الیکشن اور کرپشن!
19 جولائی 2018 2018-07-19

قارئین آپ شاید جانتے ہیں میں اِن دنوں کنیڈا اور امریکہ کے مختلف شہروں میں ” سینڈ وچ“ بنا ہوا ہوں۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں مختلف ممالک میں خصوصاً کینیڈا اور امریکہ میں مقیم اپنے بے شمار دوستوں اور عزیزوں کے پر زور اصرار پر مجھے بیرون ملک جانا پڑتا ہے۔ اِس بار الیکشن کی وجہ سے میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ مگر کینیڈا میں مقیم میرے سسرالی عزیزوں اور امریکہ میں مقیم میرے کچھ دوستوں، بھائیوں خصوصاً سن فرانسکو میں مقیم میری کزن فیملی ، خواجہ صلاح الدین ، خواجہ وقاص، خواجہ یاسر اور خواجہ وقار اور جرمن ٹاﺅن میری لینڈ میں بیٹے سے بڑھ کر عزیز میرے داماد نجیب چودھری اور اُن کے والد محترم حاجی محمد اکرم صاحب نے اتنا مجبور کیا، نہ چاہتے ہوئے بھی رختِ سفر باندھنا پڑا۔ میرا بس چلتا میں الیکشن آگے کروا دیتا۔ تا کہ میرے ایک ” قیمتی ووٹ “ کا نقصان پاکستان کو نہ اٹھانا پڑتا۔ اب اگر پاکستان میں سابق بددیانت اور نااہل سیاستدانوں کی دو بارہ حکومت آگئی جس کے چانسز بہت کم ہیں تو مجھے اپنے ووٹ نہ ڈالنے کا زرا افسوس نہیں ہوگا۔ بلکہ میں فخر سے کہہ سکوں گا میں نے اُس الیکشن میں ووٹ ہی نہیں ڈالا جس کے نتیجے میں بددیانت اور نکمے سیاستدان ایک بار پھر اقتدار میں آگئے ہیں۔ البتہ اگر 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں بددیانت اور نااہل سیاستدانوں سے نجات حاصل ہوگئی اسی صورت میں افسوس رہے گا کہ ایسے انتخابات میں ، میں ووٹ نہیں ڈال سکا جو ملک میں تبدیلی کا باعث بنے.... اور میری یہ دعا ہے اب کے بار اِس المیے سے ایک بار پھر ہمیں دو چار نہ ہونا پڑ جائے کہ جانے والے حکمران پر لحاظ سے ہمیں نکمے نااہل اور بددیانت دِکھائی دیتے ہیں مگر آنے والے حکمران اُن سے بھی زیادہ نکمے اور بددیانت ثابت ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بعض اوقات جانے والے، آنے والوں کے معاملے میں ” فرشتے “ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ جیسے زرداری ہمیں دنیا کا ہر لحاظ سے بدترین حکمران محسوس ہونے لگا تھا۔ مگر شریف برادران کے اقتدار میں آنے کے بعد ہم اُس کی خرابیوں کو بھول گئے۔ عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے اُس نے کئی برسوں سے صِرف اور صرف اپنے ذاتی و مالی مفادات کا تحفظ کرنے والے سیاستدانوں سے بہت حد تک عوام کو نجات دلا دی۔ زرداری پارٹی کو ایک صوبے تک محدود کر دیا اور نام نہاد شریف پارٹی عرف نون لیگ اب شاید ایک صوبے تک بھی نہ رہے۔ مجھے نہیں پتہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟۔ مگر کروڑوں پاکستانیوں خصوصاً بیرون ملک مقیم سینکڑوں پاکستانیوں کی طرح میری خواہش اور دعا بھی ہے ایک ایسے شخص کو وزیر اعظم ضرور بننا چاہئے جس پر کم از کم مالی کرپشن کا ایک داغ بھی نہیں ہے۔ اُس پر مختلف الزامات لگائے جاتے ہیں۔ کچھ الزامات میں تھوڑی بہت حقیقت بھی ہوگی۔ مگر اُس کے بدترین دشمن بھی پورے وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتے کسی بھی حوالے سے قومی خزانے کو اُس نے نقصان پہنچایا ہو۔ یا مال بنانے کا وہ رسیا ہے۔ مجھے یاد ہے 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے ایک امیدوار اپنے حلقے میں ایک ”جلسی“ سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے ” اِس بار پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے ایک امیدواروں کو اِس لئے ووٹ دیں کہ گذشتہ پانچ برسوں سے مال کھا کھا کر ہمارے پیٹ اتنے بھر چکے ہیں کہ اب مزید مال کھانے کی یا لوٹ مار وغیرہ کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں بچی۔ نہ تمنا باقی ہے۔ جبکہ نون لیگ کے امیدواروں کو آپ نے ووٹ دیئے تو اُس کا نقصان یہ ہوگا وہ کئی برسوں سے بھوکے ہیں۔ یعنی وہ کئی برسوں سے اقتدار سے باہر ہیں۔ انہوں نے پچھلے کئی برسوں کی کسر نکال دینی ہے اور تھوڑا بہت جو ہمارے پاپی پیٹوں میں جانے سے بچ گیا ہے وہ بھی نہیں بچے گا۔ جس کے نتجے میں ملک اور عوام کا کباڑہ ہو جائے گا۔ اور ایسے ہی ہوا۔ پانامہ لیکس کیس سامنے نہ آتا ہم اِس یقین میں مبتلا رہتے کہ اِس ملک میں لوٹ مار صرف زرداری نے کی ہے یا سب سے زیادہ اُس نے کی ہے۔ ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا اِن دونوں جماعتوں کو اپنے اپنے گناہوں اور جرموں کے حساب دینا پڑیں گے۔ یہ کریڈٹ میڈیا اور عمران خان کو جاتا ہے آج دونوں جماعتیں عوام اور مختلف اداروں کے کٹہروں میں کھڑی ہیں۔ پیپلز پارٹی سوائے سندھ کے چند شہروں کے اور کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ بھٹو کا داماد بھٹو کی پارٹی کا یہ حشر کر دے گا کِسی نے تصور تک نہیں کیا تھا۔ ؟؟؟ ملک معراج خالد کے جو اکثر فرمایا کرتے تھے ” جنرل ضیاءالحق ایڑی چوٹی کا پورا زور لگا کر بھی بھٹو کی پارٹی ختم نہ کر سکا۔ یہ کام بھٹو کا داماد ایڑی چوٹی کا زور لگائے بغیر کر دے گا۔“ واحد جماعت پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہوا کرتی تھی۔ بے نظیر بھٹو کو

