19 جون 2020 2020-06-19

سفرکے دوران گاڑی میں پیٹرول ختم ہو جائے اور آپ چڑھائی سے ڈھلان کی جانب جا رہے ہوں تو ایسے میں نیوٹرل گیئر میں گاڑی کو چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ جہاں تک وہ اپنے momentum پرجا سکتی ہے چلی جائے پھر پیٹرول کی تلاش شروع کی جائے۔ ایک شہرسے دوسرے شہر سفر کی تیاری میں وہاں کے موسم کو سامنے رکھتے ہوئے سامان باندھا جاتاہے، ٹکٹ بھی خریداجاتاہے، لیکن اگر جلدی میں آپ غلط سواری میں بیٹھ جائیں توسوچیں جس جگہ آپ پہنچیں گے وہاں کی ضرورت کے مطابق تو سامان تک نہیں ہو گا آپ کے پاس۔ کسی مقبول برانڈ کی فیکٹری بند کر دی جائے توکیسے ممکن ہے کہ اس برانڈ کے چھوٹے بڑے دکاندار کاروبار جاری رکھ سکیں... گاہک دکان پر آتا رہے گا، مال کی فرمائش کرتا رہے گا لیکن مال دستیاب نہ ہونے کے باعث کسی اور برانڈ کی جانب راغب ہو جائے گا۔ ہم میں سے اکثر لوگ جب باہر کھانا کھانے جاتے ہیں تو کھانے کے آرڈر کے ساتھ کوکاکولا کی فرمائش کرتے ہیں مگر جب ویٹر ہمیں بتاتا ہے کہ صاحب کوکاکولا تو نیںی پیپسی ہے تو ہم اسے پیپسی کاہی آڈر دے دیتے ہیں... یعنی پراڈکٹ کی مارکیٹنگ اس خوبی کے ساتھ کی گئی ہے کہ اسی کے نام پر یا اس کے نہ ملنے پر اس جیسی دوسری پراڈکٹ پر توجہ جاتی ہے جسے second choice کہا جا تا ہے۔

(۱) گاڑی بغیر پیٹرول کے کچھ دور رینگ کر رک جائے گی اور پھر اس میں پیٹرول دوبارہ ڈالنا پڑے گا تاکہ منزل تک پہنچ سکیں۔ (۲) سفر کی تیاری کے ساتھ احتیاط کریں کہ درست گاڑی میں سوار ہوں ورنہ سامان کہیں کا باندھیں گے اور پہنچیں گے کہیں اور۔ (۳) اوریجنل جیسا بننے کی کوشش نہ کریں ورنہ آپ میں لوگ اسی اوریجنل پراڈکٹ کو تلاش کریں گے لہذا س کے بجائے اپنی پراڈکٹ کی uniqueness اور برانڈ کو مارکیٹ کریں تب ہی لوگوں کی سوچ کو بدلا جا سکتا ہے۔ اگر پراڈکٹ کا نام نیا اور پیکنگ وہی پرانی، مارکیٹنگ کا طریقہ کار بھی پرانا اور پرانے گاہکوں کو ہی اپنا گاہک بنانے کی کوشش اور روش جاری رکھیں گے تو پھر وہی ہو گا یعنی second choice۔ نیا پاکستان ہو، نیا کراچی یا نیا کچھ بھی، اگر اس کی بنیاد پرانی روایتی کہانی کی زمین ہے توکامیابی ناممکن لگتا ہے۔ پرانی پراڈکٹ کی خرابیاں گنوانے کے بجائے خوبصورتی کے ساتھ اپنے نئے برانڈ کو بیچیں تو کامیاب ہو بھی سکتے ہیں۔جس گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا ہے وہ کچھ دیر تو اور رینگ رینگ کر چلے گی...پر... زیادہ دیرنہیں چلے گی۔

