افسوس! ہم بڑے ہوگئے۔۔
19 جون 2018 2018-06-19

عید آئی اور آکر چلی گئی مگر افسوس یہ وہ عید نہیں تھی جو مجھے ملی تھی،جو عید ہمیں اپنے بچپن میں ملا کرتی تھی وہ تو پتا نہیں کہاں کھو گئی ہے ،اب تو عید کا رش ہے رونق پتا نہیں کہاں چلی گئی ۔عید ۔۔۔۔عید تو وہ تھی جو ہم منا یا کرتے تھے یہ کون سی عید ہے جسے کوئی بھی منا نہیں سکتا،عید شاید ہم سے روٹھ گئی ہے۔اللہ انہیں اپنی جواررحمت میں جگہ دے ابا جی مرحوم کی آمدن شاید چند ہزار ہی ہوا کرتی تھی مگر جتنی امارت ہم نے دیکھی ہے میرے بچوں کو اس کا کچھ معلوم نہیں، سال میں کسی قریبی عزیز کی شادی یا عید پر نئے کپڑے ملا کرتے تھے،نیا جوتا ملا کرتاتھا۔چاند رات سے ایک رات پہلے ضد کرکے ابا کے ساتھ اپنی پسند کے جوتے کے لئے بازارجانے کا موقع ہی روں روں میں خوشی بھر دیتا تھا ۔عباس یا بشیر بوٹ ہاﺅس سے لیے ہوئے یا باٹا اور سروس کے جوتے پورے ایک سال چلتے تھے ،ایک گرمیوں اور ایک سردیوں کا جوتا ،گردن میں بلاوجہ کا اکڑاﺅآجاتا،پوری رات جوتے کبھی سرہانے تو کبھی پائینتی کی جانب رکھتے کہ نظر کے سامنے رہیں ، اماں کی نظر بچا کر جوتا رات کو پہن کر چلنے کی کوشش کرتے۔کپڑے کی قسم اور رنگ ابا جی پسند کرتے ، فیض درزی مرحوم (جو دونوں ٹانگوںسے معذور تھا)عید سے ایک دو دن پہلے ہی کپڑے سی کر دے جاتا تھا ،اماں مرحومہ کا خیال تھاکہ رمضان المبارک میں استعمال شدہ اشیا کا اگلے جہاں حساب نہیں دینا پڑتا اس لئے باالتزام عید سے ایک آدھ دن پہلے گھر میں کپڑے اور جوتے پہن کر ناپ بھی چیک کرلیا جاتا اور فرشتوں کی آنکھوں میں دھول بھی جھونکی جاتی کہ وہ ان کپڑوں اور جوتوں کو حساب میں نہ لکھ سکیں،کتنے معصوم لوگ تھے جو کپڑوں اور جوتوں کا حساب دینے سے ڈرتے تھے،اب تو لوگ سرے محل ، پارک لین فلیٹس اور بنی گالا پراپرٹیز ،ملوں، فیکٹریوں اور غیر ملکی بنک اکاونٹس کا حساب دینے سے بھی نہیںڈرتے ۔۔شاید انہوں نے یہ سب کچھ رمضان المبارک میں ہی بنا کر برت لیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس کا حساب نہیں دینا پڑے گا!
عیدیوں کا باقاعدہ حساب کتاب ہوا کرتا تھا کہ کس سے کتنے پیسے ملیں گے اور اگر کسی فریق سے زیادہ مل جاتے تھے تو دل اس زور کا دھڑکتا تھا کہ لگتا پسلیوں سے باہر آجائے گا لیکن اس دوران کن اکھیوں سے اماں اور ابا پر بھی نظر رکھنی لازمی ہوتی کہ کہیں ان کو نہ پتا چل جائے کیونکہ اس صورت میں وہ تمام مال بحق سرکار ضبط ہوجانے کا اندیشہ ہوتا جس میں کوئی چھوٹ یا ایمنٹسی سکیم نہیں مل سکتی تھی وہ کوئی ایف بی آر تھوڑا تھے ،وہ ماں باپ تھے۔ عموما ننھیال سے تخمینہ سے کچھ زائد پیسے مل جاتے مگر ابا جی کے رشتے داروں کے بارے میں اماں مرحومہ کے دو ،تین روز پہلے کے اندازے میں شاذہی کوئی فرق آیا ہوگا ،اب سوچتا ہوں کہ اگر وہ وزارت خزانہ میں ہوتیں تو شاید حکمرانوں کو بہتر تخمینہ اور عوام کو اچھا بجٹ ملنا اتنا بھی مشکل نہ ہوتا ۔
پھر صاحب ۔۔دس بجے تک عیدیاں جمع کرنے کے بعد چند سو روپے اکٹھے ہمارے ہاتھ میں ہوتے ،پھر کیا تھا۔۔ اسحاق ڈار کیا بیچتے تھے ہمارے سامنے اور مفتاح اسماعیل کا کیا مفتا لگا ہوگا ،ہمارا اس وقت کروفر دیکھنے کی بلکہ خاصے کی چیز ہوا کرتا ۔اس کے بعد دوستوں کے ساتھ نکل جاتے اٹھانوے فیصد دوست اور انکے والدین بھی ہمارے جیسے ہی تھے ،ہمیں تو سب ایک جیسے ہی لگا کرتے ، ویسے تھے بھی سب ایک جیسے اللہ میاں کی گائے جیسے!
