محمد مرسی،ہمارے عہد کا المیہ
19 جون 2019 2019-06-19

مصر کی تاریخ کے واحد منتخب اور گزشتہ 6 برسوں سے انتہا درجے کی اذیت ناک قید میں رکھے جانے والے ڈاکٹر محمد مرسی کا عدالت میں پنجرے کے اندر بند پیشی کے دوران جو انتقال ہوا ہے ، وہ عالم عرب اور پوری دنیائے اسلام کے لیے انتہائی شرمناک واقعہ ہے… اس پر عرب ملکوں اور خطۂ ارض کے اطراف و اکناف میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی جانب سے ہلکا پھلکا ردِ عمل سامنے آیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے … ہم محض اسلام اور جمہوریت کے نام لیوا ہیں…خراج تحسین اور ظاہری وابستگی کے اعلانات کے علاوہ نامۂ اعمال میں کچھ نہیں رکھتے… تمام اسلامی ، جمہوری اور اعلیٰ درجے کی انسانی اقدار کو ہماری مقتدر طاقتوں کی جانب سے پامال کر کے رکھ دیا جائے تو سر نیہوڑائے بیٹھے رہتے ہیں… ماسوائے اس کے کہ جہاں تہاں غائبانہ نماز جنازہ ادا کر دی گئی… ایک دو مسلم حکومتوں کی جانب سے عام درجے کا بیان مذمت جاری ہوا… اخبارات میں سے اکا دکا نے تعزیتی نوٹ لکھ دیے… اس کے علاوہ ہمارے ضمیروں پر مردنی چھائی رہی… نوبت بایں جا رسید کہ الاخوان المسلمون جیسی دنیائے عرب کی سب سے پرانی اور ہر موقع پر تمام پابندیوں کو بالائے طاق رکھ کر انتخابات جیت جانے والی جماعت کے منتخب قائد کی بیوہ کو ان کا آخری دیدار کرنے کی اجازت نہ دی گئی… نماز جنازہ میں صرف گھر کے دس بارہ افراد کو شرکت کا اذن ملا… اخبار نویسوں پر اتنی بڑی شخصیت کی آخری رسومات کی براہ راست رپورٹنگ کی پابندی تھی… بڑا عوامی احتجاج یا مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا… اس کے بعد بھی اگر ہم دعویٰ کریں کہ ہم عظیم امت مسلمہ کے بیدار مغز ، اعلیٰ شعور کے مالک اور ملی غیرت و حمیت کی خاطر کٹ مرنے والے لوگ ہیں… تو اس سے زیادہ منافقت اور ڈوب مرنے والی بات کوئی نہیں ہو سکتی…ہم امریکہ اور یورپ سمیت دوسری قوموں پر الزام دھرتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے ان کے یہاں اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا ذکر کرتے نہیں تھکتے… کیا کبھی ہم نے ایک لمحے کے لیے غور کیا ہے کہ جب ہم اپنے ساتھ ہی یہ سلوک روا رکھیں گے اور خود اپنی غفلت کی وجہ سے اپنے اوپر مسلط کیے جانے والے سفاک اور آمریت زدہ حکمرانوں کی جانب سے اپنے بہترین اور قوم کے نمائندہ لوگوں پر جبر و تشددبرداشت کرتے رہیں گے تو دوسروں کو الزام دیتے رہنا اور انہیں اپنی تمام تر محرومیوں، ناکامیوں اور پستی کی جانب لڑھک جانے کا ذمہ دار ٹھہراتے رہنا کیا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف نہیں… اگر حکمران اور بالادست طبقہ اپنے ہی ان لوگوں کے خلاف جو ہمارے اندر حضرت مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں زمین کے نمک کا درجہ رکھتے ہیں محض اپنے جابرانہ اور غیر نمائندہ اقتدار کو مستحکم کرنے کی خاطر اس طرح کا انسان دشمن اور ہر ہر اسلامی تعلیم کو رگید کر رکھ دینے والا سلوک روا رکھے گا تو غیر ہماری ذہنی اور عملی پسماندگی کے آئینہ دار سفاکانہ طرز عمل سے کیوں فائدہ نہیں اٹھائیں گے … ایسے حکمران اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں عوامی جواز سے محرومی کی وجہ سے اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں رہ سکتے… اس لیے غیر ملکی آقاؤں کے سہاروں کے محتاج ہوتے ہیں تو پھر انہیں دوسروں کا آلہ کار بننے میں اور ان کے اشاروں پر ناچنے سے کون روک سکتا ہے…مصر میں عوام کے منتخب کردہ اور جائز ترین اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد ہی برطرف کر دیئے جانے والے ڈاکٹر محمدمرسی کی حالت قید کے اندر بلکہ عین اس عالم میں جب انہیں پنجرے میں ڈال کر اپنے ملک کے کنگارو کورٹ میں پیش کیا گیا … جاسوسی کا بے بنیاد اور بیہودہ الزام ان پر لگا یا گیا… اس پر اپنا دفاع پیش کرنے کے فوراً بعد اس روشن ضمیر اور غیرت مند انسان کی حالت بگڑ گئی اور وہ وہیں گر کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا… مرحوم