بھارت سے شکست اور ریلوکٹے
19 جون 2019 2019-06-19

انڈیا کے ساتھ ہمارا ہرکرکٹ میچ ورلڈ کپ کے فائنل کی طرح ہوتا ہے، ساری قوم پُرجوش انداز میں اس مقابلے کو دیکھتی ہے اور ہر پاکستانی کا یہی جذبہ اور خواہش ہوتی ہے کہ بھارت کو شکست دی جائے مگر بائیس کروڑ عوام کے سارے جذبات اس وقت سرد پڑ جاتے ہیں جب پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی عوام کے جذبات کی پروا کیے بغیر آسانی سے ہار جاتے ہیں ۔ حکومتی سطح پر بھی عوام کے جذبات و احساسات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اور اکثر اوقات ہم انڈیا سے بری طرح شکست کھاجاتے ہیں۔ اگر سرکاری طورپر ورلڈ کپ کے میچوں میں اور خاص طورپر بھارت سے میچوں میں ہارنے کے بعد غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے اپنی غلطیوں کا ازالہ کیا جاتا اور ذمہ داروں کو سزائیں دی جاتیں تو کم ازکم بھارت سے اتنی بار شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا، مگر ہم تو کہتے ہیں

تم جیتو یا ہارو ....ہمیں تم سے پیار ہے

ایک ورلڈ کپ میں تو بھارت سے شکست کے بعد باقاعدہ کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ پنجاب حکومت نے بھی پانچ پانچ لاکھ فی کس دے کر کھلاڑیوں کو نوازا۔

عمران خان کہا کرتے تھے کہ ہماری حکومت آئی تو کم ازکم کرکٹ تو پٹڑی پر ڈال دیں گے۔ یہ ان کا دور حکومت ہے اور بھارت سے کھیلتے ہوئے پاکستانی ٹیم گلی محلے کی ٹیم دکھائی دے رہی تھی۔

عمران کو ریلوکٹے کی بحث کا آغاز اس موقع پر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ حضور!اگر ٹیم میں ” ریلوکٹے “ ہیں تو کرکٹ بورڈ کے سربراہ سے پوچھیے کہ کیوں ایسے ” ریلوکٹے “ ٹیم میں شامل کئے گئے عمران خان کو کم ازکم کرکٹ اور وہ بھی بھارت سے مقابلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا۔

کپتان سرفراز کسی طرح بھی کپتانی کے لائق نہیں، اس کا تخصص کیا ہے؟؟۔ بہت اعلیٰ بلے باز ہے؟ یا بالر ہے؟ کیچ وہ چھوڑ دیتا ہے۔ جان مارکر کھیلنے والوں میں سے بھی نہیں تو کس بنیاد پر اسے ٹیم کی سربراہی سونپی گئی ؟؟....”پاٹے پرانے“ جنہیں کچھ لوگ سینئر کھلاڑی بھی کہتے ہیں انہیں کب کا فارغ کردیا جانا چاہیے تھا۔ شعیب ملک اور حفیظ کی پچھلے کچھ عرصے سے کیا کارکردگی ہے؟ اور کس بنیاد پر انہیں اب تک ٹیم کا حصہ بنایا ہوا ہے؟؟ ان سوالوں کا جواب عوام مانگ رہے ہیں۔

