چاند، اسلام اور سائنس
19 جون 2018 (16:49) 2018-06-19

مدثرنذرقریشی: اسلامی مہینوں کا آغاز چونکہ قمری سال سے ہوتا ہے، یعنی چاند دیکھنے یا اُس کے نظر آنے کی گواہی ملنے پر اگلے مہینے کا آغاز ہوتا ہے۔ اسلامی مہینے بھی 12 ہیں، جن میں محرم الحرام، صفرالمظّفر، ربیع الاوّل، ربیع الثانی، جمادی الاوّل، جمادی الثانی، رجب المرجب، شعبان المعظم، رمضان المبارک، شوال، ذیقعد اور ذی الحجہ شامل ہیں۔ چونکہ کسی مہینے چاند 29دن کا اور کئی مرتبہ 30دنوں کا ہوتا ہے لہٰذا ہر انگریزی سال کے حساب میں 10دن اگلے سال کم ہوتے جاتے ہیں۔

جتنے بھی اسلامی تہوار ہیں وہ سارے قمری کیلنڈر کے حساب سے ہی منائے جاتے ہیں، جیسا کہ رمضان المبارک، عیدالفطر، عیدالاضحی، حج، یوم عاشوروغیرہ۔ اس سلسلے میں پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی بنائی گئی ہے ،جس میں علماءکرام شامل ہیں، یہ کمیٹی ہرمہینے ایک جگہ اکٹھی ہوتی ہے، ان کے ساتھ محکمہ موسمیات، میڈیا کے نمائندے وغیرہ بھی موقع پر موجود ہوتے ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ چاند نظر آیا ہے یا نہیں؟ رویت ہلال کمیٹی جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہی پورے ملک میں رائج ہو جاتا ہے۔ یعنی رمضان المبارک کا آغاز یا اختتام ہو گیا یاشوال کا چاند یعنی عیدالفطر اور ذی الحجہ عیدلا ضحیٰ کا چاند نظر آیا یا نہیں؟


ہر سال رمضان المبارک اور عیدین کے مواقع پر ہونے والے چاند کے جھگڑے پر لوگ یہ دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ رویت کے معاملے میں گواہی کافی ہے۔ اوّل تو گواہ کو پرکھنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا اور اگر کوئی سائنسی حسابات سے یہ بتلائے کہ جناب ابھی چاند پیدا ہوکر ہلال بنا ہی نہیں تو وہ نظر کیسے آ گیا تو لوگ پریشان ہوتے ہیں ۔ ایک بات جان لیجئے کہ اس عظیم الشان کائنات کا خالق اللہ ربّ العزت ہے، یہ زمین و آسمان، چاند و سورج سب اس کی مخلوق ہیں اور انہیں اس نے ایک اندازے پر تخلیق دیا ہے اور ان کا نظام ایک ترتیب پر چلتا ہے۔ سائنس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کے علم میں لاتی ہے کہ خالق حقیقی نے کائنات کی تشکیل کس انداز میں کی ہے ؟


ترجمہ: ” اوروہ اللہ ہی ہے جس نے رات اوردن بنائے اورسورج اورچاند کو پیداکیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیررہے ہیں“۔ (سورة الانبیاء)
دوسری جگہ فرمایا،ترجمہ:” نہ تو سورج سے ہو سکتاہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔سب اپنے اپنے مدار پر تیزی سے رواں دواں ہیں“۔ (سورہ یٰس)


اب غور کیجئے کہ اس کائناتی ترتیب کیخلاف کوئی بات کرے تو اس کی کیا حیثیت ہوگی ۔ایسا ہی معاملہ چاند کا ہے۔حدیث مبارکہ ہے، ترجمہ: (رمضان کا)چاند دیکھے بغیر روزہ(رمضان)شروع نہ کرو اور (شوال کا) چاند دیکھے بغیر رمضان کاروزہ نہ چھوڑو،اگر مطلع ابرآلود ہو(اورچاند نظر نہ آئے) تو 30کا مہینہ پورا کرو“۔


