ریکوڈک کیس کے فیصلے میں دو اور ججز بھی شامل تھے : افتخار چوہدری
19 جولائی 2019 (23:25) 2019-07-19

ریکوڈک کیس کا فیصلہ کس کے ساتھ بیٹھ کر کیا تھا ؟سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری حقائق سامنے لے آئے

ریکوڈک کیس کے فیصلے میں دو اور ججز بھی شامل تھے : افتخار چوہدری

اسلام آباد:جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ ریکوڈک کیس کا فیصلہ 2 ججز کے ساتھ بیٹھ کر کیا تھا، ہم جو بھی کام کرتے ہیں آئین و قانون کے مطابق کرتے ہیں ، آئین کے تحت سابق جج کسی کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوسکتا، آرٹیکل 207 کے تحت سابق جج کو کسی کمیشن میں نہیں بلایا جاسکتا، ریکوڈک میں ایک ہزار ارب ڈالر مالیت کے ذخائر ہیں ، جو کرپشن کی گئی وہ بہت بڑی ہے، ریکوڈک کے معاملے کی 1993 سے تحقیقات ہونی چاہئیں.

ریکوڈک کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریکورڈک کیس کا فیصلہ میں نے اکیلے نہیں کیا، میرے ساتھ دو اورججز بھی تھے ،،ججز سے اس قسم کی تحقیقات آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہو سکتی ، ہمارا ہر کام آئین وقانون کے مطابق ہوتا ہے، یہ صرف میرا نہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ اگر انہیں تحقیقات کرنی ہے تو 1993 کی نگران حکومت سے کرنی چاہیے، کیوں کے انہوں نے ملک کو بے دردی سے لوٹا ، اس دور کے سب معاہدے کرپشن سے بھرے پڑے ہیں ، آج بھی قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی رپورٹ میں کہا جارہا ہے کہ ریکوڈیک میں اب بھی ایک ہزار ارب ڈالرسے زائد کے ذخائر موجود ہیں ، جب آپ اس کیس کو گہرائی سے چیک کریں گے تو آپ کو اور چیزیں بھی ملیں گی کہ کتنی بڑی بڑی اس میں کرپشن ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس کے فیصلے پر قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے ، اس میں آپ ریو ویو بھی کر سکتے ہیں ، اینٹا اگسٹاکمپنی نے خود پاکستان کو خط لکھا کہ ہم آپ سے مذاکرات کےلئے تیار ہیں ، ہمارے پاس بہت ذخائر موجود ہیں ،ہم پر کوئی آسمان نہیں گرا۔انہوں نے کہا کہ یہ کیس وہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا اور نہ ہی ان کے دائرہ کار میں آتا تھا، قانون کے مطابق اس فیصلہ پر عمل درآمد پاکستان میں ہوگا ، بلوچستان ہائیکورٹ دیکھا ہے کہ اس آرڈر پر عمل درآمد ہو بھی سکتا ہے یا نہیں ، ہم انہیں پیسے دے سکتے ہیں یا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 207کے تحت میں کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوسکتا ،میں نے ایک جج کی حیثیت سے فیصلہ دیا تھا نہ کہ افتخار چوہدری کی حیثیت سے ، میں نے اپنے فیصلہ اپنے لئے نہیں کیا تھا.

کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انارکی پیدا ہوجائے گی ، ایسے تو آپ کل کسی بھی جج کو کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے فلاں بندے کو پھانسی کیوں نہیں دی، کسی کمیشن کو یہ اختیارات نہیں کہ ایسی تحقیقات کریں ، ریٹائرڈ ججز کو بھی کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکتا،کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ 1993سے ملک کے خزانے میں لوٹ مار کیسے کی گئی ،انہوں نے کہا کہ لینڈنگ سٹریپ بنائے ہوئے تھے انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا وہ جہازوں کے ذریعے مال باہر لے جا سکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اس ملک کےلئے ریکورڈک سے بڑے فیصلے بھی کرنے پڑیں تو میں قانون کے مطابق کروں گا ،چاہے آپ بڑی سے بڑی سزا دیں مجھے قبول ہے .


ای پیپر