نیت اور رکشہ

19 جون 2018

وسیم عبداللہ

چاچا ماجھو میرا دوست ہے بلکہ وہ میرے ایک دوستوں کے گروپ کا رکن ہے اور بڑا متحرک رکن ہے۔ چاچے ماجھو کو اس کی سیہون شریف سے عقیدت کی وجہ سے ’’چاچا جھولے لعل‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ہماری کوئی بھی دعوت چاچے ماجھو کے بغیر ادھوری ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی دعوت میں چاچے ماجھو کی خدمات اگر شامل نہ ہوں تو وہ ہو ہی نہیں سکتی مثلاً دعوت میں کھانا بنانا، کھانا پیش کرنا، کھانے میں کیا بنانا اور سبزی اور گوشت کہاں سے خریدنا ہے یہ تمام امور چاچے ماجھو کی ذمہ داری ہوتےہیں۔


چاچے ماجھو کی عمر پچاس سے زیادہ اور شائد پچپن سے کم ہے۔ چاچے ماجھو نے اپنی ایک بیٹی کی شادی کردی ہے جو ماشاءاللہ اپنے گھر میں سکھی ہے اور صاحب اولاد ہے یعنی چاچا ماجھو کچھ بچوں کا نانا بھی بن چکا ہے چاچے ماجھو کے بیٹے ابھی نوعمر ہیں لیکن برسر روزگار ہیں بلکہ ایک بیٹا تو ملائشیا میں کسی فرم میں نوکری کرتا ہے۔ چاچا ماجھو انتہائی خوش خوراک، خوش لباس اور زندہ دل انسان ہے۔ اسی زندہ دلی کی وجہ سے چاچا ماجھو اپنے محلے میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک بلکہ بوڑھیوں تک مقبول و محبوب ہے۔ چاچا ماجھو کے دوستوں میں فیکٹری اونرز، پی ایچ ڈی ڈاکٹرز، دانشور، پراپرٹی ڈیلرز، وکیل اور محلے کے فقیر بھی شامل ہیں۔ ایک دفعہ ہم چوک میں بیٹے تھے کہ ایک گیروے رنگ کی پگڑی اور ہرے رنگ کا کپڑا اوڑھے ایک فقیر جو گھروں کے دروازوں پر صدا لگا رہا تھا ہماری طرف آیا تو اس کی نظر چاچے ماجھو پر پڑی، جونہی اس کی نظر چاچے ماجھو پر پڑی تو خوشی سے اس کے قدم تیز ہوگئے اور وہ چاچے سے بغل گیر ہوگیا اور اپنے ہاتھ سے پیتل کا کڑا جو شائد بڑا نایاب یا کمیاب ہے اتارا اور بولا ’’اے لوو باوا جی تہاڈا حکم سی تے میں گھر گیا ساں تے تسی مینوں ملے نئیں، ایہہ لوو اپنی امانت‘‘چاچے نے وہ کڑا اسی وقت اپنے ساتھ بیٹھے ہمارے مشترکہ پٹواری دوست کو دیا اور کہا’’یہ لو تمہارے لئے منگوایا ہے‘‘ اس واقعہ سے آپ چاچے کی ہمہ جہتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


اسی طرح چاچے ماجھو کا اپنے علاقے کے ایم این اے جو دو تین دفعہ وزیر بھی رہ چکے ہیں کے خاندان سے بھی ایسا ہی تعلق ہے کہ ان کے بچوں کو کہہ دے گا کہ " اوئے منڈیا جا اوتھوں اک پیپسی دی وڈی بوتل پھڑ کے لیئا" تو وہ بچہ خاموشی سے چلا جائے گا اور بوتل لے آے گا۔


چاچے کا ماشاءاللہ اپنا ذاتی ۳ مرلے کا گھر ہے جو اس نے حال ہی میں جدید طرز تعمیرکو مدنظر رکھ کر بنایا ہے۔چاچا ماجھو میکڈانلڈ کو میکڈولی اور منرل واٹر کو ملی واٹر کہتا ہے۔