چاند اپنی ماہوار گردش کے بعد اپنی جدید پیدائش سے اگلے 24گھنٹے یعنی ہلال بننے تک قابل رویت نہیں ہوتا اور یہ ایک کائناتی اصول ہے جسے خالق حقیقی نے قرآن کریم میں بھی بیان فرما دیا ہے۔ اب اگر اس دوران کوئی شخص یا گروہ یہ دعویٰ کرے کہ اس نے چاند دیکھا ہے تو چونکہ وہ خلاف عقل بات کر رہا ہے اس لئے اس کی یہ گواہی مردود ہوگی ۔

رواں سال عیدالفطر کب ہوگی؟
اگر رواں رمضان المبارک کی بات کی جائے تو یہ اپنے آخری ایّام کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چونکہ اس دفعہ رمضان المبارک کا پوری دُنیا میں ایک ساتھ ہوا ہے یعنی پوری دُنیا میں رمضان کا پہلے دن کا چاند صرف چند گھنٹے کا ہونے کے باعث نظر نہیں آیا، لہٰذا شوال کے 30دن مکمل ہونے کے بعد اس رمضان المبارک کا آغاز پوری دُنیا میں ایک ساتھ ہوا لیکن اب اختتام کو اگر دیکھا جائے تو سعودی عرب میں ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اس بار چاند 29دن کا ہوگا اور 15جون کو سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں عیدالفطر منائی جائے گی۔ دوسری طرف پاکستان میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 15جون سے ملک بھر میں مون سون کا سیزن شروع ہوجائے گا اور پورے ملک میں بادل چھائے رہنے کا امکان ہے، ساتھ ہی شوال کے چاند کی عمر اتنی کم ہو گی کہ وہ نظر نہ آسکے گا اور رمضان المبارک 30دن پر مکمل ہوگا اور بروزہفتہ 16جون کو پاکستان میں عیدالفطر ہوگی۔ بہرحال یہ تو سائنس دانوں کے مفروضات اور پیش گوئیاں ہیں، ہونا وہی ہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو منظور ہوگا، وہ چاہے گا تو 30روزے مکمل ہو جائیں گے ورنہ چاند نظر آنے پر29روزوں کے بعد عیدالفطر ہو جائے گی۔


