پروڈکشن آرڈر اور آئین کی اصل روح
19 جون 2019 2019-06-19

ہماری پارلیمنٹ جو کہ ہمارے لیے قوانین بناتی ہے اور جمہوریت کی زبان میں ایک مقدس ایوان کا درجہ رکھتی ہے آج کل جس غیر مقدس طریقے سے ہماری معاشرتی اقدار کی دھجیاں بکھیر رہی ہے یہ سماجی طور پر خطرے کی گھنٹی ہے کہ ہماری اخلاقی روایات کی پستی کا درجہ صفر پر آ گیا ہے۔ لڑائی جھگڑا عدم برداشت اخلاق سے گرے ہوئے جملے اور اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ ممبران سپیکر کے ڈائس کے سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور للکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم یہ کارروائی نہیں چلنے دیں گے اور اجلاس ملتوی کر دیا جاتا ہے۔ اس سے اگلی نوبت یہ ہو گی کہ سپیکر کو گریبان سے پکڑ کر نیچے گھسیٹ لیا جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ تمام پارٹیوں کے سیاسی لیڈروں کی زبان اور لہجہ انتہائی گر چکا ہے جس کے معاشرے پر سنگین اور دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وقت ا ٓ گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نیا ضابطہ اخلاق لایا جائے اور بد تمیز ارکان کے لیے سزائیں مقرر کی جائیں۔ ان کے محض مائیک بند کرنا کافی نہیں ہے۔ یہ ہماری آنے والی نسلوں کو کیا سکھا کر جا رہے ہیں۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب یہ اسمبلی کے فلور پر ایک دوسرے کو جوتے ماریں گے۔

عدم برداشت کے حالیہ طوفان کے پیچھے اسیر ارکان اسمبلی خصوصاً سابق صدر آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مشترکہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے۔ یہ سپیکر کا صوابدیدی آئینی اختیار ہے کہ وہ کسی زیر حراست ممبر کے لیے آرڈر جاری کرے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ کسی آئینی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری قانون ساز اسمبلی جو قوانین 22 کروڑ عوام کے لیے بناتی ہے کیا وہ خود اس سے بالاتر ہیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے یہ ایک آئینی سوال ہے جس کی روح اس امر میں مضمر ہے کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا کوئی شخص کا مطلب ممبران اسمبلی بھی شامل ہیں ہمارے آئین نے ممبران اسمبلی کے لیے جو گنجائش پیدا کر رکھی ہے یہ غیر اخلاقی اور آئین کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے میں ذاتی طور پر اس بات کہ حق میں ہوں کہ سپیکر کا یہ اختیار ہونا ہی نہیں چاہیے کہ وہ کسی سرکاری تحقیقاتی ادارے کے کارِ سرکار میں مداخلت کر کے وہاں سے اپنا بندہ چھڑا کر لے جائیں اور تفتیش کی راہ میں روڑے اٹکائیں۔ اس سے دو اداروں کے آپس میں ٹکرائو کا تاثر ابھرتا ہے اور گرفتاری کے مقاصد ضائع ہو جاتے ہیں اس کی حالیہ مثالیں یہ ہیں کہ شہباز شریف گرفتار ہوئے تو بطور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی وہ روزانہ اجلاس طلب کر لیتے تھے اس کمیٹی کے بارے میں سب کو پتہ ہے کہ اتنے متواتر اجلاس نہ پہلے کبھی ہوئے اور نہ ا ن کی ضمانت کے بعد۔ اب دوسری مثال سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی ہے نیب ان سے اثاثوں کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میرا تعلق پاکستان بنانے والی فیملی سے ہے لہٰذا آپ مجھ سے یہ نہیں پوچھ سکتے ۔ اسی آنکھ مچولی میں وہ سندھ اسمبلی اجلاسوں کی سربراہی پوری لگن سے کر رہے ہیں ان کا بس چلے تو سندھ اسمبلی کے اجلاس 24 گھنٹے اور 7 دن فی ہفتہ چلتے رہیں۔ نیب کو چکمہ دینے کی پروڈکشن آرڈر پالیسی کوئی راز کی بات نہیں ہے اس اختیار کا ہر دور میں غلط اور سیاسی استعمال ہوتا ہے مجھے یقین ہے کہ آپ سپیکر قومی اسمبلی کے اس اختیار پر عوام میں ریفرنڈم کرا لیں تو بلا امیتاز سیاسی وابستگی کے عام ووٹر اس کی مخالفت کرے گا۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں عام آدمی کے لیے اور قانون ہے اور ممبران قومی اسمبلی کے لیے قانون موم کی ناک ہے جسے بوقت ضرورت جس طرف چاہیں موڑ لیں۔ یہ قانون احتساب اور رول آف لاء سے متصادم ہے۔ اس سے ممبران اسمبلی کو دیوتا کا درجہ مل جاتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے جیسے چاہے کھیلتا رہے مگر وہ بذات خود کسی کی دسترس میں نہ ہو گا۔ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں۔