سیاسی جماعتوں کے منشور اور وعدے کم و بیش ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن کسی بھی جماعت کے اپنے اندر جمہوریت کا نام و نشان تک نہیں، انٹراپارٹی الیکشن صاف اورشفاف نہیں ہوتے، صدر یا چیئرمین بننے والا تاحیات کرسی سے چپکا رہتا ہے، عقل کل بھی سمجھتا ہے اور فیصلوں اور اعلانات میں مشاورت کی گنجائش بس اس حد تک ہوتی ہے کہ دلائل اس کے حق میں اور تنقید یا مخالفت ناقابل برداشت۔ چھوٹی جماعتوں کے لیڈران کا حال اس سے برا ہے؛ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی حکومتوں کے نظام کو خودمختار بنانے کی بات کرتے ہیں کہ وفاق سے چاروں صوبوں کو اختیارات منتقل ہو گئے لیکن یہی انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات نچلی سطح پر ڈسٹرکٹ، تحصیل، ٹا¶ن اور یونین کونسل تک منتقل نہیں کئے گئے... مگر اپنی ہی سیاسی جماعت میں اظہار رائے کی آزادی اور تنقید و اختلاف کو یکسر رد کر دیا جاتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، یو سی یا وارڈ کی سطح تو دور کی بات ہے مرکزی اراکین سے بھی رائے مشورہ شان کے خلاف؛ اجتماعی کاوشوں سے کامیابیوں کو اپنی ذاتی کامیابی ظاہر کرنا اور اس کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ کام کرنے والے رہنما ¶ں اور خاص طور پرکارکنان اور عوامی سپورٹ کو بھول جانا، تمام کامیابی صرف اپنی انفرادی شخصیت کے کھاتے میں اورناکامی کی تمام تر ذمہ داری پارٹی ورکرز، دیگرلیڈران اور بےشرمی کے ساتھ عوام کے سر پر۔

سیاستدان سے رہنما کا سفر ”شعور“، ”رواداری“، ”اخلاق“، ”کردار“ اور ”دانش“ کی سواری طے کرواتی ہے...جبکہ ”غرور“، ”تکبر“ اور ”گھمنڈ“ کے ساتھ تباہی مقدر ہے۔۔ مشاورت پر یقین رکھنے والے ہی صحیح معنوں میں ”قومی لیڈر“ بنتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے عمدہ مثال دی، ”میرے دل کی بات جوحق جانتے ہوئے بھی میں کہہ نہیں سکتا؛ اگر اسی حق بات کو کہنے سے لیڈر بھی کترا اور گھبرا رہا ہو تو پھر وہ کس بات کا لیڈر ہے؛ اور میں ایسے شخص کی رہنمائی میں اس کے پیچھے نہیں چل سکتا“۔

انسان ہوتے ہوئے گھمنڈ کا اظہار کرنا اور انکساری کے ساتھ گفتگو کرنے کے بجائے تکبر اور غرور میں کسی دوسرے انسان کو کم تر سمجھنا ذہنی بیماری ہے۔ بات اچھی ہو لیکن انداز گھٹیا اور تلخ ہو تو اپنا اثر کھو دیتی ہے اور اخلاقی اور تربیت کی خامیوں کو باہر لے آتی ہے۔ الیکشن یا دیگر دنیاوی مقابلے انسانوں کے درمیان ہی ہوتے ہیں اور اس کے اصول بھی دنیاوی ہوتے ہیں؛ بردبار انسان وہ ہے جو ہار تسلیم کرے اور اورجیتنے والے کو مبارکباد دے۔ الیکشن میں ایک ”انسان کی طاقت، شہرت اورعوامی مقبولیت“ سامنے مدمقابل دوسرے انسان کو شکست دیتی ہے اور جیت کادارومدار عوامی حمایت اور ووٹ کی گنتی پر ہوتا ہے”کسی کے باپ کی ہمت“ کا اس میں کیا لینا دینا۔ خودپسند اور خودنمائی کرنے والے نام نہاد رہنما¶ں سے عرض ہے، ”خوش رہیں کسی خوش فہمی میں نہ رہیں“ کیونکہ ایسے تو ” زیادہ دن چلے گا نہیں“۔


ای پیپر