چاروں صوبوں کی زنجیر کہا اور سمجھا جاتا تھا۔ اب حالت یہ ہے پورے پانچ برس وفاق اور دس برس سندھ میں اقتدار میں رہنے کے بعد بھی زرداری اور اُس کے صاحبزادے کے پاس اب کے بار پھر سوائے بھٹو اور بی بی کا لہو بیچنے کے کچھ نہیں۔ یہ لہو جتنا بکنا تھا بک گیا۔ سو مجھے یقین ہے اب کے بار سندھ بھی شاید اِس پارٹی کے ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔ عوامی طور پر اُس کا احتساب کچھ ہوگیا کچھ ہو جائے گا اور ادارے اگر اِسی طرح فعال رہے جیسے وہ شریف برادران کے حوالے سے ہیں تو اُمید ہے قومی طور پر بھی اُن کا احتساب ہو جائے گا جو کہ بہر حال میں ہونا چاہئے، بلکہ جِس جس نے لوٹ مار کی ہے، جس جس نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے خواہ اُس کا تعلق کسی بھی شعبے کسی بھی ادارے سے ہے سب کا احتساب ہونا چاہئے ورنہ شریف برادران نے مظلومیت کی جو فلم ایک بار پھر چلوائی ہے ایک بار پھر کامیاب ہو جائے گا.... اب 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں اصل مقابلہ تحریک انصاف اور نون لیگ کے درمیان ہے۔ نون لیگ کے اُمید واروں کو بھی چاہئے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی طرح وہ بھی عوام سے اِس ” اپیل “ کے تحت ووٹ مانگیں کہ ہم نے جتنی لوٹ مار کرنی تھی کر لی۔ ہمارے ” پاپی پیٹ “ اب بھر ے ہوئے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کے اُمیدواروں کے ” پیٹ “ ابھی خالی ہیں لہٰذا ملک کو مزید لوٹ مار سے بچانے کے لئے ہمیں ووٹ دیں“۔ تحریک انصاف کے امیدواروں کا تو پتہ نہیں پارٹی کے دیانت دار سربراہ کی یا وزیر اعطم کی موجودگی میں لوٹ مار کر سکتے ہیں یا نہیں مگر نو ن لیگ کے اُمیدوار 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر کامیاب ہوگئے مجھے یقین ہے اِس کے باوجود کہ اپنے قائد کا حشر وہ دیکھ چکے ہیں لوٹ مار سے باز نہیں آئیں گے کیونکہ کرپشن اُن کے لہو میں رچ بس گئی ہے۔ اِس کے بغیر ایک اچھی اور کامیاب زندگی کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں جب تک کرپشن کی سزا موت نہیں ہوتی اور اِس سزا پر عمل درآمد نہیں ہوتا کرپشن ہوتی رہے گی۔ جِس کے نتیجے میں ملک کی بنیادیں اُسی طرح کھوکھلی ہوتی رہیں گی۔ جس طرح گزشتہ کئی برسوں سے ہوتی چلی آرہی ہیں۔ عمران خان کرپشن کے حوالے سے روزانہ کِسی نہ کسی سیاستدان کی کوئی کوئی نئی کہانی ہمیں سنا رہا ہوتا ہے۔ اُس کے نزدیک کرپشن شاید جھوٹ، منافقت ، زنا، قتل اور دیگر بدکاریوں سے بڑا جرم ہے۔ اُسے اگر اقتدار ملا اور کرپشن کے خاتمے کے لئے عملی طور پر کوئی اقدامات اُس نے نہ کئے تو یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے جو کرپٹ قوتیں اقتدار کے لئے اُس کی راہ ہموار کر رہی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کرپشن پسند عوام جو اُسے اقتدار میں لے کر آرہے ہیں۔ وہ اُسے کچھ کرنے بھی دیتے یا نہیں ؟؟؟


ای پیپر