نظام شمسی اور چاند
اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اربوں کھربوں کہکشائیں بنائی ہیں اور ہر کہکشاں کا اپنا ایک پورا نظام شمسی ہے، جس میں سورج، سیارے، چاند وغیرہ شامل ہیں۔ ہماری کہکشاں کا نام ”ملکی وے“ (Milky Way) ہے، جس میں ہمارا سورج اور 9سیّارے شامل ہیں، جس میں عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون اور پلوٹو شامل ہیں۔ ان 9سیّاروں میں ہر ایک کا اپنا اپنا چاند ہے، کئی سیّاروں میں ایک سے زائد 2یا 3سیّارے بھی ہیں۔ ہماری زمین کا ایک ہی چاند ہے جو ہمیں نظر آتا ہے۔
ہماری زمین کی حقیقت
اگر انسان اپنی عقل، علم اور جدید وسائل سائنس وٹیکنالوجی کو بروئے کار لائے تو اُسے سمجھ آجائے گی کہ یہ کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس میں اربوں کھربوں کی تعداد میں کہکشائیں ہیں، جس میں ہماری کہکشاں کی وقعت ایک نقطے (Dot) یعنی ذرّے کی سی ہے۔ ہماری اس کہکشاں کے اندر اتنا بڑا نظام شمسی ہے، جس میں سورج، چاند اور 9سیاروں سمیت نجانے کتنی چیزیں پائی جاتی ہیں جنہیں سائنس تاحال ڈھونڈنے سے قاصر ہیں۔ ہماری کہکشاں میں زمین کی حیثیت بھی ایک نقطے کی سی ہے اور اس زمین پر ہمارے ملک، پھر ہمارے شہر، ہمارے قصبے اور پھر خود ہماری حیثیت بھی ایک ذرّے سے زیادہ نہیں، یعنی انسانی عقل اس چیز کا احاطہ نہیں کرسکتی، یہ انسانی عقل سے بالاتر ہے۔
اب ذرا چاند، واقعہ شق القمر اور سائنسی لحاظ سے بھی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
واقعہ شق القمراور جدید سائنس
اپالو 10اور 11کے ذریعے ناسانے چاند کی جو تصویر لی ہے اس سے صاف طور پر پتہ چلتاہے کہ زمانہ ماضی میں چاند دو حصوں میں تقسیم ہوا تھا۔یہ تصویر ناسا کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے اور تاحال تحقیق کامرکز بنی ہوئی ہے۔ناسا ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ا س تصویر میں راکی بیلٹ کے مقام پر چاند دوحصوں میں تقسیم ہوا نظر آتاہے۔ایک ٹی وی انٹرویو میں مصر کے ماہر ارضیات ڈاکٹر زغلول النجار سے میزبان نے اس آیت کریمہ کے متعلق پوچھا:
ترجمہ: ”قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے۔“۔( سورہ القمر، 1-3)
(ڈاکٹرزغلول النجار یونیورسٹی جدہ میں ماہر ارضیات کے پروفیسرہیں۔ قرآن مجید میں سائنسی حقائق کمیٹی کے سربراہ ہیں اورمصرکی سپریم کونسل آف اسلامی امور کی کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں)۔ انہوں نے میزبان سے کہاکہ اس آیت کریمہ کی وضاحت کے لیے میرے پاس ایک واقعہ موجود ہے۔انہوں نے اس واقعہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ میں برطانیہ کے مغرب میں واقع کارڈ ف یونیورسٹی میں ایک لیکچر دے رہا تھا جس کوسننے کے لیے مسلم اور غیر مسلم طلبا ءکی کثیر تعداد موجود تھی۔قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق پر جامع انداز میں گفتگو ہورہی تھی کہ ایک نومسلم نوجوان کھڑ ا ہوا اور مجھے اسی آیت کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سر کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور فرمایا ہے، کیا یہ قرآن میں بیان کردہ ایک سائنسی حقیقت نہیں ہے۔ڈاکٹر زغلول النجار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں! کیونکہ سائنس کی دریافت کردہ حیران کن اشیاءیا واقعات کی تشریح سائنس کے ذریعے کی جاسکتی ہے مگر معجزہ ایک مافوق الفطرت شے ہے ،جس کو ہم سائنسی اُصولوں سے ثابت نہیں کرسکتے۔چاند کا دوٹکڑے ہوناایک معجزہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت محمدی کی سچائی کے لیے بطوردلیل دکھایا۔حقیقی معجزات ان لوگوں کے لیے قطعی طورپر سچائی کی دلیل ہوتے ہیں جو ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم اس کو اس لیے معجزہ تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر قرآن وحدیث میں موجود ہے۔اگر یہ ذکر قرآن وحدیث میں موجودنہ ہوتاتو اس زمانے کے لو گ اس کو معجزہ تسلیم نہ کرتے۔