حکومت اوراین ایچ اے کی عجلت ۔ مہنگائی کا ایک سبب اور!
19 جون 2019 2019-06-19

گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے ۔ اگر یہ بجٹ من و عن پارلیمنٹ میں منظور ہوگیا جو ایک مشکل کام ہے، تو ملک کے کم آمدنی والے اور غریب طبقات کی زندگی مزید اجیرن اور کٹھن ہو جائے گی۔ اگرچہ حکومتی وزراء اور ان کے ترجمان شدت سے یہ ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ بجٹ میں لگائے ٹیکسوں کا عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اپنے اس دعوے کی تائید میں حسبِ روایت حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت اور دلیل سامنے نہیں آئی ہے۔ معلوم نہیں کہ حکومت کے پاس ایسا کون سا منتر ہے کہ ٹیکسو ں کا بوجھ عوام پر نہیں پڑے گا۔ بجٹ کے نتیجے میں جو مہنگائی ہونی ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گی لیکن اس کے علاوہ حکومت نے خاموشی سے ایسے اقدامات بھی کیے ہیں جس سے نہ صرف مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ ایکسپورٹ کی لاگت میں اضافہ اور امپورٹ کی جانے والے اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔

عید کی تعطیلات کے بعد ہی وفاقی وزارت مواصلات کے ایماء پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ایک ایسے قانون کا نفاذ کردیا جس سے ملک میں تجارتی سامان کی ترسیل کی لاگت میں تقریبا تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور ظاہر ہے اس اضافے کا براہ راست بوجھ بھی پاکستان کے عوام ہی اٹھائیں گے۔ حکومت نے این ایچ اے کے ذریعے ایکسل لوڈ کے قانون پرسختی سے عمل کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی قومی شاہراہوں پر جو دس وہیلر ٹرک پہلے 35 ٹن وزن کا سامان اٹھاتا تھا ۔ این ایچ اے کے اس فیصلے کے بعد اب وہ ٹرک سترہ ٹن کا وزن اٹھانے کا پابند ہوگا بصورت دیگر اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔ اس فیصلے سے ان ٹرکوں کے وزن اٹھانے کی صلاحیت کو تقریبا نصف کردیا گیا ہے۔

تیکنیکی لحاظ سے دیکھا جائے تو این ایچ اے کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مارچ 2018 ء سے ایک کمیٹی اس معاملے پر اپنی سفارشات مرتب کررہی تھی۔ اس دوران مختلف شہروں کی تجارتی تنظیموں سے بھی بات کی گئی لیکن اس فیصلے کی پرزور حمایت یونائیڈ گڈز ٹرانسپورٹ نے کی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے چینی پر لگائے جانے والے ٹیکس کی حمایت جہانگیر ترین اور ان جیسے دیگر شوگر ملز مالکان اور ذخیرہ اندوزوں نے کی ہے۔این ایچ اے کی حدود میں آنے والی شاہراہوں کا نیٹ ورک بارہ ہزار سات سو کلو میٹر ہے جو 2.5 ٹرلین روپے مالیت کی ہیں۔ جس کی سالانہ دیکھ بھال کے لیے 60 ارب روپے درکار ہوتے ہیں جب کہ این ایچ اے کے پاس سالانہ 26ارب روپے کا بجٹ ہوتا ہے۔ این ایچ اے کا نقطہ نظر یہ ہے کہ تمام روڈ بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعمیر کیے جاتے ہیں ۔ مگر این ایچ اے کے اس معیار کی قلعی ہر سال ہونے والی بارشیں کھول کر رکھ دیتی ہیں۔ این ایچ اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزن کی زیادتی کی وجہ سے جو سڑک دس سال چلنی چاہیئے وہ تین سال میں ہی تباہ ہوجاتی ہے۔اسی طرح بقول این ایچ اے کہ وزن کی زیادتی کی وجہ سے ٹرک کے جو ٹائر دو سال چل سکتے ہیں وہ چھ ماہ میں ہی استعمال کے قابل نہیں رہتے ہیں۔ لیکن این ایچ اے نے شاید اس پہلو کو نظر انداز کیا ہے کہ ٹائر کی قیمت ہو یا آئل تبدیلی اور دیگر اخراجات یہ موجوہ کرایوں میں شامل ہیں اور تمام ٹرانسپورٹر اپنے کاروبار منافع بخش بنیادوں پر اسی صورت حال میں چلا رہے ہیں۔ اسی طرح اگر این ایچ اے کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ ٹائر ز امپورٹ کیے جاتے ہیں جن پر بھاری زرِ مبادلہ خرچ ہوتا ہے توکیا این ایچ اے کے پاس اس کا جواب ہے کہ وزن کی کمی کی وجہ سے تجارتی سامان کی ترسیل کو پورا کرنے کے لیے ایک ایک کروڑ مالیت کے جو مزید ہزاروں ٹرک در آمد کیے جائیں گے ان پر کتنا زر مبادلہ خرچ ہوگا؟۔پھر شاہراہوں پر ٹریفک کا جو رش ہوگا اس کے حل کے بارے میں کیا پلاننگ کی گئی ہے ؟ پہلے جس سڑک پر دن میں ہزار ٹرک چلا کرتے تھے اب اس پر دو ہزار ٹرک ایک دن میں چلا کریں گے۔