کچھ چیزوں میں وہ بالکل پر فیکٹ ہے اور وہ ہے کاروبار اور کاروبار میں چاچے ماجھو نے اپنے اصول وضع کئے ہوئے ہیں۔ مثلاً چاچا عرصہ تیس سال سے رکشہ چلا رہا ہے( اور رکشہ بھی وہ کہ پٹھانوں کی سائیکل کی سجاوٹ بھی اس کے آگے ماند پڑ جاتی ہے، انتہائ سجا سجایا اور صاف ستھرا)چاچے نے کبھی کئی سکول ٹائم یا دفتر ٹائم وغیرہ پر اپنا رکشہ نہیں لگایا کیونکہ بقول چاچے کے " باوا جی اوئی ٹیم اللہ توبہ کرن والا ہندا وے تے اوسے ٹیم بندہ پیسے دے پچھے پجھ پوے"


منطق عجیب ہے لیکن ہے تو ہے۔ اس سے بھی عجیب منطق یہ ہے کہ چاچے نے کبھی کسی سواری سے کرایہ طے نہیں کیا بلکہ وہ جو بھی دے اسے گنے بغیر رکھ لیتا ہے۔ اس عجیب وغریب کاروبار طریقے کے باوجود چاچا صبح ۹بجے رکشہ نکالتا ہے اور دوپہر دو بجے واپس آجاتا ہے اور کبھی کبھار تو بارہ بجے بھی واپس آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ "بس باوا جی پیسے بوہت وٹ لے سی میں کیہا چلئے گھر"


اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ چاچے نے متعدد بار لوگوں کو کرائے کےدئے ہوئے پیسوں میں کچھ رقم یہ کہہ کر واپس کردی کہ یہ آپ نے زیادہ دیدی ہے اور ان کو حیران چھوڑ کر وہاں سے نکل آتا ہے۔ چاچے کے بقول میں روزانہ پندرہ سو اسوقت کماتا تھا جب یہ "حسابی کتابی" رکشے والے تین چار سو کماتے تھے۔ ایک دفعہ بقول چاچا ماجھو "اک بڈھا وکیل کچہریوں کے باہر کھڑا تھا میں نے کہا بزرگو کدھر ؟ اس نے کہا سوساں روڈ، میں نے کہا بیٹھ جاؤ اس نے کہا پہلے کرایہ بتاؤ؟


چاچے نے کہا میں کبھی کرایہ طے نہیں کرتا اس نے کہا میں نے بہت ایسے رکشے والے دیکھے ہیں جو پہلے یہی کہتے ہیں لیکن بعد میں جھگڑا کھڑا کر دیتے ہیں میں نے کہا "بابیو بیٹھو تے صحیح" پھر مطلوبہ منزل پر پنہچے تو وکیل صاحب نے چاچے کے خود ساختہ مقررکردہ کرائے سے زیادہ دے دئے تو چاچے نے حسب معمول واپس دیدئیے تو وہ بہت حیران ہوئے۔ اس کے بعد سے لے کر ابتک وہ وکیل صاحب چاچے ماجھو کے بیسٹ فرینڈ اور مستقل گاہک ہیں بلکہ بقول چاچا ماجھو ان کو یعنی وکیل صاحب کو ان کی عاقبت سنوارنے کا موقع دینے کیلئے کیلئے فری کیس بھی دے چکا ہوں اور وکیل صاحب وہ کیس جیت بھی چکے ہیں اور کبھی فیس کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ چاچے کی زندگی کی سادگی دیکھ کر بہت سے دوست اسے زمانہ شناس نہیں سمجھتے لیکن میرا ناقص خیال ہے کہ جتنا چاچا ماجھو دنیا کو سمجھتا ہے شائد ہی کوئ سمجھتا ہو، اور یہ سب صرف ایک بات سے ممکن ہوا کیونکہ چاچا جانتا ہے کہ نیت اور نیک عمل ہمیشہ دوگنا ہوکر ہی واپس آتا ہے اور لوگوں سے نرمی برتنے میں کبھی نقصان نہیں ہوتا۔

مزیدخبریں