جھوٹی گواہی کو اب کسی صورت برداشت نہیں کرینگے:چیف جسٹس
19 جولائی 2019 (18:05) 2019-07-19

کراچی :چیف جسٹس نے جھوٹی گواہی دینے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا لوگ حلف اٹھانے کے باوجود عدالت میں جھوٹی گواہی دیتے ہیں ، جھوٹی گواہی کو اب کسی صورت برداشت نہیں کرینگے ،اسلامی نظام عدل میں جھوٹے کی گواہی دوسری بار قبول نہیں کی جاتی لہذا انصاف پر مبنی معاشرے کیلئے جھوٹی گواہی کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاخیری حربوں پر قابو پانے کے لیے 3 اہم فیصلے کیے ہیں، پہلے ایک کیس میں تمام شہادتوں کو نمٹایا جائے گا، اب مقدمات میں التوا نہیں دیا جائے گا جب کہ ایک کیس میں فیصلہ دیے بغیر دوسرے کیس میں فیصلہ نہیں دیا جائے گا، ہر ضلع میں ایک ماڈل کورٹ قائم کر رہے ہیں جب کہ 17 اضلاع میں ماڈل کورٹس کے باعث قتل کا کوئی کیس زیرالتوا نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے تفتیشی عمل کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، تفتیشی افسران کو پتا ہونا چاہے کہ عدالت میں استغاثہ کیس کیسے ثابت ہوتا ہے، صرف پولیس کے سامنے اقرار جرم کافی نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجداری نظام میں 2 بڑے نقائص ہیں جب کہ پولیس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔


ای پیپر