جسمانی طور پر متحرک رہیں،تندرست زندگی گزاریں
19 جون 2018 (16:54) 2018-06-19

عائشہ لیاقت:انسانی زندگی میں ورزش پر اس لئے زور دیا جاتا ہے کہ اس سے انسان متحرک رہتا ہے جو تندرستی کے لئے بہت ضروری ہے۔ کبھی یہ خیال کی جاتا تھا کہ اب تو عمر زیادہ ہو گئی اب خود ورزش کر کے تھکانے کا کیا فائدہ۔ لیکن ایک طبی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورزش جس عمر میں بھی کی جائے اس کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔


برطانیہ میں ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ عمر میں ورزش کرنے سے ڈیمینشیا (بڑھاپے میں ہونے والے خللِ دماغ) اور دیگر بیماریوں سے بچاو میں مدد ملتی ہے۔ برٹش جرنل آف سپورٹس اینڈ میڈیسن میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں ریٹائرمنٹ کی عمر کے قریب 3500 افراد پر تحقیق کی گئی۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ورزش کرنے والے افراد کا اپنے ہم عمر ورزش نہ کرنے والوں کی نسبت آئندہ آٹھ سال میں صحت مند رہنے کا امکان زیادہ تھا۔

ورزش دل کے عارضے، فالج، ذیابیطس، ایلزہائمرز اور ڈیپریشن جیسی بیماریوں کے خطرے کوکم کرتی ہے۔آٹھ سال تک جن افرادکا مطالعہ کیاگیا ان میں ہر پانچویں فردکو صحت مند قرار دیاگیا جسے کسی بڑی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا سامنا نہیں تھا۔ صحت مند افرادکے گروپ میں اکثر وہ افراد شامل تھے جو باقاعدگی سے ورزش کرتے تھے اور جو ورزش کرنے والے نسبتاً نئے تھے۔ جن افراد نے اپنے عمرکی چھٹی دہائی میں ورزش کی انھیں روزمرہ کے کام کاج میں کم دقت اٹھانی پڑی۔

تحقیق کے سربراہ محقق یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر مارک ہیمرکا کہنا ہے کہ”پیغام یہ ہے کہ اگر آپ بزرگ ہیں تو حرکت میں رہیں۔ زندگی بھر باقاعدگی سے ورزش کرنا مثالی ہے لیکن اگر عمرکے اس حصے میں بھی ورزش شروع کی جائے تو یہ بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے‘۔یہ ایک کہاوت ہے اگر آپ متحرک نہیں رہتے تو فائدہ نہیں ہوتا،۔ ڈاکٹر ہیم کے بقول جسمانی طور پر حرکت میں رہنے کا مطلب ورزش گاہ جانا یا دوڑنا نہیں، اس میں پیدل چلنا اور باغبانی کرنا بھی شامل ہے۔ برٹش ہارٹ فائو نڈیشن کی ڈورین میڈک کا کہنا ہے کہ ” متحرک رہنے کی عادت ڈالنا اچھی بات ہے جب ہمیں پتہ ہے کہ یہ دل کے عارضے اور دیگر بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔


روزانہ کتنی ورزش کی جائے؟
تائیوان میں ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ صرف پندرہ منٹ کی ورزش سے نہ صرف عمر میں تین سال تک اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ موت کے خطرے میں چودہ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔لینسیٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بالغ شخص کے لیے اپنی صحت کے مفاد میں ورزش کی یہ کم ترین حد ہے۔انگلینڈ کی ایک حالیہ تحقیق میں کم سے کم کسرت کا وقت تیس منٹ تجویز کیا گیا تھا۔برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ چھ گھنٹے روزانہ آلو کے چپس کھاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے سے عمر کے پانچ سال کم ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں برطانیہ کی حکومت نے بالغ افراد کو ایک ہفتے میں کم سے کم ایک سو پچاس منٹ کسرت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشورہ اب بھی قابل عمل ہے اور پندرہ منٹ ان افراد کے لیے بہت بہتر ہے جو اس سے بھی کم کی بالکل ورزش نہیں کرتے۔لینسیٹ میں کی گئی تحقیق میں چار لاکھ افراد کو شامل کیا گیا تھا جنہوں نے پندرہ منٹ روزانہ کسرت کی تھی۔تحقیق میں کہا گیا کہ مزید پندرہ منٹ کی ورزش عمر کی حد اور موت کی وجوہات میں چار فیصد کمی کرسکتی ہے۔انگلینڈ کی چیف میڈیکل افسر سیلی ڈیوس کا کہنا تھا ”ہمیں امید ہے کہ اس تحقیق سے لوگوں میں آگاہی پیدا ہوگی۔ ورزش کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک خاص رفتار سے چلنا بھی شامل ہے یا اپنے باغ میں کام کرنا بھی معنی رکھتا ہے۔ان کے بقول ’آپ کم ورزش سے بھی اچھا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ زیادہ ہمیشہ بہتر ہے لیکن کم ورزش آغاز کے لیے تو بہرحال اچھی ہے۔


خواتین ایک سے دو منٹ دوڑیں، ہڈیاں مضبوط بنائیں
خواتین اگر 60 سے 120سیکنڈ تک بھی روزانہ تیز دوڑیں تو ان کی ہڈیوں کی نشوونما پر بہترین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تیس سال سے زائد عمرکی خواتین میں ہڈیوں کا بھربھرا پن اور اس سے وابستہ دیگر امراض عام ہوتے ہیں لیکن اب اچھی خبر یہ ہے کہ اگر وہ روزانہ صرف ایک منٹ تک بھی پوری قوت سے دوڑیں تو اس سے ان کی ہڈیوں کی کثافت (ڈینسٹی) پراچھا اثر ہوتا اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔


