سندھ میں پانی کی شدید قلت
19 جولائی 2019 2019-07-19

ضلع دادو میںواقع کاچھو کے علاقے فریدآباد کے قریب پیاس کے مارے ایک خاتون اور بیٹی فوت ہو گئیں۔ یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی اور اس خبرنے وہیں دم توڑدیا۔ نہ ضلع انتظامیہ نے اور نہ مقامی منتخب نمائندوں اور حکومت سندھ کے ذمہ داران نے نوٹس لیا۔ سندھ کے زرعی علاقوںبدین میں پانی کی قلت جاری تھی کہ اب لاڑکانہ اور شہدادکوٹ قمبر اضلاع میں بھی زرعی اور پینے پانی کی قلت سامنے آئی۔ جامشورو اور کوٹری میں پینے کے پانی کے لئے مظاہرے ہو رہے ہیں۔

ذاتی طور پر بااثر اور اپنے تئیں طاقتور پیپلزپارٹی کے رکن نادر مگسی کو بھی پانی کی شکایت ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے وڈیروں کو پانی چور قرار دیتے ہوئے رینجرز کی جانب سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو رینجرز کی مخالفت کر رہے ہیں اور واٹر کورسز توڑ کر پانی چوری کر رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں پانی کی بدترین صورتحال پر پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب دریائے سندھ اور کینالوں میں پانی آگیا ہے۔ محکمہ آبپاشی اپنے انتظامات ٹھیک کرے۔ہمارا مرنا جینا پانی پر ہے، وزیر اعلیٰ خود چل کر قمبر میں دیکھیں کہ پانی کی کیا صورتحال ہے۔ اگر پانی کی صورتحال کو ٹھیک سے نہ دیکھا گیا تو ہم سڑکوں پر بھی آسکتے ہیں۔ سڑکوں پر آنا لوگوں کا حق ہے۔ آبپاشی کا قلمدان وزیراعلیٰ سندھ کے پاس ہے۔ نادر مگسی کا یو ٹرن، پانی ملنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ گزشتہ روز فریال تالپور نے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ضلع سجاول میں پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ اٹھایا، تو سب کو حیرت ہوئی۔

روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ بلاشبہ سندھ کو اوپر سے پانی کی رسد میں مسلسل ناانصافی کی جارہی ہے۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا کہ جو تھوڑا بہت پانی ملتا ہے اس کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جاتی۔ مرکز سندھ سے ناانصافی کر رہا ہے، اور سندھ حکومت اپنے لوگوں سے ناانصافی کر رہی ہے۔ پانی کی قلت کا مسئلہ اپنی جگہ پر، لیکن اس سے زیادہ سنگین مسئلہ انتظامی قلت کا ہے۔ اگر انتظامی بحران نہ ہو، معاملات بہتر طور پر چلانے کی صلاحیت موجود ہو، تو یہ چیخ و پکار نہ ہوتی۔ پانی کی قلت کی گونج سندھ اسمبلی میں بھی سنائی دی۔ اب خود حکومتی صفوں سے بھی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے۔ حد ہے کہ خود وزیراعلیٰ بھی پانی کی قلت کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جن ہاتھوں میں انتظام کاری ہے ان میں کتنی صلاحیت ہے۔ وڈیرے جن کو خود پر اعتماد ہے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، واٹر کورسز توڑپانی چوری کر لیں گے۔ پانی کی کمی جب اوپر سے ہوگی تو نیچے ناانصافی جنم لے گی۔ طاقتور لوگ دوسرے کے حصے کا پانی زبردستی چھین لیں گے۔ ابھی کالاباغ ڈیم تو نہیں تعمیر ہوا، لیکن سندھ کے ٹیل والے لوگوں کیلئے یہ ڈیم بن چکا ہے، جہاں پانی کی شدید قلت ہے۔ پہلے صرف تھر خشک سالی کا شکار ہوتا تھا، اب سندھ کے باقی علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں اس حساس مسئلے پر بحث اچھی بات ہے۔ لیکن ایسا نہ ہو کر کہ ماضی کی طرح منتخب ایوان میں صرف بحث کی روایتی سرگرمی دکھا کر داخل دفتر کردیا جائے۔

صحت کے شعبے میں بھی کوئی بہتری نہیں آئی ہے، مختلف اضلاع میں متعدد افراد کے ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کے انکشاف کے بعد موثر اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں۔ سندھ کے مختلف ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے علاج کے لئے ویکسین موجود نہیں۔ کمشنر آفس میں سینٹر قائم ہے جہاں سے یہ ویکسین ملنی ہے۔ لیکن وہاں پر ویکسین کی قلت ہے۔ یہ قلت صوبے کے دوسرے شہروں سے بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والی نرسیں دو ہفتوں سے اپ گریڈیشن کے معاملے پر احتجاج کر رہی ہیں۔ جس سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات متاثر ہورہی ہیں۔

محکمہ تعلیم کے منتظمین نے بلا ٓخر اعتراف کر لیا ہے کہ صوبے میں سات ہزار اسکول بند ہیں۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان بند اسکولوں میں سے تین ہزار اسکول ختم کرنے اور چار ہزار کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ جب اسکول بند ہونے، ان کی عمارتوں کو اوطاقوں، بھینسوں کے باڑوں یا اناج کے ذاتی گوداموں میں تبدیل ہونے کی بات کی جاتی تھی تو تردیدوں کی بارش ہو جاتی تھی۔ اب بعداز خرابی بسیار منتظمین نے اعتراف کیا ہے۔ سالہا سال سے سات ہزار اسکول بند رہنا معمولی بات نہیں۔ بند اسکولوں کے اساتذہ تنخواہیں بھی لیتے رہے ، یہ کم تعجب کی بات ہے کہ انتظامیہ اسکول بندہونے کا علم رکھنے کے باوجود باقاعدگی سے ہر ماہ یہ تنخواہیں جاری بھی کرتی رہی۔ اب کہا جارہا ہے کہ یہ اسکول بغیر ضرورت کے قائم کئے گئے تھے۔ اور مشرف دور میں بھوتاروں کی فرمائش پر ایک کمرے کے اسکول تعمیر کر کے دیئے گئے تھے۔ مشرف دور گزرے ایک عشرہ ہو چکا ۔ پھر یہ اسکول کونسا ثواب حاصل کرنے کے لئے برقرار رکھے گئیَ اب ان اسکولوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان کی عمارتوں کا کیا ہوگا؟ یہ کس مقصد کے لئے استعمال کی جائیں گی؟ کیا یہ عمارتیں باڑوں اور اناج گوداموں کے لئے دے دی جائیں گی؟ کیابہتر نہ ہوگاکہ ان عمارتوں کو لڑکیوں کے لئے ہنری مراکز یا کسی ایسے استعمال میں لایا جائے۔

سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی گزشتہ گیارہ سال میں ایک رپورٹ بھی پیش نہ کر سکی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد منتخب نمائندوں اورایوان کے ذریعے حکومتی اخراجات کااحتساب کر نا ہے۔ اسمبلی قواعد کے مطابق کی کمیٹی کو ہر سال ایوان میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔ احتساب کے لئے ایوان کے اپنے مکینزم کی ناکامی کی وجہ سے دوسرے اداروں کودعوت ملتی ہے کہ وہ مداخلت کریں۔کمیٹی ابھی تک سال 2009-10 کے حسابات دیکھ رہی۔ جبکہ اس دور کے اکثر اعلیٰ افسران ریٹائر ہو چکے ہیں، ٹھیکیدار غائب ہو گئے ہیں۔


ای پیپر