نیک گرو
19 جولائی 2019 2019-07-19

شہر کی مضافاتی بستی کا وہ ایک عجیب و غریب خواجہ سرا تھا۔ عام خواجہ سراؤں سے بالکل مختلف بلکہ عام لوگوں میں بھی مختلف۔۔ دراز قامت، خوش شکل یہ ادھیڑ عمر خواجہ سرا اس بستی کا ایک چلتا پھرتا کردار تھا۔ وہ جہاں کہیں سے گزرتا قریب سے گزرنے والوں اور دکانوں اور تھڑوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نہایت ادب سے سلام کرتا۔ سکول جانے والے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر ڈھیروں دعائیں دیتا لیکن آنے جانے والی بچیوں کو صرف ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیتا ہوا گزر جاتا تھا۔ اس نے کبھی کسی بچی کے سر کو نہیں چھوا تھا۔ بستی کی عورتوں کو وہ ماں جی اور بہن جی کہہ کر سلام کرتا مگر کبھی ان کے پاس رکتا نہیں تھا۔ اس کے منہ سے نکلنے والے ہر جملے میں دعا ہوتی یا خوف خدا کی جھلک۔ وہ اس بستی کا رہنے والا نہیں تھا اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے مگر اپنی 45 سالہ زندگی کے ابتدائی چار پانچ سالوں کے علاوہ باقی زندگی اس نے اسی بستی میں گزاری تھی۔ البتہ سال چھ ماہ کے بعد وہ اچانک چند دن کے لیے غائب ہو جاتا مگر کہاں کسی کو علم نہیں تھا۔ واپسی پر لوگ اس سے پوچھتے تو وہ ٹال جاتا… وہ کرایے کی ایک کھولی میں اپنے سازندوں اور ایک دو دوسرے خواجہ سراؤں کے ساتھ رہتا تھا۔ شاید وہ اس پارٹی کا ہیڈ یا گرو تھا۔ صبح نو دس بجے تیار ہو کر سازندوں کے ہمراہ نکلتا ۔ شادی بیاہ اوربچوں کی پیدائش والے گھروں پر جا کر روایتی انداز میں ڈھول بجاتا۔ سازندوں کے ہمراہ ناچ گانا کرتا اور وہاں سے جو کچھ ملتا وہ لے کر دعائیں دیتا ہوا چلا جاتا۔ اسے کبھی کسی نے کم ’’ودھائی‘‘ دینے پر جھگڑا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ دوپہر تک اپنا یہ کام مکمل کر کے وہ سبزی گوشت خرید کر واپس اپنی کھولی میں چلا جاتا۔ شام کا بیشتر وقت وہ بستی کے چھوٹے سے بازار میں کسی دکان پر بیٹھ کر گزارتا۔ آنے جانے والوں کو دعائیں دیتا اور عشاء کے قریب واپس اپنی کھولی میں چلا جاتا۔ کبھی کبھار کسی دوسری بستی کا کوئی خواجہ سرا آجاتا تووہ جلدی جلدی اسے چائے پلا کر رخصت کر دیتا۔ وہ کبھی کسی جنازے میں شریک ہوتا نہ میت والے گھر جاتا۔ البتہ اگلے روز غمزدہ خاندان کے پاس تعزیت کے لیے ضرور جاتا۔