کئی سالوں سے شدید قسم کی بیماریوں میں مبتلا چلے آ رہے تھے… علاج کی سہولتیں کم از کم حد تک بھی میسر نہ تھیں… مرض بڑھتا چلا جا رہا تھا… مصر کی آمرانہ فوجی حکومت کو ذرا برابر پرواہ نہ تھی… البتہ یوں ہے کہ اپنی قوم کے اس بہادر ترین اور انتہا درجے کے جرأت مند انسان کو جو عدالت کے سامنے دیئے گئے ہر بیان میں ببانگ دہل کہتا تھا کہ وہ اب بھی اپنے ملک کا جائز اور عوامی نمائندگی کے حامل اقتدار کا حق دار ہے… اس کی اس حالت میں موت پر عہد حاضر کے فراعین مصر نے یقینا اطمینان کا سانس لیا ہو گا… میں کوئی مماثلت نہیں قائم کرنا چاہتا… لیکن یہ سوال اٹھانے کی جسارت ضرورت کروں گا کہ کوئی پونے چودہ سو سال قبل کربلا میں جو کچھ ہوا وہ کیا اس سے مختلف تھا؟

مصر میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا… الاخوان المسلمون کی تاریخ متشدد اور جابر حکمرانوں کا مقابلہ کرنے اور عوام سے اپنی بھرپور نمائندگی کا سرٹیفکیٹ لیتے ہوئے اپنے اسلامی اور جمہوری مقاصد کی خاطر پے در پے قربانیاں دینے سے عبارت ہے… تاریخ کے صدیوں پرانے صفحات الٹ کر دیکھیں تو بات حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان مقابلے تک جا پہنچتی ہے… اخوان کے بانی رہنما حسن البنا شہید کے علم اورللّہیت کی آج بھی عالم عرب کا ہر فرد گواہی دیتا ہے وہ ایک پر اثر ، دینی شخصیت تھے … محدود وسائل کے ساتھ اپنا پیغام دور دور تک پہنچانے میں اور مصر اور عرب کے معاشرے کو اسلامی اجتماعیت کے رنگ میں ڈال دینے کی جدوجہد کرنے والی آج کی سب سے بڑی عرب جماعت کے بانی تھے… ان کا شمار ارض فلسطین پر یہودیوں کے قبضے کے خلاف روز اول سے مؤثر آواز بلند کرنے والے اولین رہنماؤں میں ہوتا ہے… مسلم دنیا کے مسائل کے بارے میں تحریک پاکستان کے قائدین کے افکار کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے تھے… قائداعظمؒ کو بھی اپنے جذبے سے متاثر کیا … لیکن زندگی کے آخری سالوں میں مرحوم پر عرصۂ حیات اس قدر تنگ کر دیا گیا کہ بے کسی کے عالم میں جان جانِ آفرین کے سپرد کی… گھر میں کوئی مرد نہیں تھا… ہمسایہ والوں اور ارد گرد کے لوگوں میں میت اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی… اتنی بڑی شخصیت کی بیٹیوں کو حالت مجبوری میں یہ فریضہ ادا کرنا پڑا… یہ مصر میں ملوکیت کا دور تھا اس کے بعد فوجی آمریت غالب آئی… جمال عبدالناصر مرد آہن کا درجہ رکھتے تھے فلسطینیوں کے حق میں ان کی اٹھائی جانے والی آواز کی گونج دنیا کے ہر کونے میں سنی جا سکتی تھی مگر اپنے ملک کے اندر بنیادی انسانی حقوق کو اس حد تک رگید ڈالا تھا کہ کسی شہری کو اونچی آواز میں سیاسی گفتگو کرنے کا یارا نہ تھا… اس دورمیں الاخوان المسلمون کے شہرۂ آفاق رہنما اور عظیم اسلامی سکالر و مفسر قرآن سید قطب شہید کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا… آج کے مقابلے میں اس وقت کا ردعمل زیادہ شدید تھا… شاید ہم مسلمانوں میں ایمان و غیرت کی کوئی رمق باقی رہ گئی تھی… مگر جمال عبدالناصر کی رعونیت اور جابرانہ اقتدار کو کسی بات کی پرواہ نہ تھی… آج جو حسن البنا اور سید قطب شہید کے عظیم وارث ڈاکٹر محمد مرسی جن کے سینے پر اپنے عوام کا منتخب آئینی صدر ہونے کا تمغہ آخری دم تک جگمگاتا رہا اس کی چمک دمک موجودہ ابنائے فراعنہ سے مٹائے نہ مٹتی تھی… موت کے بعد بھی ان کا عالمی تعارف یہی تھا… اس مرد جلیل کو حکمرانوں نے سابق تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طرح موت سے ہمکنار کیا گیا ہے کہ تختہ ٔ دار پر لٹکانا نہیں پڑا جیل کے اندر علاج کی سہولتیں میسر نہ کر کے آسانی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے… ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے… معلوم نہیں مسلمان دنیا کی کتنی آمریتیں مصری ماڈل کو سامنے رکھ کر اپنے اپنے ملک کے منتخب لیڈروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھنے پر تلی ہوئی ہیں…

