گرچہ ڈرامے باز تھے مگر …؟!؟
19 جولائی 2019 2019-07-19

ایک مچھر کہیں اڑ کر جا رہا تھا راستے میں زور کا طوفان آ گیا … مچھر ایک موٹے درخت سے لپٹ گیا…

طوفان تھم جانے کے بعد مچھر اپنا پسینہ صاف کرتے ہوئے بولا ’’جے اج میں نہ ہوندا تے درخت تے اڈ ای جانا سی…!!‘‘

مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب نے مجھے یہ لطیفہ سنایا تو میری ہنسی نکل گئی … وہ سمجھے میں اُن کے سنائے اس لطیفے پر ہنسا ہوں حالانکہ مجھے سرور چوہدری کی FB (فیس بک) پر لگی ایک پرانی تصویر یاد آ گئی … سانحہ لاہور پر جب شہباز شریف جناح ہسپتال پہنچے تو اپنے انداز میں زخمیوں کے ساتھ اُنہوں نے یکجہتی کے لیے خون کا عطیہ دیا… کسی نے کہا یہ خون نہیں لگ سکتا … کسی نے کہا وہ تو خون دینے کی پوزیشن میں نہیں … کسی نے کہا ڈرامہ بازی ہے … مجھے اس دکھ کے موقع پر بھی افتخار مجاز کا جاری کردہ ایک شعر یاد آ گیا …؎

دوستوں سے بچھڑ کے یہ حقیقت کھلی فراز

بے شک ڈرامے باز تھے مگر رونق اُنہی سے تھی

مجھے کچھ نہیں پتہ یہ کیا تھا یہ کیا ہے … مگر اُس کے بعد دیکھا دیکھی شہباز شریف کے چاہنے والوں نے جوق در جوق جناح ہسپتال جا کر خون دیا اور نوجوانوں کا رش پڑ گیا … جذباتی نوجوانوں کا … جو سب خون دینے کے لیے دوڑے چلے آئے (ویسے بھی لاہورئیے خیر خواہی کے کاموں میں سب سے آگے بھی تو ہوتے ہیں ناں)

مجھے ایک تصویر مل گئی … جس میں چوہدری سرور عرف ہر فن مولا … ہسپتال میں عیادت کرنے گئے اور ایک زخمی بچے کے ساتھ تقریباً لیٹ گئے (تصویر اتروانے کے لیے) … مجھے بڑے بڑے اداکار بھول گئے … (اب تو خیر ہے گورنر پنجاب ہیں اللہ کرئے اب بھی اُن کے دل میں عوام کا درد موجود ہو) …؟! دکھ کی گھڑی میں بھی میں مسکرا دیا … عمران خان نے کیا "PIECE" تلاش کیا ہے ’’بڑے دھرنے‘‘ میں میاں صاحبان کا خیال تھا چوہدری سرور، طاہر القادری کو منانے جا رہا ہے جلد وہ طاہر القادری کو لے کر باہر آ جائے گا جہاز سے … نہیں معلوم تھا چوہدری سرور پل دو پل کی گورنری نہیں عمران خان سے جلد کچھ اور چھین لے گا اور پھر چل سو چل … آپ کو بھی یقین نہیں آ رہا ناں … انتظار کریں آپ ’’ہر فن مولا‘‘ کی آنے والے دنوں کی ادا کاریوں کا انتظار کریں … پریشان ہو جائیں گے … حیران ہونے کے بعد …

’’ادھارا پان کرائے دی پھکّی‘‘ … میں عنقریب یہ فلم بنانے لگا ہوں … میرا دل چاہتا ہے مجھے کوئی ایسا اداکار ملے جو دیوانند دلیپ کمار اور ’’میرا‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دے … (ذرا غور کریں ’’میرا‘‘ کو میں نے کس

اعلیٰ مقام پر کھڑا کر دیا ہے بلکہ ’’چڑھا‘‘ دیا ہے …؟

بات ہو رہی تھی مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب کے لطیفے کی … پچھلے دنوں میں دفتر پہنچا تو مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب پہلے سے تشریف فرما تھے … جیسے میرے انتظار میں ہوں …

سر آپ جتنے عقلمند ہیں، زیرک ہیں فہم و ادراک رکھتے ہیں اگر آپ کا کوئی اور بھائی ہوتا تو میں آپ کو مشورہ دیتا کہ اُسے سیاستدان بنائیں …

کام بہت تھا اس لیے … میں نے مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب کی بات پر توجہ نہ دی … اک دم گرمی لگی پسینہ آیا اور ’’پِت‘‘ لڑنے لگی تو میں نے بڑے پین سے کمر پہ خارش کرنے کی ناکام کوشش کی… (ذرا دیکھیے کیا مشکل صورتحال ہو گی؟) …

’’اتار دیں … اتار دیں‘‘ … اب اتار دیں … شاہد جاوید عرف شاہ جی سنجیدگی سے بولے … میں نے محسوس کیا کہ پہلی اپریل کو کوٹ … واقعی اب اتار ہی دینا چاہئے … میں نے کوٹ اتارا تو کچھ عجیب قسم کی SMELL آ رہی تھی … میری جان میں جان آئی … میں نے شاہد جاوید عرف شاہ جی کا شکریہ ادا کیا کہ اُن کے مشورہ پر میرا یہ ’’بوجھ‘‘ اتر گیا … ورنہ شاید شہزادہ خرم اور میں اپریل کا پورا مہینہ بھی کوٹ چڑھائے رکھتے …؟

