وطن کی فکر کر ناداں۔۔۔۔
19 جولائی 2018 2018-07-19

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا
مرزا غالب کا یہ شعر ہمارے ایک استاد کا پسندیدہ شعر ہوا کرتا تھا اور وہ اکثر کلاس کے دوران اپنے لیکچر میں استعمال کرتے ‘ آج انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) ‘ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہان گرمئی تقریر اور جذبات سے ہمیں اپنے حق میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔بدقسمتی ملاحظہ فرمائیے کہ محمد خان جونیجو مرحوم کے بعد جس طرح کی طرز سیاست اختیار کی گئی‘ جمہور کی فلاح اور معیار زندگی بلند کرنے کا مقصد کہیں گم ہو گیا اور صرف اپنی اور اہل و عیال کی زندگی بہتر بنانے پر ساری توانائیاں خرچ کی گئیں‘ نتیجہ آپ کے سامنے ہے ‘ محترمہ بے نظیر بھٹو ‘ نواز شریف بدعنوان اور کرپٹ قرار پائے۔2002ءکی اسمبلی کو یہ مانتے نہیں2008ءکی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگے یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے مرتکب قرار پائے لیکن وہ اور راجہ پرویز اشرف آج بھی نیب کے ملزم کے طور پر عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔2013ءکے انتخاب کے بعد جو حکومت بنی اس کے وزیراعظم کو جھوٹا اور بددیانت قرار دے کر گھر بھیجا گیا جبکہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف بھی ایل این جی ‘ اس کے ٹرمینل سمیت آخری دنوں کے فیصلوں پر نہ صرف انگلیاں اٹھائی جا رہی ہے بلکہ کہیں تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا بلکہ بہت وقت اور کوشش کے بعد ہم نے سیاست کا بیڑا غرق کیا ہے۔ قابل اجمیری نے کہا تھا
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
المیہ یہ نہیں کہ میرے ماضی کے حکمرانوں کا طرز حکومت اور سیاست ناقابل رشک تھا‘ المیہ یہ ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں جو جماعتیں اور ان کے ممکنہ وزیراعظم کے امیدواران سامنے آئے ہیں ان پر ذرا ایک نظر ڈالیے‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جیت کی صورت میں میاں شہباز شریف ممکنہ وزیراعظم ہو سکتے ہیںلیکن جعلی پولیس مقابلے اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا داغ ابھی ان کے دامن سے دھلا نہیں تھا کہ پنجاب کی 56کمپنیوں میں بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آئے اور اب نیب ان الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے احدچیمہ اور فواد حسن فواد کے انکشافات کیا قیامت ڈھائیں گے ابھی اس بات کو ہم شامل نہیں کر رہے لیکن ان کے داماد پر بھی الزامات موجود ہیں جو ان کی شہرت کو مزید چار چاند لگائیں گے۔دوسری جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔بلاول بھٹو زرداری خود کہہ چکے ہیں کہ ان کی نظر میں وزیراعظم کے لئے ان کے ممکنہ موزوںامیدوار آصف علی زرداری ہو سکتے ہیں۔ آپ آصف علی زرداری پر الزامات ثابت ہونے یا نہ ہونے کو ایک طرف رکھیے لیکن مسٹر ٹین پرسینٹ سے لے کر سینٹ پرسینٹ اور سرے محل کے الزامات اور سوئس اکاﺅنٹس کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے جسے شاید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔تیسرے امیدوار تحریک انصاف کے عمران خان ہیں جن کی سابقہ بیوی اور ناقدین کے بقول وہ ایک منشیات کے عادی اور جنسی تلذز کے مارے ہوئے شخص ہیں جن کی زندگی میں استحکام نام کونہیں ہے ان کا مثبت پہلو یہ ضرور ہے کہ ان پر حکومتی خزانہ لوٹنے کے الزامات نہیں ہیں لیکن مالی نہ سہی ان پر اخلاقی کرپشن کے ڈھیر سارے الزامات ہیں ‘ جن سے صرف نظر کرنے سے دیگر اہم جواب طلب سوال سامنے آئیں گے ۔
میرا آپ سب سے ایک سوال ہے کہ کیا 22کروڑ کی اس آبادی میں اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کا نظام چلانے کے لئے ہمارے پاس کوئی ایک شخص بھی صاف شفاف یا سکینڈل سے پاک نہیں ہے؟
