احتساب سے کیا حاصل؟
19 جولائی 2019 2019-07-19

ایسا لگتا ہے کہ احتسابی عمل آنے والے دنوں میں تیزی سے آگے بڑھے گا کیونکہ اب تک کی گرفتاریاں غیر معمولی ہیں لہٰذا دیگر مطلوب ملزمان سے کسی رعایت یا ڈھیل کی گنجائش نظر نہیں آتی۔

بات بڑی عجیب ہے کہ جن لوگوں نے ملک و قوم کا پیسا ذاتی تجوریوں میں ٹھونسا انہیں کیوں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اب ریاست یہ فیصلہ کر چکی ہے کوئی بھی ہو کچھ بھی ہو خورد برد کی گئی عوامی دولت واپس قومی خزانے میں لانا ہے لہٰذا وہ از خود ساری کی ساری دولت بحق سرکار جمع کرا دیں مگر ایسی شائستگی و فراخدلی کہاں؟

اسی لیے ہی ہتھ سخت کیا جا رہا ہے اور بڑے بڑوں کو پکڑ پکڑ کر پس زنداں دھکیلا جا رہا ہے اس کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور پریس کانفرنسوں میں اپنے نہائے دھونے ہونے کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ مگر سوال بڑا سادہ ہے کہ وہ کھرب پتی کیسے بنے؟

بس اس کا جواب دے دیں تو ان کی گلو خلاصی ہو سکتی ہے مگر وہ عدالتوں سے رجوع کر کے بعض ’’فنی سہولتوں‘‘ سے استفادہ کرنے کی کوشش میں ہیں کوئی ویڈیو تکنیک سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو کوئی گواہان پر ان دیکھے ’’دباؤ‘‘ کا شور مچا کر مستفید ہونا چاہتا ہے۔ اگر ان سب کے بارے میں متعلقہ اداروں کے پاس ثبوت موجود ہیں تو وہ ان سے بات چیت کر کے معاملہ رفع دفع کرنے کی حکمت عملی کیوں نہیں اختیار کرتے اور پھر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کے بڑے سیاستدانوں و حکمرانوں ہی نے ملکی دولت پر ہاتھ صاف کیے ہیں اوروں نے نہیں شیر مادر سمجھ کر اس کی معاشی حالت خراب کی…؟

بہر حال دکھائی دے رہا ہے کہ قومی دولت ہتھیانے والوں سے باری باری دھیرے دھیرے پوچھا جانے والا ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے اس مرتبہ جو شرائط عائد کی ہیں اور ان پر عمل در آمد کرایا ہے کہ جس سے عوام کی حالت بد تر ہو گئی ہے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ’’ تموڑیاں‘‘ بھی پکڑی جائیں گی کیونکہ صرف عوام کو تختہ مشق بنا کر معیشت کو مضبوط بنانا ناممکن ہے وہ پہلے بھی ٹیکس دیتے تھے اب اور دے دیں گے مگر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لہٰذا اہل زر خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہیں ان سے وصولیاں کی جائیں گی۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا اور جبراً عوام کو خزانہ بھرنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے تو پھر رد عمل بھی شدید آئے گا۔ جرائم کی شرح بھی بڑھے گی اور سماجی برائیاں نئی صورت میں نمو دار ہوں گی جو ریاستی اداروں کے لیے ایک درد سر بن جائیں گی لہٰذا ضروری ہے کہ بلا تفریق ہر کسی کو احتسابی شکنجے میں کسا جائے۔!