چوہدری نامی اس خواجہ سرا کا اس بستی میں سب سے برا دن وہ تھا جب بھرے بازار میں ایک نوجوان سونار نے اسے روک کر اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ چوہدری نے اس کی منت سماجت کی کہ وہ ایک ایک پائی ادا کر دے گا بس اسے کچھ وقت دے دیا جائے لیکن سونارہر صورت میںفوری رقم دینے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ چوہدری اسے جتنا آہستہ بولنے کے لیے کہتا وہ اتنا ہی شور کررہا تھا۔ اس شور شرابے میں قریبی دکاندار اور راہگیر اکھٹے ہوگئے سب کو اس کی بے بسی پر ترس آ رہا تھا۔ سونار کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا نے اس سے کچھ زیور بنوایا تھا جس کی مالیت ہزاروں روپے ہے ،طے شدہ وقت گزرے بھی چھ ماہ ہو چکے ہیںمگر اس نے ادائیگی نہیں کی۔ خواجہ سرا کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ ہاتھ جوڑے بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔ اور سونار مزید وقت دینے کو تیار نہیں تھا۔ آخر کار بازا رکے ایک بزرگ دکاندار بیچ میں پڑے۔ انہوں نے نوجوان سونار کو اپنے پاس سے ادائیگی کر نے کی یقین دہانی کرا دی جبکہ خواجہ سرا چھ ماہ میں آہستہ آہستہ تمام رقم اس بزرگ دکاندار کو ادا کرنے کا وعدہ کر کے ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گیا۔ اگلے کئی دن وہ نہ بازار میں آیا اور نہ اپنے ناچ گانے کے کام پر نکلا۔ چند دن کے بعد وہ اپنے کام پر اداسی اور تبدیلی کے ساتھ نکلا۔ اب وہ جہاں کہیں گانا گاتا پہلے کی طرح ملنے والے پیسوں پر اکتفا نہ کرتا بلکہ مزید کا مطالبہ کرتا۔ اس نے بازار میں بیٹھنا بھی بند کر دیا تھا۔ مقررہ چھ ماہ سے بھی پہلے اس نے تمام رقم بزرگ دکاندار کو ادا کر دی۔

جس روز ساری رقم ادا ہو گئی اس سے اگلے ہی روز ایک نوبیاہتا خاتون کچھ زیور لے کر اسی سونار کے پاس آئی۔ وہ اپنے کنگن بیچنا چاہتی تھی تا کہ اس کا شوہر روزگار کے لیے بیرون ملک جا سکے۔ سونار نے کنگن دیکھے تو خاتون سے کہا کہ یہ کنگن تو ہمارے ہاں کے بنے ہوئے ہیں مگر تم نے تو یہ نہیں بنوائے تھے۔تمہارے پاس کہاں سے آئے شاید سونار کو شک ہو گیا تھا کہ خاتون کسی کے کنگن چراکر لے آئی ہے ۔ خاتون نے بتایا کہ وہ یتیم ہے چند ماہ قبل ہی اس کی شادی ہوئی ہے اس کی شادی پر یہ زیور خواجہ سرا چوہدری نے بنوا کر اس کی ماں کو اس شرط کے ساتھ دیا تھا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کیا جائے اور شاید یہ زیور اس نے ادھار پر بنوایا تھا۔ اب وہ مجبوری میں یہ بات بتا رہی ہے۔ جس وقت خاتون اور سونارکے درمیان یہ مکالمہ ہو رہا تھا اور سوناراپنی چھ ماہ پہلے کی زیادتی پر دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہا تھا اتفاقاً دکان کے سامنے سے وہی خواجہ سرا گزرا۔ سونارنے اسے آواز دے کر بلایا چوہدری نے سامنے بیٹھی خاتون کو پہچان کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ شاید زندگی میں پہلی بار اس نے ایسا کیا تھا۔ سونارنے ساری بات بتاتے ہوئے اس سے معذرت کی مگر وہ کچھ کہے بغیر خاموشی سے چلا گیا۔ وہ وہاں سے سیدھا اس خاتون کی ماں کے پاس پہنچا اور اس کی اچھی بھلی بے عزتی کی کہ اس نے یہ راز بچی کو اور بچی نے سنیارے کو کیوں بتایا۔ وہ زارو قطار رو رہا تھا اور غصے میں سخت ترین جملے بول رہا تھا۔ اسی حالت میں وہ اپنی کھولی میں آ گیا۔ پورا ہفتہ وہ کھولی سے باہر نہ نکلا کہ اسے سخت بخار نے آ لیا تھا۔ ہفتہ بھر بعد بخار اترا تو چوہدری کسی کو بتائے بغیر بستی سے جا چکا تھا اور پھر کبھی بستی والوں نے اسے نہیں دیکھا۔

گئے دنوں کا سراغ لے کر کہاں سے آیا کدھر گیا وہ

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھ کو حیران کر گیا وہ


ای پیپر