سائنسدان نے اڑنے والا قالین ایجاد کر لیا
19 جولائی 2019 (22:37) 2019-07-19

پیرس: فرانسیسی موجد نے حال ہی میں اپنی ایک ایجاد کا عوامی مظاہرہ کیا ہے جس پر وہ کئی برسوں سے کام کررہے تھے۔ اسے جدید عہد کا اڑن قالین قرار دیا جاسکتا ہے ۔

جیٹ پاور سے اڑنے والا یہ تختہ 140 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اڑان بھرسکتا ہے۔40 سالہ فرینکی زپاٹا پیدائشی کلر بلائنڈہیں اور اسی بنا پر ان کی پائلٹ بننے کی شدید خواہش پوری نہ ہوسکی یہاں تک کہ انہیں ہیلی کاپٹر کا لائسنس بھی نہ مل سکا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پہلے پانی کی بوچھاڑ سے سمندر پر اڑنے والا نظام ہائیڈروجیٹ بنایا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس میں مزید جدت پیدا کی اور آخر کار اپنی حیرت انگیز ایجاد بنائی ہے جس کا پورا نام زپاٹا فلائی بورڈ ایئر رکھا گیا ہے۔لیکن بقول زپاٹا یہ ایک مشکل کام ہے۔ آپ پورے جسم کے ساتھ اڑتے ہیں یہاں تک کہ ہاتھوں پر ہوا کی شدت محسوس ہوتی ہے۔ ٹانگوں پر دبا اور شدید درد محسوس ہوتا ہے۔

فرینک زپاٹا نے کہاگزشتہ اتوار انہوں ںے فرانس کے قومی دن کے موقع پر جیٹ تختے کا عوامی مظاہرہ کیا ہے۔ فی الحال وہ 500 میٹر کی بلندی پر اڑے اور 140 فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کی جسے دیکھ کا دنیا حیران رہ گئی ہے۔ تاہم تختہ اس سے بھی زیادہ بلندی پر جاسکتا ہے۔ اگلے مرحلے میں وہ انگلش چینل اڑ کر عبور کرنا چاہتے ہیں۔زپاٹا کے نزدیک ان کی ایجاد آپ کو اڑنے کی آزادی دیتی ہے۔ انہوں نے اس کا مظاہرہ ایریزونا کے ریگستان میں بھی کیا ہے جس کی ویڈیو نیچے دیکھی جاسکتی ہے۔ اس حیرت انگیز ویڈیو میں وہ بڑی مہارت سے اڑن تختے پر پرواز کررہے ہیں جس میں ٹیکنالوجی کی افادیت اور برق رفتاری کو دیکھا جاسکتا ہے۔اب تک لوگوں نے زپاٹا سے ایک ہی سوال کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس ایجاد کی قیمت کیا ہے اور یہ کب دستیاب ہوگی۔

زپاٹا چاہتے ہیں کہ عالمی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے پہلے خریدار بنیں۔ تاہم انہوں نے اس کی قیمت اور فروخت کرنے کا وقت نہیں بتایا ہے۔اڑن تختے میں پانچ چھوٹے جیٹ انجن لگے ہیں جو اسے آگے بڑھاتے ہیں اور پورا نظام انسانی جسم کی حرکات و سکنات سے کنٹرول ہوتا ہے۔ تجارتی پیمانے پر فروخت کرنے کے لیے اس کے بہت سے حفاظتی اور قانونی پہلوں پر کام کرنا باقی ہے۔ دوسری جانب تفریح فراہم کرنے والے کئی اداروں نے بھی ان سے رابطہ کیا ہے۔


ای پیپر