علاوہ ازیں ہمار ااس پر بھی ایمان ہے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔ پھر انہوں نے چاند کے دوٹکڑے ہونے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ احادیث کے مطابق ہجرت سے 5سال قبل قریش کے کچھ لوگ حضور کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اللہ کے سچے نبی ہیں تو ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔حضور نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟انہوں نے ناممکن کام کا خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس چاند کے دو ٹکڑے کر دو۔چنانچہ حضور نے چاند کی طرف اشارہ کیا اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے حتیٰ کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اورایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ابن مسعود ی فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اورآپ نے فرمایا دیکھو ،یادرکھنا اور گواہ رہنا۔کفار مکہ نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ (نعوذباللہ) رسول اللہ کا جادو ہے۔کچھ اہل دانش لوگوں کا خیال تھا کہ جادو کا اثر صرف حاضر لوگوں پر ہوتاہے۔اس کا اثر ساری دنیا پر تو نہیں ہو سکتا۔چنانچہ انہوں نے طے کیاکہ اب جولوگ سفر سے واپس آئیں ان سے پوچھو کہ کیا انہوں نے بھی اس رات چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا۔ چنانچہ جب وہ آئے ان سے پوچھا ، انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کے دوٹکڑے ہوتے دیکھاہے۔کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو حضور کی سچائی میں کوئی شک نہیں۔اب جو باہر سے آیا ،جب کبھی آیا ،جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ا س شہاد ت کے باوجود کچھ لوگوں نے اس معجزے کا یقین کرلیا مگر کفار کی اکثریت پھر بھی انکار پر اَڑی رہی۔
اسی دوران ایک برطانوی مسلم نوجوان کھڑا ہوا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ میرا نام داود موسیٰ پیٹ کاک ہے۔میں اسلامی پارٹی برطانیہ کا صدر ہوں۔وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا کہ سر !اگر آ پ اجازت دیں تو اس موضوع کے متعلق میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتاہوں۔مَیں نے کہا کہ ٹھیک ہے تم بات کرسکتے ہو!اس نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے جب میں مختلف مذاہب کی تحقیق کر رہا تھا،ایک مسلمان دوست نے مجھے قرآن شریف کی انگلش تفسیر پیش کی۔مَیں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اسے گھر لے آیا۔گھر آکر جب میں نے قرآن کو کھولا تو سب سے پہلے میری نظر جس صفحے پر پڑی وہ یہی سورة القمر کی ابتدائی آیات تھیں۔ان آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے بعدمیں نے اپنے آپ سے کہا کہ کیا اس بات میں کوئی منطق ہے ؟کیا یہ ممکن ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوں اور پھر آپس میں دوبارہ جڑ جائیں۔وہ کونسی طاقت تھی کہ جس نے ایسا کیا ؟ان آیات کریمہ نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں قرآن کامطالعہ برابرجاری رکھوں۔کچھ عرصے کے بعد مَیں اپنے گھریلو کاموں میں مصروف ہوگیا مگر میرے اندر سچائی کو جاننے کی تڑپ کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا۔یہی وجہ ہے کہ خدا کا کرنا ایک دن ایساہوا کہ میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ٹی وی پر ایک باہمی مذاکرے کا پروگرام چل رہاتھا جس میں ایک میزبان کے ساتھ تین امریکی ماہرین فلکیات بیٹھے ہوئے تھے۔ٹی وی شو کا میزبان سائنسدانوں پر الزامات لگا رہا تھا کہ اس وقت جب کہ زمین پر بھوک ،افلاس ،بیماری اورجہالت نے ڈھیرے ڈھالے ہوئے ہیں ،آپ لوگ بے مقصد خلا میں دورے کر تے پھررہے ہیں۔جتنا روپیہ آپ ان کاموں پر خرچ کر رہے ہیں وہ اگر زمین پر خرچ کیا جائے تو کچھ اچھے منصوبے بنا کر لوگوں کی حالت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے اور اپنے کام کا دفاع کرتے ہوئے ان تینوں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ خلائی ٹیکنالوجی زندگی کے مختلف شعبوں ادویات ، صنعت اور زراعت کو وسیع پیمانے پر ترقی دینے میں استعما ل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سرمائے کو ضائع نہیں کررہے بلکہ اس سے انتہائی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے۔