File Photo

پھر عید آئی ہے غریبوں کو ستانے کے لیے!
19 جون 2018 (16:43) 2018-06-19

ہلال عید بام فلک پر نمودار ہوتا ہے تو مبارک سلامت کی وہ دلآویز صدائیں سنائی دیتی ہیں،گردوپیش مسرتوں کی دیپ مالا جگمگا اٹھتی ہے ، فضاﺅں میں یکدم ست رنگی پھلجھڑیوں کی چھوٹ سی پڑنے لگتی ہے ۔ یہ چکا چوند، یہ اجالا، یہ روشنیاں انہی کو دکھائی دیتی ہیں، جن کی کمائی ان گنت روپوںمیں ہو۔ جن کو کسی قسم کی کوئی فکر نہ ہو، جن کے لئے یہ مسئلہ نہ ہوکہ عید پر بچوں کے لئے نئے کپڑے کہاں سے خریدنے ہیں، اس روز سعید پرگھر میں آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ ورنہ عام آدمی تو بقول شاعر:
حاکمان وقت دیکھیں قوم کا کیا حال ہے
چند لوگوں کی ہیں عیدیں معاشرہ کنگال ہے
آٹا گھی چینی کا بھاﺅ اورکہاں تک جائے گا
قیمتیں ہیں آسماں پر کون نیچے لائے گا
بجلی پانی اور سوئی گیس کے بل دیکھ کر
قوم کے ہر فرد کا چکرا رہا ہے آج سر
یہ غریب عوام سے پوچھنا پڑے گاکہ کیا اس کے لیے آج عید ہے ؟ سنا ہے اگلے وقت میں عید کا یہ تہوار خوشیوں، مسرتوں، رونقوں، قہقہوں اور روشنیوں کا نقیب ہوا کرتا تھا لیکن اس دور ہلاکت خیز میں عید آتی ہے تو مارے خوف کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ عید آئی کہ قیامت آئی ۔۔۔جس معاشرے میں ذرائع دولت اور اقتدارو اختیار چند مخصوص ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جائیں، وہاں عمومی خوشیوں کا تصور اس حد تک ناپید ہو جاتا ہے کہ تہواروں کی خصوصی خوشیاں بھی (جوکہ اپنی اصل روح میں عمومی ہوتی ہیں) چند خاندانوں تک محدود ہوکر رہ جاتی ہیں۔۔۔ طبقاتی امتیازات کے ڈسے ہوئے اس معاشرے میں دینی تہوارکو بھی چھوٹے اوربڑے کے پیمانے سے ماپا جاتا ہے ، جہاں عید قریب آتے ہی اہل ثروت ان سکیموں میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ اپنے پاس موجودسرمائے کو رمضان کے مہینے اور عید کے موقع پر بڑھانا کیسے ہے ۔ قرون اولیٰ میں عید صرف عید ہواکرتی تھی، چھوٹی عید یا بڑی عید کاکوئی تصور نہیں تھا۔ یہ چودھریوں، وڈیروں، لٹیروں، خانوں، اربابوں اور نوابوں کی غلط فکری کا شاخسانہ ہے کہ ہم رمضان المبارک کے بعد آنے والی عیدکو چھوٹی عید اور ذی الحج کی دس تاریخ کو منائی جانے والی عیدکو بڑی عید قرار دیتے ہیں۔
خیر یہ بحث بہت پرانی ہے لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ وہ خوش قسمت کون ہوںگے جو بھرپور انداز سے عید کی مسرتوں کو انجوائے کر رہے ہوں گے۔ میرے چاروں سمت تو دکھوں، فاقوں، زخموں اورآنسوﺅں کے گدلے پانیوں کی رات ہے ۔ اس ”جھیل“کی تہہ میں مجھے تو خوشی کا کوئی دمکتا موتی دکھائی نہیںدیتا۔ اس معاشرہ میں جہاں 98 فیصد گھروں میں غربت، عسرت، تنگدستی، فاقہ مستی، خود سوزی اور خودکشی کی وارداتوں نے آج بھی صف ماتم بچھا رکھی ہے ، حیران ہوں کہ ان تیرہ وتاریک گھروں کے20 کروڑ مکین کیونکر عید منائیں گے؟