یہ اچھی کرکٹ نہیں تھی
19 جون 2019 2019-06-19

بچپن میں ہم کرکٹ کھیلتے۔ اور ہمارے باقائدہ میچ ہوتے۔ ہر میچ کے مختلف مراحل میں ہماری آپس میں لڑائی ہوتی۔ ہم آج تک اندازہ نہیں لگا سکے۔ ہماری یہ لڑائیاں کرکٹ کی وجہ سے ہوتیں۔ یا ہم لڑنے کے لیے کرکٹ کھیلتے۔ کرکٹ ٹیموں کی تشکیل خاصی دلچسپ ہوتی۔ اور ہماری پہلی لڑائی ٹیموں کے چناو کے وقت ہوتی۔ لیکن یہ لڑائی پرامن طریقے سے گزر جاتی۔ ایک ہی گلی میں دو دو ٹیمیں وجود میں آ جاتیں۔ اور وجہ اس کی کپتان بننے کے دو خواہش مند لڑکوں کا باہمی جھگڑا ہوتا۔ ٹیم ایک اور کپتان دو۔ اور دونوں کا مطالبہ ہوتا۔ کپتان بننے کا حقدار صرف وہ ہے۔ کپتان بننے کے یہ دو خواہش مند لڑکے کپتانی کے لیے کم اور ہیرو پنتی کے موڈ میں زیادہ ہوتے۔ گلی کی ٹیم گلی میں ہی کھیلتی۔ اور تماشائی گلی کے دونوں جانب گھروں کی لڑکیاں ہوتیں۔ جو میچ شروع ہوتے ہی بالکنیوں ، کھڑکیوں اور چھت پر تشریف لے آتیں۔ اور میچ کا ماحول بن جاتا۔ نظر سب کی کپتان پر ہوتی۔ چناچہ ہیرو پنتی دو لڑکے کپتان بننے کے لیے باقاعدہ ایک یدھ لڑتے۔ اس یدھ کا فیصلہ اس بات پر ہوتا زیادہ کپڑے کس کے لیرو لیر ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے اس نتیجے کو بھی مسترد کر دیا جاتا۔ پھر وہی ہوتا۔ جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ ٹیم تقسیم ہو جاتی۔ دو دو لڑکے گلے میں بازو ڈالے لٹکتے مٹکتے آتے۔ ڈگم ڈگم ڈوڈو ،جیویے تہاڈا ماں پیو گیند لینی کہ بلا۔ اور آدھے لڑکے ایک کپتان کی طرف اور آدھے لڑکے دوسرے کپتان کی طرف چلے جاتے۔ کئی بار ڈگم ڈگم ڈو ڈو میں بھی ہاتھا پائی ہو جاتی۔ جب گنے جاتے تو پتہ چلتا۔ لڑکے تو کم رہ گئے۔ ٹیمیں مکمل نہیں ہوئیں۔ تب اگلا مرحلہ آتا۔ ریلو کٹوں کی تلاش ۔ اور ریلو کٹوں کی یہ تلاش ایسے ہی ہوتی جیسے سونے کی تلاش۔ تکنیکی طور پر ریلو کٹوں کو زیادہ فائدہ ہوتا۔ دونوں ٹیموں کی جانب سے کھیلتے۔ دو دو باریوں کے مزے لیتے۔ دونوں جانب سے باولنگ بھی کرواتے ، ڈبل فیلڈنگ کرتے۔ اور زمہ داری کوئی نہیں ۔ لیکن آج تک سمجھ نہیں آئی۔ لڑکے ریلو کٹے بننے سے پرہیز ہی کرتے۔ شاید لفظ ریلو کٹے میں کسی بے عزتی کا عنصر چھپا تھا۔ ایک کٹا اور دوسرے ریلو۔ یعنی ایسا کٹا جو جدھر چاہے لڑھک جائے۔ بہرحال ریلو کٹوں کی تیسری لڑائی کے بعد ٹیمیں فائنل ہو جاتیں۔ امپائر اپنی انگلی سمیت مخالف ٹیم کا ہوتا۔ اور ہمیشہ اپنی ٹیم کی حمایت کرتا۔ پورے میچ کے دوران ایمپائر کی انگلی غلط ٹائم پر غلط طریقے سے اوپر نیچے ہوتی رہتی۔ اور دونوں ٹیمیں کرکٹ چھوڑ کر باہم دست و گریباں ہوئی ہوتیں۔ ایک لڑائی تب ہوتی جب ٹیم کا اوپنر پہلی گیند پر آوٹ ہو جاتا۔ اور رونا ڈال دیتا۔ وہ ابھی تیار نہیں تھا۔ پھر اسے اچھی طرح تیار کیا جاتا۔ اور فاسٹ باولر عین اس کی ٹانگوں کے درمیان حساس مقامات پر بال دے مارتا۔ تقریبا پانچ منٹ تک وہ اپنے نازک مقام کو دبائے اچھلتا کودتا رہتا۔ ہائے میں مر گیا۔ اور مخالف ٹیم اس کے زخموں پر نمک چھیڑتی اور کہتی ایک باری اور لے لو یار۔ میچ کا اختتام عموما دوسری جنگ عظیم کی طرز پر ہوتا۔ ایمپائر اس وقت اپنی انگلی کھڑی کر دیتا۔ جب مخالف ٹیم میچ جیتنے کے قریب ہوتی۔ سب سے پہلے وکٹیں نکال کر ایمپائر پر ڈائریکٹ حملہ کیا جاتا۔ ایمپائر دوڑ لگا دیتا۔ اس کے پیجھے مخالف ٹیم ہوا میں وکٹیں لہراتی اس کا پیچھا کر رہی ہوتی۔ اور ہر قسم کی گالیوں نکالی جا رہی ہوتیں۔ اس سے پیچھے ایمپائر کی ٹیم ہاتھوں میں بلے اور وٹے پکڑے بھاگ رہی ہوتی۔ اور سب سے آخر میں ریلو کٹے لٹکتے مٹکتے بھاگے آ رہے ہوتے۔ اور حیرت کی بات یہ ہوتی۔ یہ ریلو کٹے دونوں ٹیموں کی برابر کی ٹھکائی کر رہے ہوتے۔ اور انہوں نے ایمپائر کو کندھوں پر اٹھایا ہوتا۔

شام کو محلے کے کن ٹٹے افراد کی پنچایت بیٹھتی۔ متفقہ فیصلے کے بعد دونوں کپتانوں کو کان پکڑوا کر مرغا بنایا جاتا۔ کہیں دور سے مرغیوں کی کڑ کڑ کی آواز آتی۔ میچ کی ٹرافی ایمپائر کی خدمت میں عزت و احترام کے ساتھ پیش کی جاتی اور ہمیں کہا جاتا۔ یہ اچھی کرکٹ نہیں تھی ۔


ای پیپر