اس تاثر کو زائل ہونا چاہیے کہ یہ گرفتاریاں اور جیلیں محض حکمرانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے لہٰذا حاصر سروس بیورو کریٹوں یا ریٹائرڈ افسران جنہوں نے واضح طور سے بے دریغ پیسے کے حصول کے لیے ناجائز اختیارات کا استعمال کیا ان سے بھی باز پرس ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس وقت ملک کی معیشت ڈانواں ڈول ہے اور اسے ہر صورت توانائی کی ضرورت ہے جو احتسابی عمل میں شفافیت ہی سے ممکن ہو سکتی ہے ۔ پھر یہی کافی نہیں عدم مساوات کو بھی ختم کر کے معاشی ترقی ہو سکتی ہے ۔ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں پر بھی خصوصی ٹیکس لگا کر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں اگرچہ وہ تلملائیں گے اور رولا ڈالیں گے مگر ملک سے عزیزان کی دولت اور جاگیریں نہیں ہیں اس امر کا خیال انہیں بھی ہونا چاہیے بلکہ ایک نہ ایک روز ایسا ہونا ہے۔ حالات بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ آبادی میں اضافہ اور شعوری ترقی نے ضروریات زندگی کو نیا رخ دے دیا ہے ۔ اس کے تقاضے آج سے بیس تیس برس پہلے کی طرح نہیں ہیں۔ لوگوں کو بس یہ علم ہوتا کہ فلاں ڈھیروں دولت کا مالک ہے اور فلاں کی ہزار دو ہزار یا اس سے زائد ایکڑ ملکیت ہے اب انہیں معلوم ہوا ہے کہ یہ سب ان پر مسلط رہنے کے عوض ہوا۔ ایک ایسے نظام نے انہیں یر غمال بنانے کے لیے کچھ افراد کو اختیارات و زورجواہر سے نوازا لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ اب موجودہ نظام جو استحصالی ہے اور یر غمالی ہے اسے بدلنا ہو گا۔!

بہر کیف ایک معمولی سی تبدیلی کے ساتھ کہ احتساب کے ذریعے حالات بہتر بنائیں گے حکومت نے آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے اس طرح چھوٹی چھوٹی باتیں آخر کار نظام زندگی میں خوشگوار پہلو کا باعث بن جائیں گی ۔ مگر ناقدین کے مطابق حکومت آزادانہ طور سے وہ کچھ نہیں کر پا رہی جس کا اس نے اقتدار سے پہلے کہا تھا یعنی وہ کنٹرولڈ ہے لہٰذا وہ دور اہے پر کھڑی ہے اور سوچ رہی ہے کہ کیا کرے۔ اسے چونکہ احتساب والا پروگرام وارے میں لگتا ہے لہٰذا وہ اندھا دھند اسے پورا کرنے پر تل گئی ہے اور اسی ایک کنویں سے میٹھا پانی نکال کر کھیتیاں سراب کرنا چاہتی ہے اس میں ابھی تک وہ ناکام دکھائی دیتی ہے کیونکہ دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے کوئی سبز جھنڈی نہیں لہرائی گئی جس کا مطلب صاف ہے کہ پیسا ہم نے نہیں دینا اگر ہتھیا یا بھی ہے جو کرنا ہے کر لو۔؟

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں اس بات پر آمادہ و تیار ہیں کہ ان سے جو لینا ہے لے لیا جائے مگر گناہ گاروں کی فہرست میں نام درج نہیں ہونا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ لوگوں میںآ کر مظلوم بن کر ان کی ہمدردیاں سمیٹ سکیں اور پھر اپنا خسارہ پورا کر سکیں۔ نیب ایسے دوسرے ادارے اس فارمولے پر راضی نہیں وہ براہ راست معاملہ طے کرنے کے حق میں ہیں۔ چلیے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے ۔ اگلے دنوں وزیر اعظم عمران خان امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں وہاں ان سے کچھ سہولتوں کے حصول کی بات ہو سکتی ہے کیونکہ اب حزب اختلاف کی ایک جماعت پی پی پی کسی حد تک واشنگٹن کو قابل قبول ہے اس کی نوجوان قیادت سے کچھ امیدیں بھی وابستہ ہو سکتی ہیں کہ اب امریکہ لبرل حکمرانوں کو ترجیح دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔لہٰذا ممکن ہے حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں خاموش رہنے یعنی ہتھ ہولا رکھنے کا معاہدہ کر لیں تاکہ ملک میں اور اس خطے میں امن، خوشحالی ، بر داشت اور رواداری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اس تناظر میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کی بھی در پردہ کوششیں جاری ہیں۔ مگر مجھے نہیں لگ رہا کہ حکومت بد عنوانی کے حوالے سے کوئی لچک دکھائے گی اور شاید مغرب کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ اس کے زیر اثر عالمی مالیاتی ادارے بھی بد عنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس چیز سے بچنا چاہتے ہیں کہ کہیں ان کا کوئی مقروض ملک ان کی قسطیں دینے کی پوزیشن میں نہ رہے لہٰذا احتساب سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا کہ بد عنوانی کے خاتمے کے لیے پوری قوت کا مظاہرہ کیا جائے گا مگر اس کا دائرہ کار و اثر محدود نہیں ہونا چاہیے تب ہی عوام کے دل جیتے جا سکیں گے۔


ای پیپر