کیا اس عیدکوکوئی ستم ظریف حقیقی معنوں میں عید قرار دے سکتا ہے ، پچھلے سال بھی جب یہ عید آئی تھی، اخبارات میں خودکشیوں کی خبریں شائع ہو رہی تھیں، پچھلے سال بھی عید کے موقع پر سول سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا اور وہ اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ غریب کلرک قلم چھوڑ ہڑتالیں کرکرکے تھک گئے ہیں لیکن حکومت ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ اس سال عید سے کچھ دن قبل اور ساتھ ہی حکومت کے آخری دنوں نابینا افراد اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر تھے۔ ان کی کوئی نہ سنی گئی، اُلٹا ان پر تشدد کیاگیا۔ پچھلے سال بھی جب یہ عید آئی تھی تو قومی وکمرشل بینکوں کا ایک سو اسی ارب روپے کا خطیرسرمایہ چند لٹیروں کی مضبوط قوت ہاضمہ کی نذر تھا اور اس سال بھی کھربوں روپے میں سے ایک پھوٹی کوڑی کی بازیابی نہیں وہ سکی۔ پچھلے سال بھی جب اس دن مظلوم عدالتوں، تھانوں اورکھلی کچہریوں کے ”سنگ آستاں“ پر سر پھوڑ رہے تھے اورآج بھی مظلوم اپنے حق کی تلاش میں سرگردااں ہے ۔۔۔ ہم یہ کچے پکے راگ نہ جانیں کب تک سنیں گے؟ ظلم، ناانصافی، ناہمواری اور طبقاتی امتیازات کے سانپ ان زنجیر بکف 20کروڑ قیدیوں کو کب تک ڈستے رہیں گے۔
کل میں نے اور آپ نے تبدیلی کے خواب دیکھے تھے اور آج بھی ہم پھر اسی قسم کے خواب آنکھوں میں سجائے ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔۔۔ وہ دن کب آئے گا جب محروم طبقات کے جھونپڑوں میں روشنی ہوگی اور غاصب مقتدر طبقات کے محلات کو انقلاب کا سیل بے پناہ بلڈوزکر کے دھرتی کے ناسوروں کا خاتمہ کرئے گا ۔ اور جناح آبادیوں، لالو کھیتوں اور دھوپ سڑیوں کے مکین بارگاہ رب العزت میں فرط مسرت سے سجدہ شکرانہ ادا کرتے ہوئے کہیں کہ ”اے زمینوں اور آسمانوں کے مالک! تیرا شکریہ کہ تو نے اس پاک سرزمین کو ان ناسوروں سے پاک کر دیا، جنہوں نے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرون ملک بنائے اور کھربوں کے قرضے بغیر سانس لئے ڈکار لئے۔ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا کیوں کہ یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اور اسمبلیاں تو”مقدس“ہیں اور اس مقدس اسمبلی میں بھی کبھی غریب کی بات نہیں کی گئی.... ریکارڈ گواہ ہے کہ پارلیمنٹ میں مہنگائی کے موضوع پر بحث کے دوران ارکان کی حاضری افسوسناک حد تک کم ہوتی ہے ۔کیوں؟ اس لئے کہ مہنگائی ارکان اسمبلی کا مسئلہ نہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت معاشرے کے مقتدر طبقات سے تعلق رکھتی ہے ، یہ وہ بااختیار مقتدر طبقات ہیں جو زرعی اراضی سے سالانہ700 ارب کی دولت سمیٹتے ہیں لیکن قومی خزانہ میں ایک پھوٹی کوڑی بطور ٹیکس جمع کروانے کے روادار نہیں۔ ان جاگیرداروں اور دیہہ خداﺅں کے کتے بھی تازہ گوشت کھاتے ہیں لیکن ان کے 15لاکھ کھیت مزدوروں کو گوشت کھانے کے لئے عید قرباں کا انتظارکرنا پڑتا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے یہ وہ” برہمن“ ہیں جو ہر سال کتا دوڑ، ریچھ کی لڑائی اور دیگر عیاشیوں پر14ارب 82 کروڑ 27لاکھ روپے پانی کی طرح بہا دیتے ہیں لیکن کوئی احتساب بیورو ان”مقدس بچھڑوں“ پر ہاتھ ڈالنے کا تصور بھی نہیںکر سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے7 فیصد جاگیردار63 فیصد زمین پر قابض ہیں جبکہ 93 فیصد کسان صرف37 فیصد زمین کے مالک ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عید سے پہلے تو اپنی تنخواہوں میںخاطر خواہ اضافہ فرما لیا مگر انہیں غریب کا خیال نہیں آیا۔