مگر مصر کی تاریخ کا یہ ایک پہلو نہیں… اس دوران بھی اس کے فوجی اور جابر حکمرانوں نے اپنے دشمن کے ہاتھوں پے در پے جنگیں ہار کر مسلسل رسوائی مول لی ہے اور ایک مرتبہ ایسا نہیں ہوا اہل مصر اور ان کا اتباع کرنے والے دوسری عرب ملوکیتوں اور آمریتوں نے بیرونی اپنے دشمنوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست نہ کھائی ہو پے در پے اور ذلت آمیز شکستوں کی ایک لڑی ہے جو ان کے گلوں میں لٹکتی نظر آتی ہے… جون 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں جس طرح اسرائیل کی ناجائز یہودی ریاست نے ان کی فوجوں کے چھکے چھڑا کر رکھ دیے… فلسطینی اور عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا… ان میں سے کسی ایک خطے کو بھی آج تک واپس نہیں لیا جا سکا… اسی پر اکتفا نہیں بلکہ جمال عبدالناصر کے وارث انوار السادات نے تمام عرب ممالک کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مفادات کی خاطر اسرائیلی ریاست کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے… اسے اپنے ملک کی جانب سے جائز ریاست ہونے کا مقام دے دیا اور بدلے میں صرف دریائے نیل کے سمندری راستوں کو اپنے لیے کھلوا لیا… تمام فلسطینی اور بقیہ مقبوضہ عرب علاقے گئے جہنم میں ! تب انوار السادات کو ایک فوجی پریڈ کے دوران اپنے ہی غیرت مند سپاہی نے گولیوں سے بھون کر رکھ دیا… اس کے بعد حسنی مبارک کا 31 سالہ دور آمریت شروع ہوا … پورے مصر کو امریکی حکمرانوں کے قدموں میں لا کر رکھ دیا اور اسرائیلیوں کی خوشامد میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی… 2011ء کی عرب بہار کی آندھی نے حسنی مبارک کے بوڑھے اور لاغر اقتدار کو اڑا کر رکھ دیا… مصری عوام کا اسلامی اور جمہوری جذبہ جاگ اٹھا… انہوں نے 2012ء کے عام انتخابات کی واضح اکثریت کے ساتھ ڈاکٹر محمد مرسی جیسی انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انجینئرنگ میں امریکی کی ایک یونیورسٹی کی ڈگری ہولڈر شخصیت کو صدر چن لیا… یہ صاف شفاف اور مصری عوام کی امنگوں کے آئینہ دار انتخابات تھے جن کے مستند ہونے پر عالمی مبصرین نے بھی مہر تصدیق ثبت کر دی تھی… قصور بس یہ تھا کہ خدا کا نام لیتا تھا اس زمانے میں! اس عوامی نمائندے کا اقتدار سنبھالنا تھا کہ مصری اشرافیہ کے ان طبقات میں جو جمال عبدالناصر ، انوار السادات اور حسنی مبارک جیسے ڈکٹیٹروں کی آغوش میں پروان چڑھے تھے ، ایک سال کے اندر ہی اپنے منتخب صدر کے خلاف شور و غوغا کا ایک طوفان برپا کر دیا… مصر کے لوگ ہرگز جمہوریت کے ان باغیوں کے ساتھ نہیں تھے… وہ متوسط اور نچلے طبقوں سے تعلق رکھتے تھے… اشرافیہ کی شان و شوکت اور اثر و رسوخ کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے… مشہور و معروف عرب ملوکیتوں کے علاوہ امریکہ اور یورپ کے مفادات بھی متقاضی تھے کہ اسلامی جذبے اور شعور سے سرشار عوامی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا کر رکھ دیا جائے کیونکہ اس حکومت کی کامیابی سے ان کے اس بے بنیاد دعوے یا نظریے کی تکذیب ہو جاتی تھی کہ اسلام اور جمہوریت کا ملاپ نہیں ہو سکتا… (Islam and democracy are incompatible)ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ اسلام کو جمہوریت کی بجائے دہشت گردی کا ہمرکاب نظریہ بنا کر بدنام کیا جائے… اسی لیے ابو بکر البغدادی جیسے لوگ ان کے زیر سایہ پروان بھی چڑھے پھر ان کے خلاف لڑائی مول لے کر دنیا کو غلط طور پر باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم بیک وقت اسلام اور دہشت گردی کے ساتھ نبرد آزما ہیں… یوں محمد مرسی کو ایوان صدر سے اٹھا کر جیل میں پھینک کر اور پھر cold murder جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے موت سے ہم آغوش کر کے غیر فطری طور پر اسلام اور جمہوریت کے درمیان فاصلوں کو بڑھانے کی سعیٔ نامراد کی گئی ہے… نہ صرف مصر بلکہ عالم عرب اور مسلم دنیا کی کئی بادشاہتیں اور فوجی یا نیم فوجی حکومتیں اس کام میں ان کا ہاتھ بٹانے میں لگی ہوئی ہیں… یہ ہے ہمارے عہد کے مسلمانوں کی بے چارگی کی خوفناک تصویر اور وقت کا المیہ


ای پیپر