اب ذرا آصف زرداری صاحب کے مقدمات کی بات ہو جائے منی لانڈرنگ اور ملک سے سرمائے کے فرار کے بے تحاشا مقدمات کے Documentary ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں جو اتنے ناقابل تردید اور مضبوط ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے وکیل کے لیے بھی ان کا دفاع کرنا ممکن نہیں ہے۔ زرداری صاحب جعلی اکائونٹس کو بزنس اکائونٹ کہتے ہیں (یہ میں نے پہلی بار ان سے سنا ہے) آج تک کسی نے جعلی اکائونٹ کو بزنس اکائونٹ کا نام نہیں دیا۔ وہ میڈیا پر قوم کے سامنے کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں اس طرح کے اکائونٹ ہر کوئی استعمال کرتا ہے گویا یہ بالواسطہ طور پر اعتراف ہے۔ نیب نے اس منظم اور وسیع نیٹ ورک میں A to Z اس زنجیر کا ایک ایک کنڈا یا Loop ٹریس کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا اعتراف بھی موجود ہے کہ یہ سارا Syndicate کیسے اور کس کے حکم پر چلتا تھا۔ اس کا ضمنی پہلو یہ ہے کہ اگر آپ اندرون سندھ حیدر آباد سے جیکب آباد تک سفر کر کے دیکھ لیں لوگوں کی حالت زار چیخ چیخ کر آپ کو بتائے گی کہ سندھ کے وسائل کو کس بے رحمی سے لوٹا گیا ہے کہ لوگوں کے تن پر کپڑے نہیں رہے۔ یہ ایک بہت طویل اور دردناک داستان ہے جسے سننے اور سنانے کے لیے پتھر کا جگر چاہیے۔ مگر سیاست کی مکروہ ترین شکل یہ ہے کہ ان سارے مقدمات کو سیاسی کہہ کر اتنے بڑے قومی گناہ پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ سندھ کی کہانی کا سب سے تاریک صفحہ یہ ہے کہ سندھ کے ان پڑھ اور سادہ لوح عوام یہ سمجھ رہے ہیں کہ سندھیوں کے ساتھ انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔آج تک پاکستان کی کسی قومی سیاسی پارٹی کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سندھ میں عوام تک رسائی حاصل کر سکے۔ پیشوائیت کا ایک منظم نظام جمہوریت کی ناک کے نیچے بڑی مضبوطی سے چل رہا ہے۔ جس کا سادہ سا فارمولا یہ ہے کہ ہر ضلع تحصیل اور حلقے کے طاقتور بندے کو اپنے ساتھ ملایا جائے اور ہر 5 سال بعد جو انتخابات کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے اس کے ذریعے غریب ہاریوں اور بے زمین طبقے کو لالچ تر غیب یا ڈرا دھمکا کر ووٹ لے لیے جائیں۔ اہل سندھ میں اتنی سکت ہی باقی نہیں کہ وہ مزاحمت کر سکیں۔ آصف زرداری صاحب کی 18 سے زیادہ شوگر ملوں کے لیے خام مال یعنی گنا وہاں کے کسانوں سے زبردستی مرضی کے ریٹ پر چھینا جاتا ہے پولیس سڑک پر گنے کی ٹرالیوں کو قبضہ میں لے کر انہیں زبردستی زرداری صاحب کی ملوں میں آف لوڈ کرواتی رہی ہے یہ بات سندھ میں رہنے والا بچہ بچہ جانتا ہے مگر کوئی بولتا نہیں۔

حال ہی میں چیئر مین نیب کے خلاف میڈیا پر ایک رسوا کن سکینڈل سامنے آیا جس کا مقصد انہیں اپنے عہدے سے ہٹانا تھا یہ ایک پر اسرار سٹوری تھی مگر ناکام ہو گئی اس کا ہدف یہ تھا کہ پورے احتساب کے نظام کو متنازعہ بنا دیا جائے اس سکینڈل سے چند دن پہلے آصف زرداری نیب میں پیش ہوئے تو انہوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ یہ مری آخری پیشی ہے۔ وہ واقعی ان کی آخری پیشی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگلی تاریخ تک نیب نہیں ہو گا۔ مگر بد قسمتی یا خوش قسمتی سے نیب موجود تھا مگر وہ غیر حاضر تھے۔ اس کے بعد ان کی ضمانت کینسل ہو گئی۔

بہر حال نیب کے عمل کو سیاسی انتقام قرار دینا یہ قوم ملک اور جمہوریت کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس ملک کو جس جس طرح سے لوٹا گیا ہے اس کا معمولی سا تقاضہ یہ ہے کہ حساب سود زیاں کی بات کی جائے۔ اگر مال مسروقہ کی بر آمدگی اور بازیابی میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو پاکستان سے قرضوں کا بوجھ کم ہو گا اور عوام کو سانس لینے میں آسانی ہو گی۔


ای پیپر