آپ ان حکمرانوں کی اہلی اور نا اہلی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہر سال عید آتی ہے اور ہر سال مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے .... ہرسال سیلاب آتے ہیں اور ہرسال سینکڑوں لوگ مرتے ہیں .... لیکن کوئی سد باب نہیں کیا جاتا.... اور نہ ہی اس طرف کوئی سنجیدہ کوشش عمل میں لائی جاتی ہے .... یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ حکمران طبقہ تو ایک طرف بعض تاجر وذخیرہ اندوز حضرات ہی عوام کو لوٹنے میں اپناکوئی ثانی نہیں رکھتے۔ دنیا بھر میں یہ رواج ہے کہ مذہبی تہواروں کے مواقعوں پرعام استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حکومتیں ہی نہیں ہرطبقے کے افراد دیگر طبقات کے لوگوں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً یورپ و امریکہ میں لوگوں کی اکثریت، ایسی چیزیں جوعام دنوں میں گراں ہونے کے باعث نہیں خریدی جا سکتیں، ان کی خریداری کے لیے کرسمس کا انتظارکرتی ہے ۔ جبکہ ہمارے یہاں عید اور رمضان المبارک کے موقع پر تو بنیادی ضرورت کی اشیاءکی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ مغربی ممالک کو تو چھوڑ دیجیے، ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں بھی رمضان کے مہینے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرکے مسلمانوں کوسہولت دی جاتی ہے ۔ پاکستان میں راشی افسروں، ملاوٹ کرنے والے تاجروں، تراویح کا ناغہ نہ کرنے والے ذخیرہ اندوزوں کے لیے یہ مہینہ بے حد بابرکت ثابت ہوتا ہے ۔ ایک روپے کی چیز پندرہ روپے میں فروخت کی جاتی ہیں اور اس صریحاً لوٹ مارکو جائز بھی سمجھا جاتا ہے ۔
مختصر یہ کہ عید کے دن جیسے جیسے قریب آتے جاتے ہیں، عام لوگوں کا بلڈ پریشر بڑھنے لگتا ہے ، اس سال بھی گزشتہ سالوں کی طرح مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز میں خریداروں کا ہجوم تو نظر آرہا تھا، لیکن جب دکانداروں سے بات کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس ہجوم میں لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے ، چیزوں کے دام پوچھنے کے بعد جن کا چہرہ کا رنگ ماند پڑجاتا ہے اور ان میں سے اکثرکی استطاعت اتنی بھی نہیں ہوتی کہ وہ مول بھاو¿ کرسکیں۔ وہ مایوسی کے عالم میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ دکاندار بھی اس صورتحال سے سخت پریشان تھے۔ پہلے لوگ کئی کئی چیزیں خریدتے تھے، اب کوئی ایک چیز خریدتے وقت بھی کئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ایسا صرف ان حکمرانوں کی وجہ سے ہے جو اس عوام پر مسلط کر دئیے گئے ہیں.... جنہیں نہ تو عوام سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی مارکیٹوں میں چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں .... یہ وہ حکمران ہیں جو اپنی نااہلی چھپانے کے لیے”رمضان بازاروں “ کا ڈرامہ لگاتے ہیں .... اگر یہی حکمران مارکیٹوں میں موجود اشیاءخورونوش پر اپنا مکمل کنٹرول دکھائیں تو ایسے بازاروں کی ضرورت ہی نہ پڑے .... لیکن قسمت اس قوم کی کہ انہیں شعبدہ باز حکمران میسر ہوئے ہیں ورنہ عوام کا ہر دن عید کا دن ہو۔


ای پیپر