اگلے روز سارا برصغیر یہ کرکٹ میچ دیکھ رہا تھا بلکہ ساری دنیا نے ہماری ذلت آمیز شکست دیکھی۔ عام آدمی جو بہت ہیغیرت اور جوش وجذبے کے ساتھ میچ دیکھتے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ خود میدان میں بھارت کا مقابلہ کررہا ہے۔ ساری عوام کے جذبات داﺅد پر لگی ہوتی ہے مگر ہمارے کھلاڑیوں کو اپنی قوم کا ذرا احساس نہیں ہوتا۔ وہ غیرت کے ساتھ میدان میں نہیں اترتے۔ ذلت آمیز بھارتی شکست کے بعد عمران خان کو ٹیم واپس بلوا لینی چاہیے تھی کہ جس طرح جمائیاں لیتا ہوا ہمارا کپتان گراﺅنڈ میں دکھائی دے رہا تھا ساری دنیا کے سامنے رسوا پاکستانی قوم ہورہی تھی۔ میچ سے قبل انڈیا کی ٹیم پریکٹس کررہی تھی جبکہ ہمارے عیاش کرکٹر سیرسپاٹوں اور تفریح میں مصروف تھے۔ انہیں کوئی شرم وحیا نہیں تھی کہ اگلے روز بائیس کروڑ عوام کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ہمیں اپنے روایتی حریف سے ”لڑنا “ ہے۔ بھارت جیسے حریف سے مقابلہ کرتے ہوئے ان کا خون کھولنا چاہیے مگر یہ کبھی جان مار کر نہیں کھیلتے، نہ ہی فیلڈنگ کرتے ہوئے یہ گیند کو جان پر کھیل کر پکڑتے ہیں۔

لگتا ہی ہے کہ اب اس شعبے میں آرمی کو قومی ٹیم تشکیل دینی پڑے گی۔ اور خاص طورپر تربیت اور نظم وضبط کے سلسلے میں فوجی انداز اختیار کرنا پڑے گا۔ کرکٹرز کو آرمی میں عہدے دیں اور خود کرکٹر بھرتی کریں سخت ٹریننگ دیں۔ اور ”سٹے بازی“ کی لت سے دور رکھنے کے لیے جیت کے بعد انعامات دیں۔ اور خراب کارکردگی کرنے والوں کو سزا بھی دی جائے۔ آرمی ڈسپلن اور قومی حمیت کے جذبوں سے لیس ٹیم تیار کرنی پڑے گی جو کم ازکم بھارت سے کھیلتے وقت اپنے ملک وقوم کا سودا نہیں کرے گی۔ ٹیم میں مضبوط اور قدکاٹھ والے جوان منتخب کریں۔ ہمارے یہ ”چوزے کھلاڑی“ زور لگاکر بھی شارٹ لگاتے ہیں تو بھی گیند بمشکل میدان کی حدود کو ٹچ کرتی ہے ۔ قدآور اور مضبوط ڈیل ڈول کے کھلاڑیوں کی شخصیت سے بھی بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے فی الوقت تو ہمارے ہاں ہرسطح پر ”جوائ“ اور پیسے کے لالچ سے ہمارے ایمان تک محفوظ نہیں۔ کیا ہر چیز پیسہ ہی ہے، عزت غیرت کوئی شے نہیں۔ موجودہ ٹیم کی ناکامی کے اسباب پر نگاہ ڈالی جائے اور کھلاڑی منتخب کرنے والوں سے لے کر کوچ کپتان تک کا سب کا سخت محاسبہ کیا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بالکل نئی ٹیم تیار کی جائے اور تازہ دم کھلاڑی میدان میں اتارے جائیں جو شکل وصورت سے بھی کم ازکم ” ریلوکٹے “ نہ دکھائی دیں۔ بھارت سے ہارنا موت سے بھی بدتر ہے اور پھر اگر لڑ کر ٹیم ہار بھی جائے تو دکھ نہیں ہوتا کہ کھیل میں ہارجیت ہوتی ہے۔ مگر جہاں صاف دکھائی دے رہا ہو کہ دانستہ کوئی آﺅٹ ہوا ہے یا اس نے فیلڈنگ میں کوتاہی برتی ہے اس سے قوم کو دکھ ہوتا ہے کہ اتنی مراعات کھلاڑیوں کو دینے کے بعد بھی یہ لوگ کوئی کارکردگی نہیں دکھاتے؟ اب بال عمران خان کے کورٹ میں ہے دیکھیں وہ ٹیم کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔


ای پیپر