قاضی فائز عیسیٰ کیس : ابتدا سے آج تک کب کیا ہوا ؟
19 جون 2020 (20:38) 2020-06-19

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کا معاملہ گزشتہ برس شروع ہوا تھا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو 2ریفرنسز میں شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا تاہم یہ ریفرنس بعد میں خارج کردیا گیا تھا۔بعد ازاں 7اگست 2019کو جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمی میں چیلنج کر دیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف ریفرنس ذاتی طور پر چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔صدارتی ریفرنس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا 7رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحلیل ہوجانے کے بعدعدالت عظمی کے 10 رکنی فل کورٹ نے 14اکتوبر کو سماعت کا آغاز کیا تھا۔


ای پیپر