لاہور سے ٹورنٹو تک !
19 جون 2018 2018-06-19

قارئین میں ان دنوں کینیڈا کے مشہور شہر ٹورنٹو میں ہوں، ارادہ یہ تھا اس بار رمضان المبارک کی طرح عید بھی پاکستان میں گزاروں گا، مگر کینیڈا میں مقیم میرے بے شمار عزیزوں اور دوستوں کی خواہش بلکہ ضِد پر ”مع اہل وعیال “ مجھے کینیڈا آنا پڑا، بیٹی کی شادی کے بعد میرے ”اہل وعیال“ اب دوافراد پر مشتمل رہ گئے ہیں، مجھے خوشی ہے میں زیادہ بچے پیدا نہیں کرسکا، دوست احباب اس کی وجہ جو چاہیں سمجھ لیں، اصل وجہ یہی ہے میں اپنی فیملی کا سائز اپنے مالی وسائل کے مطابق رکھنا چاہتا تھا۔ بعد میں میرے مالی وسائل بڑھ گئے مگر بچے بڑھانے کے قابل میں اس لیے نہ رہا کہ بچے”بڑے“ ہورہے تھے اور مجھے اُن کے مزید ”چھوٹے چھوٹے بہن بھائی“ پیدا کرتے ہوئے ذرا شرم سی محسوس ہوتی تھی، میرے نزدیک پاکستان کا اصل مسئلہ روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی ہے جس پر کسی کی کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں یوں محسوس ہوتا ہے کچھ لوگ صرف بچے پیدا کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، ایک دوست سے میں نے پوچھا ”آپ کے خیر سے کتنے بچے ہیں؟ ۔ وہ بولا ”اُوپر والے کی مہربانی سے دس ہیں“ .... میں نے پوچھا ”آپ کے اُوپر خیر سے رہتا کون ہے جو مہربانی کرتا جارہا ہے؟“ .... ایک عورت اپنے دس بچوں کے ساتھ جہاز میں داخل ہوئی، میں نے ازراہ مذاق اُس سے کہا ”بی بی آدھے بچے گھر چھوڑ آنے تھے“ ، وہ بولی ”بھیا آدھے گھر چھوڑ تو آئی ہوں اور کیا کروں؟“.... خیر بارہ جون کو میں اپنی اکلوتی بیگم اور اکلوتے بیٹے راحیل بٹ کے ساتھ پی آئی اے ڈائریکٹ فلائٹ سے لاہور سے ٹورنٹو پہنچا، مختلف ممالک خصوصاً کینیڈا کے لیے پی آئی اے سے سفر کرنا دو حوالوں سے ایک ”مجبوری“ بن جاتی ہے، ایک تو میں یہ سمجھتا ہوں خسارے میں بلکہ مسلسل خسارے میں چلنے والی اپنی اس ایئر لائن کو تھوڑا بہت مالی سہارا دیا جائے۔ گو کہ میرے ”مالی سہارے“ کی حیثیت اس چیونٹی جیسی ہے جو ایک ہاتھی کے ساتھ ایک پل سے گزرتے ہوئے بڑے فخر سے ہاتھی سے کہہ رہی تھی ” جب ہم دونوں مل کر اس پل سے گزرتے ہیں تو یہ پل کانپ سا جاتا ہے“ .... ایسے ہی میں بھی یہ سمجھتا ہوں میں جب پی آئی اے سے سفر کرتا ہوں پی آئی اے مالی لحاظ سے کچھ سنبھل سا جاتا ہے “....اور کینیڈا کے لیے پی آئی اے سے سفر کرنے کی دوسری بڑی وجہ لاہور سے ٹورنٹو کی ڈائریکٹ فلائیٹ ہے جو تقریباً تیرہ گھنٹے کی ہوتی ہے۔ پاکستان سے کینیڈا آنے والی باقی ساری ایئرلائنز کی فلائیٹس راستے میں کہیں نہ کہیں رکتی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو کئی گھنٹے خوار ہونا پڑتا ہے۔ یہ سفر اتنا تھکا دینے والا ہوتا ہے منزل پر پہنچنے کے بعد کئی دن کچھ کرنے کی ہوش ہی نہیں رہتی، ....