تیزی طراری،روپے کی ہوس اور دوسروںپر اپنے روپے یا حیثیت کا دھونس جمانے جیسی صلاحیتوں سے کوسوں دور،حجام کی دکان پر گپیں لڑانے والے، تانگوں ، ٹانگوں اور سائیکل پر سفر کرنے والے ، موٹر سائیکل اور سکوٹر کو شیطانی چرخہ سمجھنے والے ،اب ایسے کسی شخص یا بڑے ،بزرگ کو دیکھے عرصہ بیت گیا ہے شاید اس لئے کہ خود ہم بڑے ہوگئے ہیں! خیر پیسے ملنے کے بعد کی عید کا ذکر ہورہا تھا تو پیسے جیب میں ڈال کر حمام بادگر کی خبر لینے نکلتے اور پھر دانت، گلا اور صحت خراب ہونے کے ڈر سے جتنی چیزیں بھی منع کی گئی ہوتیں ان سب کی ایسی کی تیسی کرتے ،جن میں سر فہرست سوڈا عرف عام کولڈ ڈرنک ،آئس کریم اور املی کی چٹنی وغیرہ ہوا کرتیں،کتابیں ،رسالے اور فروٹ چاٹ، جھولے ،،بارہ من کی دھوبن والی بائسکوپ ، چاول چھولے اور پتا نہیں کیا کیا ،اتنی ڈھیر ساری چھوٹی چھوٹی خوشیاں کہ حساب کرنے بیٹھوں تو کیلکولیٹر جواب دے جائے ۔
افسوس کہ پھر ہم بڑے ہوگئے اور یہ سب کچھ بشمول وہ ماں باپ جو یہ سب کچھ دینے کی ہمت اور سکت رکھتے تھے ہم سے چھن گئے ۔ ہم خود ماں باپ بن گئے پڑھ لکھ گئے اور سیانے ہوگئے یا یوں کہیں کہ پریکٹکل ہو گئے اور زندگی گذارنے کا اسلوب بھی تبدیل ہوگیا اور ہم بھی بدل گئے وہ ایک ڈائیلاگ ہے کہ ہم شریف کیا ہوئے پوری دنیا ہی بدمعاش ہوگئی ، ہم بڑے کیا ہوئے ہمارے ساتھ کے سب ہی بڑے ہوگئے ۔
ہمارے بچے وہ عید یاخوشی نہیں دیکھ سکتے جو ہمیں نصیب ہوئیں،سکول جاتے ہوئے وہ لنچ باکس اور نقدی کی صورت میں تقریبا اتنے پیسے لے جاتے ہیں جتنے ہمیں سال میں ایک بار خرچ کرنے کے لئے ملا کرتے تھے،بچوں کی ماں ٹیلفون کرتی ہے کہ فلاں بچے کے فلاں برانڈ کے اس سائزکے جوتے یا کپڑے لیتے آنا یا وہ خود کارڈ ہاتھ میں پکڑ کر لے آتی ہے اور بسا اوقات آپ کو پتا بھی نہیں چلتا کہ کس بچے کے کتنے کپڑے یا جوتے آئے ہیں۔کتابوں اور رسائل سے ان بچوں کا دور کاواسطہ نہیں ،رات کے بارہ بجے یہ فون پر آرڈر کرکے اپنی پسند کی کھانے کی ہر شے منگواسکتے ہیں تو پھر یہ کبھی کبھی اپنی پسند کی چیز خود کھانے کی خوشی ، نئے جوتوں اور کپڑوں کی سنسناتی خوشی ، رگوں میں بھاگتی دوڑتی خوشی پسلیوں کو چیردینے والی خوشی کا احساس کیسے پا سکتے ہیں ۔ گھر کے فریج میں ہر وقت موجود رہنے والی کولڈ ڈرنک سے آپ کو خوشی کیسے مل سکتی ہے جس کے حصول کے لئے نہ تو آپ کو انتظار کرنا پڑا اور نہ منتیں!اکثر سوچتا ہوں کہ خوشیوں کو سہل الحصول (آسانی سے حاصل )کرکے ہم نے خود ان کی اہمیت کو غارت کردیا ہے۔اب بھلا بتائیے جو مزہ بازار سے خود عید کارڈ کا انتخاب کرکے اسے لکھ کر مقررہ تاریخ تک سپرد ڈاک کرنے سے جو تعلق اور رشتہ محسوس ہوسکتا ہے وہ پانچ پیسے کے ایس ایم ایس اور بغیر قیمت کے وٹس ایپ پیغام سے کیسے ہوسکتا ہے؟
ماضی کے ساتھ جڑا یہ تعلق اکثر دکھی کردیتا ہے ، لیکن کیا کیا جائے کہ تعلق استوار کرنا آسان اور نبھانا فی زمانہ بہت مشکل ہوگیا ہے ۔


ای پیپر