لگے ہاتھوں جنرل (ر) پرویز مشرف کا بھی ذکر کرتے چلیں وہ بھی اس دوران دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کی سربراہی کرتے رہے ہیں‘ نیب میں آمدن سے بڑھ کر اثاثے قائم کرنے کا معاملہ ایک طرف انہیں آئین سے انحراف اور غداری کے مقدمہ کا سامنا بھی ہے اور بطور حکمران ان کے فیصلے وقت نے درست ثابت نہیں کئے۔85ءکے بعد سے یہ سارے وہ کردار ہیں جنہوں نے ہم پر حکمرانی کی اور صرف اپنی آل اولاد کے لئے جہنم کی آگ جمع کرتے رہے‘ ایسے میں دوست مجھ پر مایوسی پھیلانے کاالزام لگاتے ہیں‘ مجھے بتائیں کہ میں امید کی وہ کرن کہاں سے دکھاﺅں جو خود مجھے نظر نہیں آرہی؟
حالات ہیں کہ سنگین تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچنے میں لگے ہوئے ہیں گذشتہ کالم میں اشارتاً کچھ بات کی تھی آج تھوڑی تفصیل عرض کرتا ہوں کہ سی پیک اور چین کی جانب جھکاﺅ کی وجہ سے فی الحال دنیا کی اکلوتی سپر پاورہمارے در پے ہے اور امریکاکی ہر ممکن کوشش ہے کہ چین کی ترقی اور سی پیک کی تعمیر کا راستہ رو کاجائے اس سارے معاملے میں پاکستان کی کلیدی اہمیت ہے ہمارے اداروں اور سابق حکمرانوں کو ان سازشوں کا علم ہے جن کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کاشکار کرنے اور خدانخواستہ توڑنے کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے ۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار جن خطرات کی بات کرتے رہے یہ وہی بات ہے اگلے تین سال کے لئے خطے میں صورتحال اتنی سنگین ہے کہ امریکہ کے لیے پاکستان کو شدید مشکلات کا شکار کر کے نیچے گرانے اور خدانخواستہ توڑنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں وہ ہر صورت پاکستان کے در پے ہے اور اس لیے روس کو بھی چین سے دور کرنے کے حوالے سے کئی اقدامات کررہا ہے اسی طرح جاپان اور بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کو اکٹھا کیا گیا ہے جبکہ آگے چل کر افغانستان کو بھی استعمال کی جائیگا۔ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدہ ختم کرنے کا مقصد بھی بازو مروڑ کر پاکستان کے خلاف ماحول تیار کرنا ہے انتخابات میں دہشتگردی کے لئے افغانستان اور دیگر ممالک کی سرزمین استعمال کی جائےگی ۔ان حالات کے بارے میں اعلیٰ عسکری قیادت کے علاوہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی علم تھا اس لیے سول بالادستی کے معاملے کو زیادہ زور سے اچھا لاگیا کہ شایدان حالات میںمیاں نوازشریف اپنے خلاف کسی کارروائی کی امید نہیں کررہے تھے دوسری جانب جب معلومات یہ حاصل ہوں کہ سی پیک کے تحت قائم ہونے والے منصوبوں کے لےے کاغذی کمپنیاں تیار کر کے دیگر فرضی ناموں کے ساتھ ٹھیکے حاصل کر کے خود کے لئے لمبے مال بنانے کے منصوبے بنائے گئے ہیں تو شاید پھر وہ دبی ہوئی فائلیں اور رکے ہوئے معاملات تیزی سے چلتے ہوئے محسوس ہوئے جو کسی بھی مذہب معاشرے میں معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں ، مسلم لیگ (ن) سے (ق )اور (ق) سے (ن ) کی واپسی طے کرنے والے ایک بڑے پڑھے لکھے سمجھدار اچھی شہرت کے حامل سیاستدان اگر سی پیک کے نام پرچار چار تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں تو آپ سوچیئے کہ لال نشان کو عبور کےے ہوئے ہمیں کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟بہت سارے دوستوں کو میاں نوازشریف کے خلاف کارروائی کی ٹائمننگ پر اعتراض ہے لیکن اور چارہ بھی کیا تھا َ؟
ہوس مال اور ہوس اقتدار سے آگے ہم سب کچھ سوچنے کو تیار نہیں ، نریندر مودی کے ساتھ امریکا ، افغانستان کی قربت تو سمجھ آتی ہے لیکن مجھ جیسے ملیچھ کی دوستی کا باعث کیا ہو سکتا ہے ؟ امریکا اور بھارت ہمارے ٹکڑے کرنے پر تلے ہوئے ہیں الائنمنٹ ہو رہی ہے بلکہ ہو چکی ہے اس پر بات کرنے کی بجائے ہم گدے اور واش روم میں پھنسے ہوئے ہیں !
عمران کی ممکنہ کابینہ کے ناموں کی چھان بین ہو رہی ہے ، ایسے حالات میں آپ مبارک باد دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟
وطن کی فکر کر ناداںمصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں


ای پیپر