این ایچ اے کے اس فیصلے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ تمام کمپنیاں جن کے سامان کی ترسیل میں این ایچ اے کے وزن کے کانٹے آتے ہیں انہوں نے ٹرانسپورٹروں کے مطالبے پر تقریبا پچاس فیصد کرایوں میں اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح جو مزدور تجارتی سامان کو ٹرکوں سے اتارنے کا کام کرتے تھے انہوں نے بھی اپنی مزدوری میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔این ایچ اے کے اس فیصلے سے بڑھنے والے اخراجات کے سبب صنعت کاروں، تاجروں او ر سرمایہ داروں نے قیمت فروخت میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے ’’ثمرات‘‘ کے نتیجے میں اگرچہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں ویسے ہی مندی کا شکار ہیں جس سے ملک میں موجود تقریبا دس فیصد ٹرک استعمال نہیں ہورہے تھے ۔ مگر اس فیصلے کے نتیجے میں یک دم ملک میں ٹرانسپورٹ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ٹرانسپورٹر حضرات کی چاندی ہوگئی ہے کہ وہ کرایہ جو پینتیس ٹن کے وزن پر ملتا تھا اب وہ 17 ٹن کے وزن پر ملے گا اور اخراجات بھی کم ہونگے۔

اگر شاہراہوں کی حفاظت اور مرمت ، ٹائروں کی استعمال کی مدت کی کمی کے حوالے سے این ایچ اے کا نقطہ نظر تسیلم کر بھی لیا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کسی بہتر پلاننگ کی بجائے عجلت میں کیا گیا ہے اور بظاہر یہ فیصلہ سڑکوں کی حفاظت کی بجائے ٹرک بنانے والی کمپنیوں اور ٹرانسپورٹروں کو غیر معمولی فائدہ پہچانے کے لیے نظر آتا ہے۔

اگر حکومت اس کام کو سنجیدگی سے لیتی تو اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے ملک میں ریل کے نظام کو بہتر کیا جاتا۔ ریل کی بوگیوں اور ریلوے لائن میںاضافہ کیا جاتا اور بتدریج ملک میں تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے ریل کو کارآمد بنا کر تجارتی مال کو ٹرکوں سے ریل پر منتقل کیا جاتا ۔ پاکستان ایسے ترقی پذیر ممالک میں ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ٹائروں اور گاڑیوں کی بین الاقوامی کمپنیوں کے ایماء پر یہاں ریل کے نظام کو قصداََ پس ماندہ رکھا گیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ریل کو آج بھی ٹرک اور ٹائر بنانے والی کمپنیاں اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتی ہیں۔ اگر ریل کا نظام مئوثر ہوجائے تو بذریعہ سڑک تجارتی مال کی ترسیل میں ریل کے ذریعے ترسیل نہ صرف نہایت سستی ہوگی بلکہ شاہراہوں پر ٹرکوں کے رش کی کمی اور زرمبادلہ کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم ریلوے نے بھی 20 جون سے باربرداری کے کرایوں میں 10 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے سامان کے کرائے میں ہر دو صورتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔


ای پیپر