرے فیس بک لائیو ویڈیو سے کئی ہفتہ قبل کی بات ہے۔ پہلے ویڈیو میں، میں نے مختلف پارٹیوں کے ہاتھوں سالوں ہراساں ہونے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا تھا، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات وہ تھی جس کا تعلق میرے بہن بھائیوں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے بہن بھائیوں نے انتہائی مفصل معلومات ایک ایسے شخص تک پہنچائیں جس نے میرے والد کی پہلی شادی سے میرے رضاعی بھائی ہونے کا جھوٹا ڈھونگ رچایا۔ جس فیک یا جعلی فیس بک اکانٹ کے ذریعہ اس شخص نے رابطہ قائم کیا اس اکانٹ کا پتہ 'پی پی پی اور پشتون تحفظ موومنٹ 'پی ٹی ایم کو تھا جنہوں نے پھر ہماری ان ذاتی معلومات کو آن لائن شیئر کر دیا۔ میرا استحصال اور میرے ساتھ زیادتی تو ایک چیز تھی لیکن میری فیملی کا جہاں معاملہ آجائے وہاں ایک لکیر کھینچنا میرے لیے ضروری تھا۔سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ازدواجی زندگی سے متعلق اپنے تبصرے کے بارے میںسنتھیا ڈی رچی نے کہا کہ نامناسب کی اصطلاح کی تعریف کو نسبتا دیکھا جانا چاہیے۔ میرے ٹویٹ کے الفاظ یہ تھے کہ'' جو کچھ مجھے پی پی پی کے سینیئر وزرا نے بتایا تھا یہ اس کی گونج یا باز گشت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اراکین پارلیمنٹ، جن میں سابق وزیر داخلہ رحمان ملک بھی شامل ہیں، عصمت دری کی ثقافت اور اس سے بھی زیادہ، دوسری عورتوں کے ساتھ زیادتی کا حکم دینے والی عورت کے خیال سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ میری تنقید عصمت دری کی ثقافت پر تھی، اور کسی بھی لحاظ سے میرا اشارہ بے نظیر بھٹو کی طرف نہیں تھا۔چونکہ آپ فوج اور خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی کے قریب ہیں ، لہذا آپ عصمت دری کے الزامات حزب اختلاف کو تکلیف اور نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔


ای پیپر