پاکستان اور افغانستان نے بھارت پر بجلیاں گرا دیں
19 جون 2020 (18:41) 2020-06-19

اسلام آباد:پاکستانی اور افغانی عہد یدار دونوں ملکوں کے مابین سرحد پار تجارت کی اہم راہداری دوبارہ کھولنیپر رضا مند ہوگئے ہیں جس کا آغاز آ ئندہ پیر سے ہوگا۔

اس کا مقصد دونوں ممالک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے آسانیاں فراہم کرنا ہے ۔ پاکستان نے جون 2014 میں شمالی وزیرستان کے قبائلی ضلع میں غلام خان سرحد اس وقت بند کردی تھی جب فوج نے اس علاقے میں موجود پاکستانی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کردیا تھا جبکہ مارچ 2018 میں سر حدی گزر گاہ کو تجرباتی بنیادوں پر دوبارہ کھول دیا گیا تھا ۔

پاکستان میں افغان سفیر عاطف مشال نے جمعرات کی شام شِنہوا کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان اگلے پیر سے غلام خان گزر گاہ کھولنے پر رضا مند ہوگیا ہے ۔مشال نے کہا کہ غلام خان گزر گاہ کو درآمدات وبرآمدات کے لئے کھول دیا جائے گا جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کی تیسری بڑی راہداری بن جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ افغان تاجر اپنے تازہ پھلوں کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کیصوبوں میں طورخم اور چمن کی دیگر سرحدی گزر گاہوں کے ذریعے برآمد کرسکیں گے۔

افغان سفیر کا کہاتھا کہ یہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کی افغان برآمدات کے لئے عروج کا موسم ہے جبکہ دونوں اب برآمد کے لئے تیار ہے۔ افغانستان کی سرحد پر واقع شمالی وزیرستان کے قبائلی ضلع میں ایک پاکستانی عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے حکام نوول کرونا وائرس وبائی مرض کو مد نظر رکھتے ہوئے سرحد پار تجارت کے لئے انتظامات پر رضامند ہوگئے ہیں۔

حکام نے ا س بات پر اتفاق کیا کہ ٹرک ڈرائیور ز اور تجارت سے منسلک دیگر تمام افراد مرض کے پھیلا پر قابو پانے کے لئے معیاری طر یقہ کار پر عمل کریں گے تاکہ اس بیماری کے پھیلا پر قابو پایا جاسکے ۔سرحد پار دونوں مقامات پر قائم ہونے والے قرنطینہ مراکز میں ڈرائیورز اور صفا ئی کر نے والوں کے ٹیسٹ کئے جائیں گے ۔


ای پیپر