جب انہوں نے بتایا کہ چاند کے سفر پر آنے جانے کے انتظامات پر ایک کھرب ڈالر خرچ آتاہے تو ٹی وی میزبان نے چیختے ہوئے کہا کہ یہ کیسافضول پن ہے ؟ایک امریکی جھنڈے کو چاند پر لگانے کے لیے ایک کھرب ڈالر خرچ کرنا کہا ں کی عقلمندی ہے ؟سائنسدانوں نے جوابا ً کہا کہ نہیں ! ہم چاند پر اس لیے نہیں گئے کہ ہم وہاں جھنڈا گاڑ سکیں بلکہ ہمارا مقصد چاند کی بناوٹ کا جائزہ لیناتھا۔دراصل ہم نے چا ند پر ایک ایسی دریافت کی ہے کہ جس کا لوگوں کویقین دلانے کے لیے ہمیں اس سے دوگنی رقم بھی خرچ کرنا پڑسکتی ہے۔مگر تاحال لوگ اس بات کو نہ مانتے ہیں اور نہ کبھی مانیں گے۔میزبان نے پوچھا کہ وہ دریافت کیا ہے؟انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دن چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تھے اور پھر یہ دوبارہ آپس میں مل گئے۔میزبان نے پوچھاکہ آپ نے یہ چیز کس طرح محسوس کی ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے تبدیل شدہ چٹانوں کی ایک ایسی پٹی وہا ں دیکھی ہے کہ جس نے چاند کو اس کی سطح سے مرکز تک اور پھر مرکز سے اس کی دوسری سطح تک، کو کاٹا ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس بات کا تذکرہ ارضیاتی ماہرین سے بھی کیا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق ایسا ہرگز اس وقت تک نہیں ہوسکتا کہ کسی دن چاند کے دو ٹکڑے ہوئے ہوں اور پھر دوبارہ آپس میں جڑبھی گئے ہوں۔ برطانوی مسلم نوجوان نے بتایا کہ جب مَیں نے یہ گفتگو سنی تو اپنی کرسی اچھل پڑا اوربے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ اللہ نے امریکیوں کو اس کام کے لیے تیا رکیا کہ وہ کھربوں ڈالر لگاکر مسلمانوں کے معجزے کو ثابت کریں ،وہ معجز ہ کہ جس کا ظہور آج سے 14سو سال قبل مسلمانوں کے پیغمبر کے ہاتھوں ہوا۔مَیں نے سوچا کہ اس مذہب کو ضرور سچا ہوناچاہیے۔میں نے قرآن کو کھولا اور سورة القمر کو پھر پڑھا۔درحقیقت یہی سورة میرے اسلام میں داخلے کا سبب بنی۔
علاوہ ازیں انڈیاکے جنوب مغرب میں واقع مالابار کے لوگوں میں یہ با ت مشہور ہے کہ مالابار کے ایک بادشاہ چکراوتی فارمس نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ا س نے سوچاکہ ضرور زمین پر کچھ ایسا ہوا ہے کہ جس کے نتیجے میں یہ واقعہ رونما ہوا۔چنانچہ اس نے اس واقعے کی تحقیق کے لیے اپنے کارندے دوڑائے تو اسے خبر ملی کہ یہ معجزہ مکہ میں کسی نبی کے ہاتھوں رونما ہوا ہے۔اس نبی کی آمد کی پیشین گوئی عرب میں پہلے سے ہی پائی جاتی تھی۔چنانچہ اس نے نبی سے ملاقات کا پروگرام بنایا اوراپنے بیٹے کو اپنا قائم مقام بنا کر عرب کی طرف سفر پر روانہ ہوا۔وہاں اس نے نبی رحمت کی بارگاہ میں حاضری دی اور مشرف بااسلام ہوا۔نبی کریم کی ہدایت کے مطابق جب وہ واپسی سفر پر گامزن ہوا تو یمن کے ظفر ساحل پر اس نے وفات پائی۔یمن میں اب بھی اس کا مقبر ہ موجود ہے جس کو ”ہندوستانی راجہ کا مقبرہ“کہا جاتاہے اور لوگ اس کودیکھنے کے لیے وہاں کا سفر بھی کرتے ہیں۔اسی معجزے کے رونما ہونے کی وجہ سے اورراجہ کے مسلمان ہونے کے سبب مالابار کے لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔اس طرح انڈیا میں سب سے پہلے اسی علاقے کے لوگ مسلمان ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے عربوں کے ساتھ اپنی تجارت کو بڑھایا۔نبی کریم کی بعثت سے قبل عرب کے لوگ اسی علاقے کے ساحلوں سے گزر کر تجارت کی غرض سے چین جاتے تھے۔ اس واقعہ کا ذکر محمد حمیداللہ نے اپنی کتاب ”محمدرسول اللہ“میں کیا تھا۔
ناسا کی یہ تصویر اور سائنسدانوں کے بیانات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم نے جس واقعہ کا ذکر آج سے 14سو سال پہلے کیا تھا وہ بالکل برحق ہے۔ یہ نہ صر ف قرآن مجید کی سچائی کی ایک عظیم الشان دلیل ہے بلکہ یہ ہمارے پیارے نبی،امام الانبیاءکی رسالت کی بھی لاریب گواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کو اکمل و کامل کرے اور ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق اپنے عملوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭....٭....٭


ای پیپر