ٹیکس چوری جرم ہے
19 جولائی 2019 2019-07-19

ٹیکس کا لفظ تاریخ کے ہر دور میں خوفناک رہا ہے اور جب یہ لفظ ریاست کے ان افراد کی زبان سے ادا ہو رہا ہو جو ملک کے مختارِ کار ہوں تو اس کی عزت میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے ۔ ٹیکس اور انقلاب کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے یہ وہی تعلق ہے جو زنجیروں کا آزادی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ہمارا موجودہ ٹیکس نظام ایک ڈکیتی کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اس پر بات کرنے سے پہلے انقلاب فرانس کا حوالہ دینا ضروری ہے جس کی بنیادی وجہ ریاست اور بادشاہ کی طرف سے ظالمانہ ٹیکسوں کا نظام تھا جس نے عوام کی ہڈیاں توڑ ڈالیں۔ جو بچ گئے انہوں نے سوچا کہ موت تو یقینی ہے زنجیروں میں جکڑ کر مرنے کی بجائے کیوں نہ ہم لڑ کر مر جائیں بقول فیض :مرنے چلے تو سطوت قاتل کا خوف کیا؟۔

فرانس کے انقالب کے دور کا ایک سیاستدان Mirabeau اس نے انقلاب فرانس سے ایک سال پہلے پارلیمنٹ کے فلور پر ایک تاریخی تقریر کی تھی جس میں اس نے وقت کے وزیر خزانہ جیکس نیکر کی اس تجویز کا جواب دیا تھا کہ فرانسیسی عوام پر ان کی آمدنی کا 25 فیصد حصہ ٹیکس دینے کا قانون بنایا جائے اس ٹیکس کو حکومت نے ratriatic کا نام دیا ۔ میرا بیو نے حکومت کی تجویز کو شرمناک اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی لفظ کی توہین مت کرو۔ جب وہ اٹھا تو اس کے پاس فرانس کے 2000 امیر ترین افراد کی ایک فہرست تھی اس نے کہا کہ ان 2000 امراء سے سارا سرمایہ لے کر خزانے میں جمع کر دو تو حکومت بچ جائے گی اور غریب عوام بھی بھوک اور موت سے بچ جائیں گے۔ پورے فرانس کو تباہ کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ یہ 2000 لوگ تباہ ہو جائیں۔ تاریخ کے اوراق میں Mirabeau کی 26 ستمبر 1789 ء کی یہ تقریر آج بھی محفوظ ہے ۔ اس نے خبر دار کیا کہ اگر ایسا نہیں کرو گے تو یہ مت سوچنا کے فرانس کے بھوکے اور ننگے عوام آپ کو قوم کی لوٹی ہوئی اس دولت سے لطف اندوز ہونے دیں گے۔

اب ہم حکومت سے 17 فیصد جی ایس ٹی کی بات کرتے ہیں جس کا نام ہی جنرل سیلز ٹیکس ہے جو ہر اس فرد پر واجب الادا ہے جو کوئی چیز سیل کر رہا ہے ۔ تاجروں نے سیدھا سیدھا 17 کا 17 فیصد ٹیکس سارے کا سارا عوام پر منتقل کر دیا جو بہت بڑی لا قانونیت تھی مگر حکومت خاموش رہی حکومت نے کہا کہ ہمیں آپ سے 17 فیصد ٹیکس چاہیے آپ جہاں سے بھی لا کر دیں۔ یہ بالکل بھتہ خوری یا اغواء برائے تاوان کے برابر کا جرم ہے کہ تاجر سارے کا سارا سیل ٹیکس عوام پر ڈال چکے ہیں مگر حکومت ان کے اس عمل پر خاموش ہے ۔ اگر آپ نے یہ ٹیکس خریدار سے ہی لینا ہے تو پھر اس کا نام ہر چیز ٹیکس کیوں نہیں رکھ دیتے۔ ہمارے ہاں چونکہ پرائس کنٹرول کا نظام کام ہی نہیں کرتا اس لیے تاجر طبقہ اپنی من مانی میں آزاد ہے ۔ فرانسیسی انقلاب کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کی فرانس کی حکومت نے امریکی جنگ آزادی کو کامیاب کرنے کے لیے اپنے سارے وسائل جنگ میں جھونک دیئے جس کے سبب فرانس اور انگلینڈ کی روایتی مخالفت تھی فرانس چاہتا تھا کہ امریکہ برطانیہ کے قبضے سے آزاد ہو جائے اس کوشش کے لیے حرب کا سامان موجود ہے ۔

حکومت تاجروں سے یہ کیوں نہیں پوچھتی کہ جب سارے کا سارا ٹیکس آپ نے خریدار پر ٹرانسفر کر دیا ہے تو پھر آپ ہڑتال کس بات کی کر رہے ہیں۔ ہڑتالیں تو عوام کو کرنی چاہیے۔ حکومت کا رویہ یہ ہو چکا ہے کہ تاجروں کو کہا گیا ہے کہ آپ کو کھلی چھوٹ ہے اپنا ٹیکس عوام سے ادا کروائیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ عوام کو کہا جائے کہ ہم نے آپ کو گولی مارنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس گولی کی قیمت بھی آپ مرنے سے پہلے ہمیں ادا کریں گے ۔