اچھی اور مضبوط ہڈیوں کا مطلب بڑھاپے میں گنٹھیا سے بچاو¿ اور فریکچر میں کمی ہے۔ اگر خواتین باقاعدہ ورزش اور جِم جانے کا وقت نہیں نکال سکتیں تو ایک سروے کے مطابق وہ روزانہ60 سے120 سیکنڈ پوری تیزی سے دوڑکر اپنی ہڈیوں کو مضبوط بناسکتی ہیں۔ اگر اسی عرصے میں ہلکا وزن اٹھاکر بھی ورزش کریں تو اس سے بھی بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔


ماہرین کا اندازہ ہے کہ روزانہ 2 منٹ تک دوڑکر ہڈیوں کو مزید 6 فیصد تک مضبوط بنایا جاسکتا ہے یعنی ہڈیوں کی کثافت اور ٹھوس پن میں 6 فیصد بہتری واقع ہوتی ہے۔ یہ سروے برطانیہ میں یونیورسٹی آف ایکسیٹر اور یونیورسٹی آف لائسٹرکے ماہرین نے کیا ہے۔


سروے کی مرکزی ماہر اور رپورٹ کی مصنفہ ڈاکٹر وکٹوریا اسٹائلزکہتی ہیں ”ہمیں نہیں معلوم کہ ورزش کا اتنا مختصر دورانیہ بھی کس قدر اہم ثابت ہوسکتا ہے لیکن تیز دوڑنے، ہلکا وزن اٹھانے اور ہڈیوں کی مضبوطی کے درمیان ایک واضح تعلق دیکھا گیا ہے۔“
خواتین میں عمرکے ساتھ ساتھ ہڈیوں کی نرمی مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور یوں ان میں گٹھیاکے مرض کا خطرہ بڑھتا رہتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کے خیال میں روزانہ ایک دو منٹ کی دوڑ اور چند منٹ ہلکے وزن اٹھانے سے ان کی ہڈیاں مضبوط بن سکتی ہیں۔


دونوں جامعات کے ماہرین نے2500 سے زائد خواتین کا سروے کیا اور اس کا ڈیٹاکلائی پر بندھے مانیٹر اور اسکین سے حاصل کیاگیا۔ اس کے لیے ایڑی کی ہڈی کا اسکین بھی لیا گیا۔ سروے سے معلوم ہواکہ جن خواتین نے مختصر وقفے کے لیے ورزش کی ان کی ہڈیوں میں بہتری کے اثرات طویل عرصے تک مرتب ہوئے۔


دل اور فالج کے مریض اور ورزش
امریکہ اور برطانیہ میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد پرکی جانے والے ایک تحقیق کے نتائج سے پتہ چلاہے کہ ورزش دل اورفالج کے مریضوں کے لیے دوا جتنی ہی مو¿ثر ہے۔ سائنسدانوں کی اس تحقیق کے دوران تین لاکھ سے زیادہ مریضوں پر وزرش اوردوائیوں کے اثرات کا تقابلی جائزہ لیاگیا اور یہ بات سامنے آئی کہ ورزش جہاں دل کی بیماری کی ادویات جتنی ہی کارگر ثابت ہوئی، وہیں فالج کے مریضوں پر اس کا اثر دوا سے زیادہ ہوا۔ محققین کاکہنا ہے کہ ان نتائج کی بنیاد پر ورزش کو مریضوں کے نسخے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ تاہم ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ مریضوں کو دوا کے استعمال کے ساتھ ساتھ ورزش بھی کرنی چاہیے اور ان میں سے صرف ایک کا استعمال صحیح نہیں۔


فی زمانہ بہت کم بالغ افراد ضروری ورزش کرتے ہیں جب کہ ادویات کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھاگیا ہے۔ تحقیق کے دوران لندن سکول آف اکنامکس، ہارورڈ میڈیکل سکول اور سٹینفرڈ یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے محققین نے بطورِعلاج وزرش اور دوائیوں کے استعمال کے تقابلی جائزے کے بارے میں کی گئی طبی تحقیقات کو تلاش کیا۔


انہوں نے اپنے تجزیے کے دوران 305 ایسے تجربات کی نشاندہی کی جن میں دل کی بیماری، فالج کے مریضوں کی بحالی، دل کے دورے اور ذیابیطس کے مریضوں پر کام کیا گیا تھا۔ جب انہوں نے اس تمام ڈیٹا کا مجموعی طور پر جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ شرحِ اموات کے لحاظ سے ورزش اور دوا کے کردار کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔


برٹش ہارٹ فائونڈیشن کی سینیئر نرس ایمی ٹامسن کاکہنا ہے کہ اگرچہ ورزش سے صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ یہ دوا کے برابر یا اس سے بہتر ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ ’دل کی بیماریوں میں ادویات کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے اور دل کے مریضوں کو تجویز کردہ ادویات استعمال کرتی رہنی چاہییں: ’اگر آپ کو دل کی بیماری ہے یا ہونے کا خدشہ ہے، تو اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ علاج میں ورزش کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔‘ جبکہ سٹروک ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر پیٹرکولمین کے مطابق دواکے ساتھ ساتھ ورزش کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس پر مزید تحقیق ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’باقاعدہ ورزش کرنے، متوازن غذا کھانے اور سگریٹ نوشی ترک کرکے لوگ فالج کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔
٭٭٭


ای پیپر