ارے یہ مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب نے کیا کہا تھا … ’’جھوٹ بولا‘‘ تھا …؟ سر آپ جتنے عقلمند زیرک ہیں فہم و ادراک رکھتے ہیں (اس کا مطلب مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب جھوٹ بھی بولتا ہے بوقت ضرورت؟ … میں نے دل ہی دل میں سوچا …؟) اگر آپ کا کوئی اور بھائی ہوتا تو میں آپ کو مشورہ دیتا کہ اُسے سیاستدان بنائیں …؟

مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب نے یہ فقرہ کیوں بولا …؟ میں نے آواز دی … شاہ جی ذرا بھٹی صاحب کو بلائیں … وہ تو سامنے ’’کافی‘‘ پینے گیا ہے … شاہ جی غصے میں بولے … میں سمجھ گیا شاہ جی غصے میں کیوں ہیں بھٹی اکیلا جو چائے کافی پینے چلا گیا …

کچھ دیر بعد جب میں پھر فائل پہ جھکا ہوا تھا مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب پسینو پسین آ دھمکا … ’’جی آپ نے یاد کیا‘‘ … وہ آپ نے سیاستدان والی بات …؟؟

آپ تو ملازم ہیں ناں دل تو چاہتا تھا آپ کا کوئی بھائی ’’فارغ‘‘ ہوتا … تو میں مشورہ دیتا کہ اُسے سیاستدان بنائیں کیونکہ … ’’مکار‘‘ …

مکھی مارتے مارتے میرا ہاتھ گرم چائے کے بھرے کپ کو لگا اور پوری ٹیبل سمیت میری شرٹ گرم چائے سے بھر گئی …

میں صاف کرتا ہوں … مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب نے محبت سے فائل پکڑی اور اُس سے چائے فرش پر گرانے لگا (آسمان سے گرا پھر کجھور سے بھی گرا …؟)

بات آئی گئی ہو گئی …

اگلے دن دوپہر کے وقت بھٹی صاحب آ گئے … سر مجھے ساری رات نیند نہیں آئی …؟

’’کیوں‘‘ … میں نے پوچھا تو بولا … ’’وہ کل چائے گرنے سے پہلے بات ہو رہی تھی‘‘ … ’’سر آپ نے کھانا کھا لیا ہے ناں؟‘‘ … بات روک کے بھٹی نے حیرت سے پوچھا …؟؟

ساڑھے بارہ بجے واقعی میں نے کھانا کھا لیا تھا مگر میں نے تو چھپ کے کھانا کھایا تھا یہ بھٹی کو کیسے پتہ چلا میں اندر ہی اندر گھبرا گیا … مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب نے ایک دن مغرب کے بعد مجھے بتایا تھا کہ ہمارے گائوں میں بڑا درخت ہے جس پر سنا ہے جنات بیٹھ کے ’’لُڈّو‘‘ کھیلتے ہیں … یا اللہ خیر … یہ بھٹی بھی کہیں … جنات کے ساتھ اُسی درخت پر بیٹھ کے ’’تاش‘‘ تو نہیں کھیلتا …؟؟ (ایسے دنیا دار جن بھٹی کے ہاں ہی پائے جاتے ہوں گے … ہم نے تو زیادہ تر عاشق مزاج جنات کا سن رکھا ہے …؟) یا پریوں کا تذکرہ ہمارے ’’عامل‘‘ دوست کرتے رہتے ہیں …؟!

سر پریشان نہ ہوں (بھٹی نے مجھے گھبرایا دیکھ کے ہنستے ہوئے کہا ) آپ کی قمیض پہ سالن گرا ہوا ہے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ نے کھانا کھا لیا ہے … میں ہلکا ہلکا شرمندہ ہوا مگر اس ڈر سے کہ کہیں بھول نہ جائوں میں نے پھر بات چھیڑ دی … سیاستدان والی…

سر کل میں نے کہا تھا ناں کہ آپ کا کوئی بھائی فارغ ہوتا تو میں مشورہ دیتا کہ آپ اُسے سیاستدان بنائیں کیونکہ ’’مکار‘‘ …

اصل میں میں کہنا چاہ رہا تھا کہ آجکل ’’مکار‘‘ ہونا ضروری نہیں ’’پیسے والا‘‘ ہونا ضروری ہے سیاستدان بننے کے لیے …

سرکار میرا بھائی بھی ہے اور وہ نہ تو مکار ہے نہ ہی پیسے والا … ’’محبت والا‘‘ ہے میری طرح …!!

شاہ جی شاید سن رہے تھے آ دھمکے …

’’اوہ سر گل مکائو‘‘ … تین دن سے بھٹی اپنے پیٹ کا وزن ہلکا کرنا چاہ رہا ہے … کہیں بجلی بند ہو جاتی ہے … کبھی چائے آپ کے کپڑوں پہ گر جاتی ہے اور کبھی بھٹی کا فیوز اڑ جاتا ہے … اصل میں مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب کے بھائی نے پچھلے الیکشن میں چیئرمین کا الیکشن لڑا تھا اور وہ آپ کو بتانا چاہتا تھا کہ میرا ایک سیاسی گھرانے سے تعلق ہے … اور بس …!!

شاہ جی نے ایک فقرے میں ساری بات کی … اکیلے کافی پینے پر اپنا غصہ نکالا اور یہ جا وہ جاء … میں نے دیکھا کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا … نہ شاہد جاوید عرف شاہ جی نہ ہی مدثر عنائت عرف بھٹی صاحب…؟؟؟

مجھے پھر سے بھٹی کی وہ بات یاد آ گئی …

’’ہمارے گائوں میں بڑا درخت ہے جس پر سنا ہے جنات بیٹھ کے ’’لُڈّو‘‘ کھیلتے ہیں …؟؟‘‘


ای پیپر