یہاں ایک اور چور بازاری کا ذکر بہت ضروری ہے ایف بی آر کا نظام درست کرنے کے لیے آسمان سے فرشتے نازل نہیں ہونے۔ عمران خان نے وزیر اعظم بنتے ہی کہا تھا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات لائیں گے مگر حقیقت میں کچھ بھی نیا نہیں ہے ۔ اب کہتے ہیں کہ ٹیکس میں NTN نمبر ختم ہو گیا ہے اور ہر شہری کا شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا ٹیکس ڈیٹا بیس کا کام دے گا۔ اگر واقعی آپ اتنے ایڈوانس ہو چکے ہیں تو آپ ایک کام اور کریں دکاندار جب جی ایس ٹی کی رقم خریدار سے لے رہا ہے تو PTO ایف بی آر کے ریکارڈ میں یہ رقم خریدار کے ٹیکس ادائیگی کے کھاتے میں جمع ہونی چاہیے اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ خریدار کا شناختی کارڈ نمبر رسید پر درج ہو اور جو ٹیکس ریفنڈ تاجر یا دوکاندار لے جاتا ہے اس پر اس شخص کا حق تسلیم کیا جائے جس کی جیب سے یہ پیسے گئے ہیں اگر یہ سسٹم لاگو کر دیا جائے تو ٹیکس نظام میں ایک انقلاب آ جائے گا اور کسی تاجر کو چھپنے کو جگہ نہیں ملے گی یہاں تو حاصل یہ ہے کہ ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے پر جی ایس ٹی کاٹ لیا جاتا ہے مگر ایف بی آر خود تسلیم کر چکی ہے کہ وہ گاہک سے ٹیکس لے لیتے ہیں مگر حکومت کو نہیں دیتے۔ اب گورنمنٹ کہتی ہے کہ اس کا حل نکال لیا گیا ہے ۔دنیا بھر میں ٹیکس کا اصول یہ ہے کہ امیروں سے لے کر غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا تا ہے مگر پاکستان واحد ایسا ملک ہے جہاں کے غریب بالواسطہ یا ان ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں امیروں سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں گویا ہمارا غریب طبقہ امراء کو پال رہا ہے ۔

نئے چیئر مین ایف بی آر سید شبر زیدی کی وجہ شہرت ہی یہ ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے قومی میڈیا میں ٹیکس اصلاحات پر تجاویز دیا کرتے تھے مگر اب ان کی سمت تبدیل ہو چکی ہے ان کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ سسٹم درست کرنے کی کوشش کر ہے ہیں آگے اللہ مالک ہے یعنی ملاح کشتی کے سواروں کو کہہ رہا ہے کہ اگر ڈوبنے لگو تو مجھ پر نہ رہنا یعنی پھر تمہاری کوشش اور قسمت ہی کام آئے گی۔ یہ پیغام انہوں نے پتہ نہیں وزیر اعظم کو دیا ہے یا ان کے مخاطب عوام ہیں دونوں صورتوں میں پوزیشن خطرے سے خالی نہیں ہے ۔

اسی اثناء میں پرائیویٹ ٹی وی چینل پر خبر چل رہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق صاحب نے ان افواہوں کی تردید کر دی ہے کہ شبر زیدی سبکدوش ہو رہے ہیں یہ ایک اور نیوز الرٹ ہے ۔ نعیم الحق کے اس بیان کے پیچھے لازم کوئی وجہ ہے کہ انہیں یہ بیان کیوں جاری کرنا پڑا۔ ہمیں تو اس موقع پر اسد عمر کی یاد آ رہی ہے ۔ ویسے بھی تجزیہ نگار جانتے ہیں کہ جب حکومت کسی خبر یا افواہ کی تردید کرتی ہے تو سمجھ لیں کہ اس کی کچھ نہ کچھ حقیقت موجود ہوتی ہے ۔ لگتا ہے کہ شبر زیدی کی جادو کی چھڑی اپنا کام دکھانے میں مشکلات میں گھر گئی ہے آگے ان کے اپنے الفاظ میں اللہ مالک ہے ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شہر کے ایک تھانے میں چوریاں حد سے بڑھ گئیں تو ایس پی نے تھانیدار (SHO ) کو بلا کر خبر دار کیا کہ اب اگر چوری کی اطلاع آئی تو میں تمہیں نوکری سے ڈسمس کر دوں گا۔ چوری کی اطلاعات بند ہو گئیں اس کی وجہ یہ تھی کہ تھانیدار علاقے کے تمام چوروں کو کہہ دیا تھا کہ اب مجھ پر نہ رہنا اور جو مرضی کرو مگر میں چوری برداشت نہیں کروں گا نوکری کا سوال ہے ۔ ایس پی صاحب نے علاقے میں مخبر بھیجے کہ پتہ لگائیں ۔ انہوں نے آ کر صورت حال بیان کی کہ سر علاقے میں چوریاں واقعی بند ہو گئی ہیں اب وہاں صرف ڈکیتیاں ہوتی ہیں۔ ہماری حکومت نے ٹیکس چوری روک دی ہے اس کی جگہ ٹیکس ڈکیتی نے لے لی ہے تاجر اب قانونی طور پر اپنا سارا ٹیکس عوام کی جیب سے ادا کر رہے ہیں۔ کیونکہ حکومت نے انہیں خبر دار کر دیا ہے کہ ٹیکس چوری جُرم ہے ۔


ای پیپر