اس کے باوجود بے شمار لوگ ان فلائیٹس پر سفر کرنے کو صرف اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ پی آئی اے کے مقابلے میں وہ انہیں کہیں صاف ستھری اور آرام دہ خصوصاً محفوظ فلائیٹس سمجھتے ہیں، ان فلائیٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو دوران پرواز سوتے ہوئے یہ خطرہ یا خدشہ نہیں ہوتا کہ پائیلٹ بھی اس وقت سورہا ہوگا ، .... دوسرے ممالک اور شہروں میں جانے والی پی آئی اے کی فلائیٹس کے حالات بارے میں زیادہ نہیں جانتا، مگر لاہور سے ٹورنٹو کی ڈائریکٹ فلائیٹ کئی حوالوں سے آرام دہ ثابت ہوتی ہے، خصوصاً ”اُن بزرگوں اور بوڑھوں کے لیے تو بہت ہی آرام دہ ثابت ہوتی ہے جو بے چارے اس احساس سے عاری ہوچکے ہوتے ہیں کہ ایئر ہوسٹس خوش شکل اور دیگر لحاظ سے اچھی ہونی چاہئیں .... اس بار ایک ”عجیب وغریب واقعہ“ یہ ہوا پی آئی اے کی فلائیٹ ”ان ٹائم“ تھی۔ عملہ بھی اتنا اچھا تھا یوں محسوس ہورہا تھا یہ عملہ کسی دوسری ایئرلائن سے اُدھار لیا ہوا ہے، ایک زمانے میں خوش اخلاقی پی آئی اے کے عملے کی خصوصی شناخت ہواکرتی تھی، اب کام اُُلٹا ہوگیا ہے۔ اب پی آئی اے کے عملے کی یہ خواہش
ہوتی ہے اُن کی بداخلاقیوں کے مقابلے میں مسافر اُن سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ پچھلی بار لاہور سے ٹورنٹو تک کے سفر میں، میں ”اگلی سیٹ“ پر بیٹھا تھا، قریب سے گزرتی ہوئی ایک خوش شکل ایئرہوسٹس سے میں نے کہا ” دیکھئے اگر میرے قریب سے گزرتے ہوئے آپ کو اتفاق سے میراموڈا گوڈا لگ جائے تو بُرا مت مانیے گا“ ....اُس نے بُری سی شکل بنا کر میری طرف دیکھا اور بولی ” آپ جیسے جو شوخے مسافر ہوتے ہیں ناں اُن پر گرم گرم چائے بھی گرجاتی ہوتی ہے“ .... بارہ جون کو جس روزہم نے لاہور سے ٹورنٹو تک سفر کرنا تھا ستائیسواں روزہ تھا۔ میری بیگم کسی حالت میں بھی روزہ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، حالانکہ میں نے اسے بہت سمجھایا سفر میں روزے کی چھوٹ ہوتی ہے اور اللہ کی جانب سے دی گئی اس رعایت کا فائدہ نہ اٹھایا جائے اللہ ناراض ہوتا ہے۔ میری کوئی دلیل اس پر اثر نہیں کررہی تھی۔ مگر جب میں نے اسے احساس دلایا جہاز کے ٹائیلٹس بہت چھوٹے خصوصاً پی آئی اے کے جہازوں کے ٹائیلٹس تو بہت گندے بھی ہوتے ہیں۔ ان حالات میں وہ پاکیزگی متاثر ہوسکتی ہے جوایک روزہ دار کے لیے ضروری ہوتی ہے تو اس نے میری بات مان لی .... مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے اتنے اتنے بڑے جہازوں کے ٹائیلٹس اتنے چھوٹے چھوٹے بنائے جاتے ہیں کہ بچے بھی بمشکل ہی ان میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اور ہم جیسے جو سائز میں بہت ہی بڑے بڑے ہوتے ہیں انہیں کئی ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کھل کر لکھی بھی نہیں جاسکتیں، بلکہ سچ پوچھیں تو کھل کر کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا، ٹائیلٹس کی تعداد بھی مسافروں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ بعض اوقات ٹائیلٹس کے باہر اتنی لمبی قطار لگ جاتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے یہاں مفت میں کچھ بٹ رہا ہے۔ یا کوئی ایمرجنسی ہوگئی ہے اور یہ سب مسافران ٹائیلٹس کے راستے جہاز سے باہر نکلنا چاہتے ہیں، کچھ مسافر قطار میں بیٹھ بھی جاتے ہیں اور بیٹھنے کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ کھڑے کھڑے تھک گئے ہیں۔ اور تو اور بزنس کلاس کے ٹائیلٹس کا سائز بھی عام کلاس کے ٹائیلٹس کے سائز جتنا ہی ہوتا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر